زین الدین

کوئٹہ: اقوام متحدہ کے مغوی اہلکار کی ویڈیو جاری

مصنف : zainzf :: بتاریخ 14 Feb 2009

بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نے کوئٹہ سے یو این ایچ سی آر کے اغواء ہونے والے سربراہ جان سولیکی کی ویڈیو اور تصاویر کے ساتھ اپنا پیغام اور لاپتہ بلوچ خواتین کی فہرست کوئٹہ میں‌میڈیا کے دفاتر کو ایک لفافے میں بند کرکے ارسال کی ہے۔

ویڈیو میں‌ مغوی جان سولیکی کو دکھاتے ہوئے

۔خط میں کہا گیا ہے کہ’’ ہم اس خط کے ذریعے مسٹر جان سولیکی کی تصاویر اور ان کا پیغام اور اپنی گرفتار شدہ41خواتین کی لسٹ ارسال کر ر ہے ہیں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ ہمارے ارسال کردہ لسٹ اور مسٹر جان سولیکی کی تصاویر و پیغام جوکہ موبائل کے میموری کارڈ میں موجود ہے انہیں اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کو آج ہی پہنچائیں اور اس کے علاوہ اخبارات کے ذریعے ہماری جانب سے انہیں ہماری خواتین کو 72گھنٹوں کے اندر رہائی کا الٹی میٹم دے دیں اور عنقریب ہم اپنے غائب شدہ مرد حضرات کی لسٹ جن کے بارے میں ہمارے پاس معلومات ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں بھی ہم جلد ارسال کریں گے جنہیں منظر عام پر جلد لائیں کیونکہ اگر ہمارے مذکورہ مطالبات جلد پورے نہیں ہوئے تو ہم مسٹرجان سولیکی کو قتل کردیں گے۔‘‘

ویڈیو میں‌ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ و مغوی جان سولیکی نے اقوام متحدہ کے نام جاری کردہ پیغام میں کہا کہ ’’میں اچھا محسوس نہیں کر رہا ہوں میری طبیعت خراب ہے لہذا میری رہائی کیلئے فوری اقدامات کرتے ہوئے اغواء کنندگان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں ‘‘

Jhon Solecki (File Photo)

مغوی جان سولیکی کا مختصر ویڈیو پیغام بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نامی نئی بلوچ تنظیم نے جاری کیا ہے ویڈیو پیغام میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ کی آنکھوں پر سفید پٹی باندھ رکھی گئی تھی واضح رہے کہ پیر دو فروری2009ء بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں‌اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے سربراہ جان سولیکی کو نامعلوم افراد نے چمن ہائوسنگ سکیم کے علاقے سے اغواء کیا تھا۔ اس واقعہ کی ذمہ داری لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ قبول کرتے ہوئے 141خواتین کی رہائی 6000لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ قومی مسئلے کا جنیوا کنونشن کے مطابق حل جیسے تین اہم مطالبات رکھے ہیں۔

بلوچستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ۔ بلوچ مسلح عسکریت پسند تنظمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور غیر مقامی افراد کو تو بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنارہے تھے تاہم ان کی جانب سے کسی بین الاقوامی ادارے کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے۔

زمرہ : حالات حاضرہ | 5 تبصرے »

سوات کے بعد بلوچستان؟؟؟

مصنف : zainzf :: بتاریخ 08 Feb 2009

جلال نورزئی
گزشتہ پیر (دو فروری2009ء ) بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کوئٹہ آفس کے سربراہ جان سولیکی کو نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا۔ اس دوران ملزمان کی فائرنگ سے ان کا ڈرائیور سید ہاشم رضاجاں بحق ہوا۔

