کوئٹہ: اقوام متحدہ کے مغوی اہلکار کی ویڈیو جاری
مصنف : zainzf :: بتاریخ 14 Feb 2009
بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نے کوئٹہ سے یو این ایچ سی آر کے اغواء ہونے والے سربراہ جان سولیکی کی ویڈیو اور تصاویر کے ساتھ اپنا پیغام اور لاپتہ بلوچ خواتین کی فہرست کوئٹہ میںمیڈیا کے دفاتر کو ایک لفافے میں بند کرکے ارسال کی ہے۔

۔خط میں کہا گیا ہے کہ’’ ہم اس خط کے ذریعے مسٹر جان سولیکی کی تصاویر اور ان کا پیغام اور اپنی گرفتار شدہ41خواتین کی لسٹ ارسال کر ر ہے ہیں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ ہمارے ارسال کردہ لسٹ اور مسٹر جان سولیکی کی تصاویر و پیغام جوکہ موبائل کے میموری کارڈ میں موجود ہے انہیں اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کو آج ہی پہنچائیں اور اس کے علاوہ اخبارات کے ذریعے ہماری جانب سے انہیں ہماری خواتین کو 72گھنٹوں کے اندر رہائی کا الٹی میٹم دے دیں اور عنقریب ہم اپنے غائب شدہ مرد حضرات کی لسٹ جن کے بارے میں ہمارے پاس معلومات ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں بھی ہم جلد ارسال کریں گے جنہیں منظر عام پر جلد لائیں کیونکہ اگر ہمارے مذکورہ مطالبات جلد پورے نہیں ہوئے تو ہم مسٹرجان سولیکی کو قتل کردیں گے۔‘‘
ویڈیو میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ و مغوی جان سولیکی نے اقوام متحدہ کے نام جاری کردہ پیغام میں کہا کہ ’’میں اچھا محسوس نہیں کر رہا ہوں میری طبیعت خراب ہے لہذا میری رہائی کیلئے فوری اقدامات کرتے ہوئے اغواء کنندگان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں ‘‘

مغوی جان سولیکی کا مختصر ویڈیو پیغام بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نامی نئی بلوچ تنظیم نے جاری کیا ہے ویڈیو پیغام میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ کی آنکھوں پر سفید پٹی باندھ رکھی گئی تھی واضح رہے کہ پیر دو فروری2009ء بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میںاقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے سربراہ جان سولیکی کو نامعلوم افراد نے چمن ہائوسنگ سکیم کے علاقے سے اغواء کیا تھا۔ اس واقعہ کی ذمہ داری لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ قبول کرتے ہوئے 141خواتین کی رہائی 6000لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ قومی مسئلے کا جنیوا کنونشن کے مطابق حل جیسے تین اہم مطالبات رکھے ہیں۔
بلوچستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ۔ بلوچ مسلح عسکریت پسند تنظمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور غیر مقامی افراد کو تو بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنارہے تھے تاہم ان کی جانب سے کسی بین الاقوامی ادارے کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے۔
زمرہ : حالات حاضرہ | 5 تبصرے »