زین الدین

امریکا کا اگلا ہدف کوئٹہ/بلوچستان؟

مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Mar 2009

امریکی اخبارنیو یارک ٹائمزمیں اٹھارہ مارچ کو ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح‌ میں‌طالبان کی موجودگی کا دعویٰ‌ کیا گیا ہے ۔

’’امریکی صدرباراک اوباما اور اس کے سلامتی کے مشیر امریکہ کی خفیہ جنگ بلوچستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہے ہیں ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پر دو اعلیٰ سطحی رپورٹس وائٹ ہائوس بھیجی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان رہنما ملا عمر اور دیگر اعلیٰ طالبان قیادت کے کوئٹہ کے اندر اور گردونواح میں روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں لہٰذا خفیہ جنگ ڈرون حملوں کا دائرہ ان علاقوں تک پھیلایا جائے ۔بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیاں بلوچستان کے بعض علاقوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں اس لیے طالبان اور القاعدہ کے ان مشتبہ ٹھکانوں پرجاسوس طیاروں سے حملے ضروری ہیں امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان اورافغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کررہی ہے اس لیے اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر اوران کے ساتھیوں کی سرگرمیاں کوئٹہ کے اردگرد کے علاقوں میں بہت بڑھ گئی ہیں جو مستقبل میں امریکیوں کیلئے خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے باعث طالبان اور القاعدہ کے اہم رہنمائوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو اس بات کا علم ہے کہ اگر میزائل حملے یا کمانڈو ایکشن کیا گیا تو بہت سے بے گناہ شہری ان حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق صدر اوبامہ نے ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن خدشہ ہے کہ وہ ان تجاویز پر عمل کرینگے ۔تاہم امریکی کانگریس کے پندرہ ارکان نے پاکستان پر ڈرون حملوں اور افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے صدر باراک اوبامہ سے فیصلوں پرنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔’’اب تک سی آئی اے کے زیر نگرانی ڈرون حملے صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود تھے اور انہیں اب تک بلوچستان تک وسعت نہیں دی گئی تھی بلوچستان تک ڈرون حملوں کو وسعت دینے کے لیے امریکی انتظامیہ اس لیے بھی ڈرتی ہے کہ چونکہ بلوچستان ایک بندوبستی صوبہ ہے اور وہ براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کے ساتھ شدید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ‘‘

بارک اوباما کے صدر کے عہدے سنبھالنے کے بعد اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پانچ حملے (اندازاً)ہوچکے ہیں ۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سابق صدر بش کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔حکومت تبدیل ہونے کے باوجود اس خطے کےلئے امریکی پالیسیوں میںبھی کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ۔اب ان حملوں کو بلوچستان تک وسعت دینے پر غور ہورہا ہے ۔امریکہ کوئٹہ ،لورالائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین اور قلعہ عبداللہ سمیت ضلع نوشکی و خاران اور چاغی میں بھی اس نوعیت کی کارروائی عمل میں لاسکتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئے ذرائع ابلاغ پر پروپیگنڈہ مہم چلائی جاچکی ہے ۔ لوگوں نے لکھا ہے کہ کوئٹہ میں طالبان کے ٹھکانے موجود ہیں۔ ملکی ذرائع ابلاغ بھی اس کام میں پیش پیش ہے ۔ چند ہفتے قبل ملک کے انگریزی اخبار نے کوئٹہ شہر کے وسط میں واقع ریسٹورنٹ (بیگ سنیک بار ) سے متعلق بے بنیاد رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی دھمکیوں کے بعد ریسٹورنٹ میں خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیاگیا ہے ۔ اس رپورٹ کی خود ریسٹورنٹ کے مالک نے تردید کی تھی۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے بعد کوئٹہ کے عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا ہے کہ وہ حملوں سے قبل ہی نقل مکانی کی سوچ رہے ہیں ۔ دوسری طرف ملک کے بے حس حکمران چین کی بانسری بجاکر سابقہ بے شرمی کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔ وزیر اطلاعا ت (قمر الزماں کائرہ) یہ بیان دے رہے ہیں کہ ’’انہیں امید ہے کہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار بلوچستان تک نہیں بڑھایا جائے گا‘‘۔جبکہ وزارت خارجہ نے رپورٹ کو قیاس آرائی کہہ کر تبصرہ کرنے سے ا نکار کردیا ہے جیسے امریکہ نے پاکستان میں پہلے کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔صوبہ سرحد اورقبائلی علاقوں میں جس دیدہ دلیری سے ڈرون حملے کے ذریعے ملکی سرحدوں کی پامالی اور خود مختاری کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، یہ سب کچھ انہیں نظر نہیں آرہا ۔