یو این ایچ سی آر بلوچستان کے سربراہ جان سولیکی  کی فائل فوٹو

جان سولیکی امریکی شہری ہیں اور کوئٹہ میں دو سال سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ واقعہ کے روز جان سولیکی چمن ہائوسنگ اسکیم میں واقع اپنی رہائشگاہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع اپنے د فتر جارہے تھے کہ انہیں منصوبہ بندی کے تحت اٹھالیا گیا۔ یوں تو وطن عزیز پاکستان اس وقت سخت آزمائش سے دو چار ہیں بلخصوص قبائلی علاقوں اور سوات میں جنگ بپاہے ،ملک کو بھاری نقصان کا سامنا ہے ، قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور نا معلوم کشت و خون کا یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ ۔ گویا اس نوعیت کے حالات اور واقعات نامانوس و انہونی نہیں ہیں۔ بلوچستان میں پہلے بھی ساحلی شہر گوادر میں تین چینی انجینئرز کو قتل کیاجاچکا ہے ۔ صنعتی شہر حب میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا جاچکا ہے تاہم جان سولیکی کا اغواء ایک انوکھا اضافہ ہے جو کہ باعث تشویش سانحہ ہے ۔ شاید ایک اور آزمائش نے ہمیں آ گھیر لیا ہے ۔

جائے وقوعہ

فی الوقت جان سولیکی کا اغواء ایک معمہ بنا ہوا ہے ۔ ہفتہ کے روز(فروری کو)ایک نئی بلوچ تنظیم (بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ) نے میڈیا کے دفاتر فون کرکے اقوام کے اہلکار کو اٹھانے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور توجیہ یہ پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ بلوچستان میں گمشدہ و گرفتار 141خواتین سمیتہزار سے زائد بلوچ افراد کو رہا کرائے اور بلوچستان کے مسئلے کو جینوا کنونشن کے تحت حل کیا جائے ۔
ٹیلیفونک تو دعویٰ تو کرلیا گیا ہے لیکن اس تنظیم کا نام اسی دن منظر عام پر آیا ہے جس دن جان سولیکی کے اغواء کا دعویٰ کیا گیا ۔اس سے قبل اس نام کی کوئی تنظیم نہ سرگرم تھی اور نہ ہی اس نام سے کسی تنظیم نے کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی کی ہے لہٰذا تنظیم کی وجود کی صحت مشکوک ہے اسی لیے فوری طور پر ان کے دعوے پر باور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دیگر سرگرم بلوچ اور معروف بلوچ مسلح مزاحمتی تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ری پبلکن آرمی نے بھی اس واقعہ سے لا علمی کا اظہار کیا ہے جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیوروغ بلوچ نے ہفتہ کے روز کوئٹہ چھائونی پر چار راکٹ داغنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کے مذکورہ نئی بلوچ تنظیم سے متعلق استفسار پر یہ کہا کہ اس تنظیم کا نہ ان کا تعلق ہے اور نہ ہی اس سے پہلے کبھی اس کا نام سنا ہے ۔ چنانچہ ا س بات کا فیصلہ تو آئندہ دنوں پر موقوف ہے کہ جان سولیکی کو کس انتقام کے تحت کس گروہ نے اغواء کر لیاہے ۔
سرِ دست ان سطور میں ہم قیاس و گمان اور معروضی حالات کی بنیاد پر تجزیے کا سہارا لے سکتے ہیں جو کہ غلط بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ بلوچستان کوجن حالات کا سامنا ہے ، حکومت سے متعلق جن رویوں کا اظہار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اس سے باآسانی یہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ جان سولیکی کا اغواء بلوچ مزاحمت کاروں کا مقصد ہی نہیں ہے چونکہ ان کے احتجاج اور مزاحمت کا دائرہ حکومت پاکستان تک محدود ہے ۔بلوچ مزاحمتی تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان نے میڈیا کے نمائندوں سے نامعلوم مقام سے ٹیلیفونک گفتگو میں جان سولیکی کے اغواء کے واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ۔ چنانچہ اب یا تو جان سولیکی کو جرائم کے کسی پیشہ ور گروہ نے اغواء کیا ہے جن کا مطالبہ ممکن ہے مال و زر کی صورت میں سامنے آئے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا بلوچستان میں اس قدر مضبوط جرائم پیشہ گروہ وجود رکھتاہے جو اس قدر اہم شخصیت پر ہاتھ ڈالیں؟۔ جس کے اغواء کے بعد پوری دنیا میں اضطراب پھیل گیا چہ میگوئیاں ہورہی ہیں اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ پاکستانی حکومتی مشینری حرکت میں آگئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شدید رد عمل کا اظہار کی اہے ۔ بہر حال ہم اس امکان کو یکسر رد بھی نہیں کرسکتے ۔ تیسرا پہلو طالبان کا ہے ۔ افغانستان میں اس وقت مزاحمت ہورہی ہے جس میں امریکہ اور افغان مجاہدین متحارب ہے ۔ یہ مزاحمت پاکستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیل گئی ہے ۔ چونکہ جان سولیکی امریکی شہری اور پھر اقوام متحدہ کے بڑے عہدے دار کے طو پور رفاعی ادارے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس تناظر میں ایک واضح نقشہ جو ذہن میں تازہ ہوتاہے وہ گزشتہ سال کے اوائل میں بلوچستان کے ضلع قلہ سیف اللہ میں پاک افغان سرحدی علاقے میں معروف طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کے چھوٹے بھائی منصور داد اللہ کے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کا ہوسکتا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جان سولیکی کے بدلے منصور داد اللہ اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے آئے کیونکہ ملا داد اللہ کی ہلاکت کے بعد ان کے حصے کی ذمہ داریاں منصور داد اللہ کو سونپ دی گئی تھی اور طالبان تحریک میں منصور داد للہ کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ حتیٰ کہ بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام کے جلسوں میں منصور داد اللہ آڈیو تقاریر سنائی جاتی تھی ۔ بہر حال تادم تحریر صورتحال غیر واضح ہے ۔