اس کے برعکس بلوچستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے امریکی ارادوں کے خلاف بروقت آواز اٹھائی ہے ۔ بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے ۔ اسمبلی اجلاس میں ارکان نے تجویز دی کہ صوبے کی سیاسی جماعتیں اور قبائلی عمائدین کل جماعتی کانفرنس بلاکر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ دنیا پر یہ واضح کیا جاسکے کہ بلوچستان کے عوام کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور صوبے کی تمام بلوچ و پشتون قوم پرست اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھی اس ضمن میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے حملوں کی صورت میں بھر پور مزاحمت کی دھمکی دی ہے۔

محل وقوع کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا بہت اہمیت کا حامل صوبہ ہے جو ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے ۔افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں قندھار ، ہلمند، زابلا ور نمروز کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق بلوچستان میں چار لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور ان کا صرف ایک چوتھائی حصہ بارہ کیمپوں میں رہائش پذیر ہے جبکہ باقی تین لاکھ شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔بلوچستان اور افغانستان کے درمیان زیادہ تر آمدروفت چمن کے سرحدی علاقے سے ہوتی ہے جو خیبر ایجنسی کے بعد دوسر ابڑا اہم زمینی راستہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق چمن سے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد آتے جاتے ہیں جبکہ بارہ سے پندرہ سو تک گاڑیاں بھی نقل و حمل کرتی ہیں۔ پاکستان نے دو سال قبل سیکورٹی کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت کی مانیٹرنگ کے لئے بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا اور سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لئے کمپیوٹرائزڈ راہداری جاری کرنا شروع کردیا تھا جو افغان حکام کی شدید مخالفت کے بعد ختم کردیا گیا گویا سرھدوں کو بند کرنے اور سختی کرنے کے ہر قدم کی افغان حکومت نے مخالفت کی ہے ۔ ان کی آواز میں یہاں کے پشتون قوم پرستوں کی آواز بھی شامل ہوجاتی ہے ۔ غرضیکہ امریکی ممکنہ ڈرون حملوں کی صورت میں وسیع کاروبار کو بھی سخت دھچکا لگے گا ۔

امریکی جاسوس طیارے ڈرون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچستان کے ضلع واشک میں واقع شمسی ایئر پورٹ سے اڑ کر قبائلی علاقوں میں ہدف کو نشانہ بناتی ہیں۔اس کی تصدیق ایک اہم امریکی عہدے دار نے بھی کی تھی ۔ پاکستانی حکام اب تک تو اس کی تردید کررہے ہیں لیکن وقت آنے پر یہ بھی معلوم ہوجائے گا ۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں ڈرون حملوں کے لئے شمسی ایئر پورٹ بہت قریب ہے ،قندھار اور کابل بھی اس مقصد کے لئے چنداں فاصلے پر نہیں ہے ۔شمسی ایئر بیس بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے جنوب مغرب میں تقریباً سو کلو میٹر دور ضلع واشک میں واقع ہے اسے انیس سو چھیاسی میں شیخ زید بن سلطان النہیان نے شکار کی غرض سے تعمیر کیا تھا ۔ ضلع واشک کا علاقہ’’ شمشی‘‘ پہلے ضلع خاران کا حصہ تھا تاہم دو ہزار پانچ میںواشک کو ضلع خاران سے علیحدہ کرکے ا لگ ضلع کا درجہ دیدیا گیا ۔ عرب شیوخ یہ ایئر پورٹ پہلے خاران شہر کے قریب بنانا چاہتے تھے تاہم بلوچ تنظیموں کے احتجاج کے بعد یہ ایئر پورٹ واشک کے علاقے شمشی میں بنایا گیا ۔ ایئر پورٹ پر کام انیس سو نوے میں مکمل ہوا۔ کئی کلو میٹر پر پھیلے ایئر بیس کے مغرب میں تقریباً دو سو کلو میٹر دور ہمسایہ ملک ایران کی سرحد واقع ہے ۔ شمشی ایئر بیس کے ایک جانب ریگستان اور ایک طرف پہاڑی علاقہ ہے اس کے مشرق میں ضلع قلات اور ضلع خضدار جنوب میں جنوب مشرقی ضلع پنجگور اور ضلع آواران جبکہ شمال مغرب میں ضلع خاران اور ضلع چاغی واقع ہے۔ نائن الیون کے بعد شمسی ایئر پورٹ امریکی فوج کو دیدیاگیا اسی دوران ایئر بیس کے رقبے میں مزید اضافہ کردیا گیا اور اس کے ارد گرد باڑ لگائی گئی ۔ شمسی ایئر بیس کے قریب رہنے والے کئی گھروں کو بیس سے دور منتقل کردیا گیا جہاں ان کے لیے نئے گھر تعمیر کئے گئے۔ مقامی افراد کے مطابق شمشی ایئر بیس جسے اب شمسی کہا جاتاہے رات نو بجے سے بارہ بجے تک کسی بھی فرد کو اس ایئر بیس کی حدود یا قریبی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس ایئر پورٹ کے قریب رہنے والے افراد کو اپنے گھروں تک جانے کے لیے بھی پاکستانی سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر مکمل تلاشی اور کوائف کے اندراج کے عمل کے بعد جانے کی اجازت دی جاتی ہے بلکہ کئی دفعہ رات کے اوقات میں وہاں کے مقامی لوگوں کو باڑ کے اندر اپنے گھروں میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اکثر رات کے وقت اور کبھی کبھار دن کے اوقات میں بڑے بڑے جہاز وہاں سے اڑتے اور اترتے نظر آتے ہیں تاہم اس علاقے کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر غلطی سے کوئی چرواہا اس طرف جائے بھی تو اسے کئی دن کی پوچھ گچھ کے بعد رہا کیا جاتاہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ امریکی ڈرون مسلسل حملے کررہے ہیں ۔ ہم اور ہمارے بے بس اوراپاہج حکمران طبقہ دھڑلے سے احتجاج بھی نہیں کرپارہے نہ ہی امریکہ کو ہمارے احتجاج اورخفگی کی کوئی پرواہ ہے ۔ملک کو خطرات لاحق ہیں اگر عوام ججز کی بحالی کے لئے لانگ ماچ کی طرح سڑکوں پر نکل آئیں تو یقینا بے دست و پا حکمران طبقہ حرکت میں آجائے گا اور شاید عوام کے احتجاج اور قوت کے سامنے بے بس ہوکر امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے پر شاید ہو۔

زمرہ : حالات حاضرہ, خبریں, سیاست | 4 تبصرے »

محافظ قاتل بن گئے …….

مصنف : zainzf :: بتاریخ 06 Jan 2009

سال 2008ء کے آخری دن 31 دسمبر کو کراچی کے خالد بن ولید روڈ پر چار نوجوان تاجروں کو اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور الزام یہ لگایا کہ چاروں تاجر ڈاکو تھے جنہوں نے پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں مارے گئے ۔