لیکن پھر بھی یہ امر پیش نظر رہے کہ بلوچستان کے شمالی علاقوں بشمول کوئٹہ میں طالبنائزیشن کا واویلا شروع کیا جاچکا ہے ۔ بعض ’’یاروں‘‘ نے اپنے مضامین میں یہاں تک لکھا ہے کہ کوئٹہ کاروباری لوگوں کو اپنے ریسٹورانوں میں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی جگہ بند کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں اس میں بطور خاص کوئٹہ کی اہم شاہراہ جناح روڈ پر واقع بیگ سنیک بار کا حوالہ دیا گیا ہے اور وہ تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جس میں یہ تحریر واضح ہے کہ خواتین کا اندر آنا منع ہے ۔ حالانکہ اس ریسٹورنٹ کا مالک اس تصور کر رد کرتا ہے ۔ اول تو ان کا کہنا ہے کہ ان کے ریسٹورنٹ میں مخصوص بالائی حصے میں تعمیراتی کام ہورہا ہے ۔ دوئم اگر ایک خاتون آتی ہے تو اس سے دس مرد گاہگ چلے جاتے ہیں لہٰذا یہ اقدام کاروباری نقطہ نظر سے بھی اٹھایا گیا ہے ۔ البتہ بیگ سنیک بار کے گرائونڈ پوریشن میں بیٹھنے کی خواتین پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ طالبان کوئی مخفی گروہ نہیں ہے ۔ اچھے ہو یا برے ، ان کے مقاصد ،ترجیحات اور اہداف واضح ہیں ۔ لہٰذا خفیہ پرچیوں یا کسی کی جانب سے ٹیلی فون کالز پر یقین کرنا قبل از وقت حماقت ہے۔
جان سولیکی کے اغواء کے ضمن میں چوتھے پہلو میں یہ عنصر بھی شامل کیا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ پاکستان کے اندر امریکہ نے اپنے اہداف پانے کا آغاز کردیا ہے ۔ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستانی حدود میں لوگوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا جاسوسی نیٹ ورک بھی دن بدن پھیل رہا ہے ۔ دنیا کو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ دراصل پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ اور پناہ گاہ ہے اور اس مبینہ دہشت گردی کے خلاف ایک لاکھ کے قریب پاکستانی افواج حالاتِ جنگ میں ہے لیکن امریکہ “Do More” کا متقاضی ہے ۔ پاکستان کو دراصل اس جنگ کا اگر کوئی صِلہ ملا ہے تو وہ یہ ہے کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔ چانچہ ہم ان سطور میں اس اندیشہ کا اظہار کرتے ہیں کہ کہیں جان سولیکی کا اغواء عالمی چال بازوں اور شاطروں کا کیا دھرا نہ ہو ۔ تاکہ پاکستان کو مزید بدنام کیا جاسکے اور اس کی رٹ ختم قرار دیا جاسکے ۔ اور یہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکے کہ اب مزید پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے عاجز آچکی ہے ۔ چنانچہ یہ کام ہم خود ہی کیوں نہ انجام دیں۔
ایسے ہی خدشات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے برطانوی خبر رساں ادارے سے انٹرویو میں کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سوات جیسے حالات پیدا کرنے کے بہانے تلاش کئے جارہے ہیں۔ مولانا واسع کے مطابق ’’ان‘‘ لوگوں کے ارادے بلوچستان کے لیے بھی خراب ہیں کیونکہ اس طرح کی کارروائیاں خود ہی کی جاتی ہیں ۔ اگر امریکہ مخالف قوتوں نے یہ کارروائی کی ہوتی تو اب تک کسی نہ کسی نے ذمہ داری قبول کرلی ہوتی۔ مولانا واسع کا کہنا ہے کہ اب کچھ دنوں بعد اس ادارے کے سربراہ کو منظر عام پر لے آئیں گے اور پھر کہیں گے کہ کامیاب مذاکرات کے بعد انہیں بازیاب کرالیا گیا ہے ‘‘۔کچھ دن قبل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کیا جہاں انہوں نے اس حوالے سے خاص ذکر کیا کہ ان کی جماعت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر پشتون علاقوں کو سوات بننے نہیں دے گی۔ معلوم نہیں کہ محمود خان اچکزئی نے یہ اشارہ کیوں کیا ؟ ان کا مطمع نظر کیا تھا۔ آیاں یہ ابہام کسی واقعے کے بعد ہوا کہ یہاں بقول سامراجی اور استعماری ٹولوں کے طالبانائزیشن کہاں پنپ رہی ہے ۔ بہر حال یہ وضاحت محمود خان اچکزئی کے ذمے ہے ۔ کہیں اگر انہیں موقع ملے تو ضرور اس حوالے سے وضاحت کریں۔ بہر حال ہم اتنا ضرور کہیں گے کہ اگر اس ملک کو مذہبی انتہاء پسندوں سے خطرہ ہے تو اتنا ہی خطرہ لبرل اور سیکولر انتہاء پسندوں سے بھی ہے جو اپنی تحریر،تجزیوں ، خیالات اور احتجاج کے ذریعے سامراج اور استعمار کے موقف اور ایجنڈے کو تقویت فراہم کررہے ہیں اور ان کے دست وبازو بنے ہوئے ہیں۔بہر کیف آتے ہیں جان سولیکی کے اغواء کی طرف ۔ اس واقعہ کے بعد تحقیقات کے لیے منگل تین فروری کو اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف سیکورٹی اینڈ سیفٹی(UNDSS)کی 9رکنی ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی ۔ ذرائع کے مطابق ٹیم نے کوئٹہ کے پولیس و دیگر سیکورٹی حکام سے ملاقات کی اور مغوی اہلکار کی بازیابی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر بریفنگ لی۔ جبکہ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی چھ رکنی ٹیم بھی اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے کوئٹہ پہنچ گئی ہے تاہم ایف بی آئی کے اہلکاروں کی آمد کسی جانب سے تصدیق شدہ نہیں ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں کی اس وقت تک کی تحقیقات اور رائے میں یہ بتایاگیا ہے کہ جان سولیکی کو کوئٹہ میں ہی رکھاگیاہے ۔ ان کے اغواء کے بعد سیکورٹی چیکنگ سخت کردی گئی ہے ۔ مختلف علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیموں کے چھاپوں میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ،اب تک کی کارروائی سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اپنی توجہ مذہبی لوگوں پر مرکوز کر رکھی ہے اور مذہبی لوگوں کو ہی جان سولیکی کے اغواء کے اشتباہ میں تفتیش کے لیے حراست میں لیا ہے ۔ سیکورٹی فورسز نے شہر کی ناکہ بندی کرلی ہے تاکہ اقوام متحدہ کے اہلکار امریکی شہری کو کوئٹہ سے باہر نہ لے جایا جاسکے۔ جان سولیکی کے بارے میں کسی بھی قسم کی اطلاع فراہم کرنے والے کو دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مختلف ادارے کوئٹہ شہر سے باہر جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کررہی ہے جس میں بسوں، کاروں ، ٹرکوں اور گاڑیوں میں سوار ہر شخص کی چیکنگ کررہی ہے ۔ گھڑ سوار پولیس شہر کے اطراف کے کچے راستوں اور پہاڑوں کے درمیان میں تعینات کیئے گئے ہیں۔ صوبے سے باہر جانے والے رستوں پر فرنٹیئر کور کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیاہے اور کہا ہے کہ اگر جان سولیکی کے اغواء کی تحقیقات کے لیے امریکی ادارے آتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جائے گا بلکہ تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔ جان سولیکی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاہم اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے اغواء میں کون لوگ ملوث ہے ۔ دریں اثناء وفاقی حکومت نے حکومت بلوچستان کو ایک خصوصی مراسلہ ارسال کیاہے اس مراسلے میں بلوچستان بھر میں غیر ملکی باشندوں کی سیکورٹی کو موثر بنانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں مراسلے میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی بلوچستان پولیس ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ بلوچستان بھر میں رہائش پذیر غیر ملکی باشندوں، این جی اواز کے دفاتر اور عملہ کی سیکورٹی کو موثر بنائے۔
بہر حال یہ تلخ حقیقت پاکستان کی حکومت سیاسی جماعتوں اور عوام النا س کے ذہن میں رہے کہ اس قسم کے واقعات کی بنیاد پر پاکستان مخالف حلقے ملک کو دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کی جنت قرار دیتے ہوئے ہمارے لیے بڑی مشکلات اور سنگین خطرات پید اکررہے ہیں ۔ شاطر اورقوتوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی بھر پور مہم شروع کر رکھی ہے ۔