ایئر پورٹ پرتاجروں کے ورثاء میتیں جلوس کی شکل میں لے جارہے ہیں۔

یکم جنوری کو جب چار تاجروں کی میتیں کراچی سے بذریعہ طیارہ لائی گئیں تو کوئٹہ ایئر پورٹ سے ان کے رشتہ دار،عزیز و اقارب، سیاسی جماعتوں کے کارکن اور تاجر برادری میتوں کو لیکر جلوس کی شکل میں گورنر اور وزیراعلیٰ ہائوس پہنچ گئے جہاں انہوں نے دھرنا دیا اورنعرے بازی کی ۔ مذکورہ تاجروں کا تعلق پاک افغان سرحدی شہر چمن سے تھا ،اسی روز چمن میں بازار احتجاجاً بند ہوگیا۔بعد ازاںاگلے روز2 جنوری2009ء کوئٹہ شہر اور چمن میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی ،شہر میں کاروبار مکمل بند رہا ۔ تاجرتنظیموں اور سیاسی جماعتوں‌ نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔

بلوچستان کے پاک افغان سرحدی شہر چمن سے تعلق رکھنے والے تاجر حال ہی میں جاپان اور دبئی کے تجارتی دوروں سے واپس آئے تھے ۔پولیس نے انہیں قتل کرنے کے بعد یہ بھونڈا الزام لگایا کہ ڈاکو تھے اور پو لیس مقابلے میں مارے گئے ۔ممکن ہے کہ پولیس نے اپنے سے اسلحہ بھی بر آمد کر لیا ہو ۔ لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے ،ان نہتے شہریوں کے پاس ما سوائے اپنے استعمال کے موبائل ،ذاتی رقم اور ہا تھوں میں پہنے گھڑیوں کے اور کچھ نہ تھا۔ ان اشیاء کو بھی پولیس نے موقع پر ہی اچک لیا ۔عجیب بد بخت ڈاکو تھے جو ایک طرف تو جاپان ،دبئی اور کراچی میں لا کھوںکر وڑوں کا کاروبار کر تے تھے اور ساتھ کراچی میں چھوٹاموٹا ہاتھ بھی مارتے تھے ؟

نہ جانے اسطرح کے کتنے واقعات روز ملک کے طول وعرض میں رونما ہوتے ہوں گے ،کتنے بے گناہ موت کے بھینٹ چڑھتے ہوں گے ،کوئی پرسان حال نہیں۔ اب تو شہریوں کو قانون کے محافظوںسے بھی خطرات لاحق ہے۔ گزشتہ دنوں بھی کراچی میں پولیس کے ایسے گروہ کو پکڑا گیا جو چوری، رہزنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میںملوث تھا۔ مذکورہ چار نوجوانوں کے ورثاء نے تو کچھ شور مچایا،واویلا کیا اورپولیس کے فریب غنڈہ گردی اور دہشت گردی کا پردہ چاک کردیا مگر وہ جو گمنام ہوکر مرتے ہیں ان کی کون سنے گا ؟

مہذب معاشروں میں ان کے ریا ستی ادارے اور معاملات قا نون اور دستور کے تحت چلتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی برائے نام ہو کررہ گئی ہے ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق طاقتور حاکم ہوتا ہے ،ان کے لیے انصاف در حقیقت موجود ہوتاہے۔لیکن ایک عام آدمی اس حق سے محروم ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرکے اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔

زمرہ : حالات حاضرہ, پاکستان | 5 تبصرے »

میرا شہر

مصنف : zainzf :: بتاریخ 29 Dec 2008

کچھ میرے شہر کے بارے میں۔

حسین مگر پر فریب پہاڑوں کے درمیان اپنی بے مثال زندہ و تابندہ تاریخ کا امین کوئٹہ شہر صوبہ بلوچستان کا دارلحکومت ہے۔اس کی ایک جانب کوہ مہر دار ہے تو دوسری جانب اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ کوہ چلتن کا پہاڑی سلسلہ موجود ہے۔

کوئٹہ۔ برفباری کے دوران

صدیوں سکوت کی چادر اوڑھے وادی کوئٹہ جس کے پہاڑوں پر جنگلی زیتون، شنے اور صنوبر کے درخت ہوا کرتے۔ جس کے دامن سے چشمے پھوٹتے اور پہاڑوں سے آبشاریں گرتیں ۔قدیم کوئٹہ کی اپنی جداگانہ تہذیبی تاریخ ہے ۔

کوئٹہ میں‌ بادام،خوبانی اور آڑو کے پھول جب موسم بہار کی آمد کا پیغام دیتےتو یہاں کے باسی موسم بہار کا استقبال میلوں رقص اور موسیقی کی محفلوں سے کیا کرتے محبت اور ثقافتی ہم آہنگی یہاں کے لوگوں کی پہچان ہوا کرتی۔

کوئٹہ۔ برفباری کے دوران ہنہ جھیل کا خوبصورت منظر

کوئٹہ سرحد کے قریب واقع شہر ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان سفر کرنے والے کاروان یہاں سے گزرتے ہیں ۔ یہاں مرسم موسم سرما میں برف چار سوں نور کی چادر بچھا دیتی ہےجس سے وادی پر پری کا گماں ہونے لگتا ہے اور پوری وادی سفیدی میں لپٹ جاتی ہے۔

1839ء میں کوئٹہ انگریزوں کے قبضے میں آیا تاہم وہ اس پر مکمل اقتدار قائم نہ کر سکے،37 سال کے سیاسی اور عسکری داﺅپیج کے بعد سن 1876میں رابرٹ سنڈیمن نے کوئٹہ کو حتمی طور پر برٹش ایمپائر کا حصہ بنا لیا ۔ ایک سال بعد 1877ء میں کوئٹہ کو بلوچستان ایجنسی کا صدر مقام قرار دے دیا گیا انگریزوں نے کوئٹہ پر قبضہ یہاں چھاﺅنی بنانے کےلئے کیا تھا۔

بلوچستان پر قبضہ کرنے کے ساتھ ہی انگریزوں نے ریلوے پٹڑی بنانی شروع کر دی اور1843میں پہلی ٹرین کوئٹہ پہنچی جس سے کوئٹہ کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا انگریزوں نے یہاں انگریزی طرز تعمیرات کا آغار کیا۔ کوئٹہ کی یہ تعمیر لندن کے طرز پر کی گئی لوگ اسے لٹل لندن کہتے کوئٹہ کو برصغیر کا سب سے صحت افزاں مقام قرار دیا گیا۔
کوئٹہ۔۱۹۳۵ کے زلزلے سے قبل

31 مئی 1935نصف شب کے بعد آنے والے خوفناک زلزلے نے کوئٹہ کو ہلا کر رکھ دیا ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.8ریکارڈ کی گئی تیس ہزار افراد ایک ہی رات میں لقمہ اجل بن گئے اور شہر کھنڈر ہو گیا
تباہ شدہ ملبے پر تعمیر نو کا آغاز ہوا ایک مرتبہ پھر سے زندگی رواں دواں ہونے لگی تعمیر نو اور بحالی کے اس عمل کے دوران ہی برصغیر جنوبی ایشیا میں تحریک آزادی زور پکڑتی چلی گئی ۔ااور 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور کوئٹہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔

زیارت ریزیڈینسی

1947 سے لے کر 1970تک کے درمیان کوئٹہ ایک مثالی اور پر امن شہر کی حیثیت حاصل تھی صحت افزاں مقام ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے لوگ گرمیوں میں یہاں کھینچے چلے آتے ہنہ جھیل اور پھلوں سے لدے ہوئے باغات لوگوں کا استقبال کرتے ۔1970میں جب کوئٹہ صوبہ بلوچستان کا دارلحکومت بناتو یہاں کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع ہونے کے سبب اندرون بلوچستان اور دیہاتوں سے لوگوں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کر دیا بڑھتی ہوئی آبادی کے دباﺅ کے سبب کھیت اور باغات ختم ہونا شروع ہو گئے اور ان کی جگہ کچی پکی تعمیرات ہونے لگیں 1979میں افغانستان پر سویت یونین کے قبضے سے کوئٹہ کو لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے ریلے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بڑھتی ہوئی آبادی نے کوئٹہ شہر کو خوفناک شہری اور ماحولیاتی مسائل سے دوچار کر دیااب تو ماحولیاتی آلودگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کوئٹہ شہرکو گرد اور دھویں کے بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہے جس سے صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں کوئٹہ جو کبھی جنوبی ایشیاء میں ایک پر فضا مقام کی حیثیت سے جانا جاتا تھا،آج اس کا شمار دنیا کے انتہائی آلودہ شہروں میں کیا جاتا ہے۔