زمرہ : حالات حاضرہ, سیاست, پاکستان | 5 تبصرے »

محافظ قاتل بن گئے …….

مصنف : zainzf :: بتاریخ 06 Jan 2009

سال 2008ء کے آخری دن 31 دسمبر کو کراچی کے خالد بن ولید روڈ پر چار نوجوان تاجروں کو اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور الزام یہ لگایا کہ چاروں تاجر ڈاکو تھے جنہوں نے پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں مارے گئے ۔

ایئر پورٹ پرتاجروں کے ورثاء میتیں جلوس کی شکل میں لے جارہے ہیں۔

یکم جنوری کو جب چار تاجروں کی میتیں کراچی سے بذریعہ طیارہ لائی گئیں تو کوئٹہ ایئر پورٹ سے ان کے رشتہ دار،عزیز و اقارب، سیاسی جماعتوں کے کارکن اور تاجر برادری میتوں کو لیکر جلوس کی شکل میں گورنر اور وزیراعلیٰ ہائوس پہنچ گئے جہاں انہوں نے دھرنا دیا اورنعرے بازی کی ۔ مذکورہ تاجروں کا تعلق پاک افغان سرحدی شہر چمن سے تھا ،اسی روز چمن میں بازار احتجاجاً بند ہوگیا۔بعد ازاںاگلے روز2 جنوری2009ء کوئٹہ شہر اور چمن میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی ،شہر میں کاروبار مکمل بند رہا ۔ تاجرتنظیموں اور سیاسی جماعتوں‌ نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔

بلوچستان کے پاک افغان سرحدی شہر چمن سے تعلق رکھنے والے تاجر حال ہی میں جاپان اور دبئی کے تجارتی دوروں سے واپس آئے تھے ۔پولیس نے انہیں قتل کرنے کے بعد یہ بھونڈا الزام لگایا کہ ڈاکو تھے اور پو لیس مقابلے میں مارے گئے ۔ممکن ہے کہ پولیس نے اپنے سے اسلحہ بھی بر آمد کر لیا ہو ۔ لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے ،ان نہتے شہریوں کے پاس ما سوائے اپنے استعمال کے موبائل ،ذاتی رقم اور ہا تھوں میں پہنے گھڑیوں کے اور کچھ نہ تھا۔ ان اشیاء کو بھی پولیس نے موقع پر ہی اچک لیا ۔عجیب بد بخت ڈاکو تھے جو ایک طرف تو جاپان ،دبئی اور کراچی میں لا کھوںکر وڑوں کا کاروبار کر تے تھے اور ساتھ کراچی میں چھوٹاموٹا ہاتھ بھی مارتے تھے ؟

نہ جانے اسطرح کے کتنے واقعات روز ملک کے طول وعرض میں رونما ہوتے ہوں گے ،کتنے بے گناہ موت کے بھینٹ چڑھتے ہوں گے ،کوئی پرسان حال نہیں۔ اب تو شہریوں کو قانون کے محافظوںسے بھی خطرات لاحق ہے۔ گزشتہ دنوں بھی کراچی میں پولیس کے ایسے گروہ کو پکڑا گیا جو چوری، رہزنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میںملوث تھا۔ مذکورہ چار نوجوانوں کے ورثاء نے تو کچھ شور مچایا،واویلا کیا اورپولیس کے فریب غنڈہ گردی اور دہشت گردی کا پردہ چاک کردیا مگر وہ جو گمنام ہوکر مرتے ہیں ان کی کون سنے گا ؟

مہذب معاشروں میں ان کے ریا ستی ادارے اور معاملات قا نون اور دستور کے تحت چلتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی برائے نام ہو کررہ گئی ہے ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق طاقتور حاکم ہوتا ہے ،ان کے لیے انصاف در حقیقت موجود ہوتاہے۔لیکن ایک عام آدمی اس حق سے محروم ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرکے اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔

زمرہ : حالات حاضرہ, پاکستان | 5 تبصرے »

میرا شہر

مصنف : zainzf :: بتاریخ 29 Dec 2008

کچھ میرے شہر کے بارے میں۔

حسین مگر پر فریب پہاڑوں کے درمیان اپنی بے مثال زندہ و تابندہ تاریخ کا امین کوئٹہ شہر صوبہ بلوچستان کا دارلحکومت ہے۔اس کی ایک جانب کوہ مہر دار ہے تو دوسری جانب اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ کوہ چلتن کا پہاڑی سلسلہ موجود ہے۔

کوئٹہ۔ برفباری کے دوران

صدیوں سکوت کی چادر اوڑھے وادی کوئٹہ جس کے پہاڑوں پر جنگلی زیتون، شنے اور صنوبر کے درخت ہوا کرتے۔ جس کے دامن سے چشمے پھوٹتے اور پہاڑوں سے آبشاریں گرتیں ۔قدیم کوئٹہ کی اپنی جداگانہ تہذیبی تاریخ ہے ۔

کوئٹہ میں‌ بادام،خوبانی اور آڑو کے پھول جب موسم بہار کی آمد کا پیغام دیتےتو یہاں کے باسی موسم بہار کا استقبال میلوں رقص اور موسیقی کی محفلوں سے کیا کرتے محبت اور ثقافتی ہم آہنگی یہاں کے لوگوں کی پہچان ہوا کرتی۔

کوئٹہ۔ برفباری کے دوران ہنہ جھیل کا خوبصورت منظر

کوئٹہ سرحد کے قریب واقع شہر ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان سفر کرنے والے کاروان یہاں سے گزرتے ہیں ۔ یہاں مرسم موسم سرما میں برف چار سوں نور کی چادر بچھا دیتی ہےجس سے وادی پر پری کا گماں ہونے لگتا ہے اور پوری وادی سفیدی میں لپٹ جاتی ہے۔

1839ء میں کوئٹہ انگریزوں کے قبضے میں آیا تاہم وہ اس پر مکمل اقتدار قائم نہ کر سکے،37 سال کے سیاسی اور عسکری داﺅپیج کے بعد سن 1876میں رابرٹ سنڈیمن نے کوئٹہ کو حتمی طور پر برٹش ایمپائر کا حصہ بنا لیا ۔ ایک سال بعد 1877ء میں کوئٹہ کو بلوچستان ایجنسی کا صدر مقام قرار دے دیا گیا انگریزوں نے کوئٹہ پر قبضہ یہاں چھاﺅنی بنانے کےلئے کیا تھا۔

بلوچستان پر قبضہ کرنے کے ساتھ ہی انگریزوں نے ریلوے پٹڑی بنانی شروع کر دی اور1843میں پہلی ٹرین کوئٹہ پہنچی جس سے کوئٹہ کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا انگریزوں نے یہاں انگریزی طرز تعمیرات کا آغار کیا۔ کوئٹہ کی یہ تعمیر لندن کے طرز پر کی گئی لوگ اسے لٹل لندن کہتے کوئٹہ کو برصغیر کا سب سے صحت افزاں مقام قرار دیا گیا۔
کوئٹہ۔۱۹۳۵ کے زلزلے سے قبل

31 مئی 1935نصف شب کے بعد آنے والے خوفناک زلزلے نے کوئٹہ کو ہلا کر رکھ دیا ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.8ریکارڈ کی گئی تیس ہزار افراد ایک ہی رات میں لقمہ اجل بن گئے اور شہر کھنڈر ہو گیا
تباہ شدہ ملبے پر تعمیر نو کا آغاز ہوا ایک مرتبہ پھر سے زندگی رواں دواں ہونے لگی تعمیر نو اور بحالی کے اس عمل کے دوران ہی برصغیر جنوبی ایشیا میں تحریک آزادی زور پکڑتی چلی گئی ۔ااور 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور کوئٹہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔

زیارت ریزیڈینسی

1947 سے لے کر 1970تک کے درمیان کوئٹہ ایک مثالی اور پر امن شہر کی حیثیت حاصل تھی صحت افزاں مقام ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے لوگ گرمیوں میں یہاں کھینچے چلے آتے ہنہ جھیل اور پھلوں سے لدے ہوئے باغات لوگوں کا استقبال کرتے ۔1970میں جب کوئٹہ صوبہ بلوچستان کا دارلحکومت بناتو یہاں کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع ہونے کے سبب اندرون بلوچستان اور دیہاتوں سے لوگوں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کر دیا بڑھتی ہوئی آبادی کے دباﺅ کے سبب کھیت اور باغات ختم ہونا شروع ہو گئے اور ان کی جگہ کچی پکی تعمیرات ہونے لگیں 1979میں افغانستان پر سویت یونین کے قبضے سے کوئٹہ کو لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے ریلے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بڑھتی ہوئی آبادی نے کوئٹہ شہر کو خوفناک شہری اور ماحولیاتی مسائل سے دوچار کر دیااب تو ماحولیاتی آلودگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کوئٹہ شہرکو گرد اور دھویں کے بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہے جس سے صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں کوئٹہ جو کبھی جنوبی ایشیاء میں ایک پر فضا مقام کی حیثیت سے جانا جاتا تھا،آج اس کا شمار دنیا کے انتہائی آلودہ شہروں میں کیا جاتا ہے۔

زمرہ : پاکستان | 27 تبصرے »