زمرہ : پاکستان | 27 تبصرے »

بزکشی، ایک دلچسپ کھیل

مصنف : zainzf :: بتاریخ 24 Dec 2008

بزکشی جری اور سخت جان قبائل کا انتہائی خطرناک مگر دلچسپ کھیل ہے ۔ طاقت اور زور آزمائی اس کھیل کا لوازمہ ہے ۔ یہ کھیل اب پاکستان میں بھی کھیلا جاتا ہے ۔

گزشتہ دنوں‌پاکستان بزکشی فیڈریشن کے زیر اہتمام کوئٹہ میں بزکشی کے تین روزہ مقابلے ہوئے ۔ جسے دیکھنے کا موقع ملا ۔صوبائی دار الحکومت کوئٹہ کے مضافاتی علاقے کچلاک میں منعقدہ بزکشی کے مقابلوں میں‌کئی ٹیموں نے حصہ لیا جبکہ فائنل مقابلہ کوئٹہ اور کچلاک کی ٹیموں کے درمیان ہوا ۔

بزکشی افغانستان کا قومی کھیل ہے تاہم اس کھیل کی ابتداء چنگیز خان کے دور میں ہوئی جس کا مقصد سپاہیوں کو میدان جنگ میں ہر طرح کے شدید حالات کے لیے تیار رکھنا تھا ۔ یہ کھیل وسطی ایشیاء کے کئی ممالک میں اب تک بے حد مقبول ہے ۔ افغان مہاجرین کی پاکستان آمد کے بعد بزکشی نے یہاں بھی رواج پالیا ہے ۔

YouTube Preview Image
ہندوستانی فلم خدا گواہ میں‌ بزکشی کے کھیل کا ایک منظر

بزکشی کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے ۔ زمان و مکان کے لحاظ سے اس میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہی ہیں ۔یہ کھیل اب ایک حد کے اندر کھیلا جاتا ہے ۔ میدان کے ایک سرے پر ایک گول دائرہ کھینچا جاتا ہے جس کے بیچ میں ایک ذبح شدہ بکری رکھ کر کھلاڑی جسے بزکشی کی اصطلاع میں ’’پہلوان ‘‘کہا جاتا ہے ، زورِ بازو سے اٹھاتا ہے اور میدان کے دوسرے سرے میں متعین نشان گھوم کر دوبارہ اس دائرے میں پھینکنے کی کوشش کرتا ہے اس دوران کھلاڑی کو سخت کشمکش کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بکری دائرے میں پھینکنے کے عمل کو ’’حلال ‘‘کہا جاتا ہے جو کہ ایک پوائنٹ کے برابر ہوتا ہے ۔

YouTube Preview Image

گول کرنے والا کھلاڑی جب بکری ’’حلال ‘‘ کرتا ہے تو داد و تحسین کے لیے شائقین کا رخ کرتا ہے ۔ شائقین اِ نہیں نقد رقم دیتے ہیں ۔ یہی دراصل اِن کا انعام ہوتا ہے ۔اس کھیل میں کھلاڑیوں کو چوٹ آنا معمول کی بات ہے بلکہ جان کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے ۔قوتِ بازو اور مہارت اس کھیل میں شرط ِ اول ہے ۔

یہ کھیل گزشتہ پچیس سالوں سے کوئٹہ میں کھیلا جارہا ہے مگر بد قسمتی سے حکومتی سطح پر خاطرِ خواہ پذیرائی نہیں کی گئی ہیں۔فیڈریشن اپنی مدد آپ کے تحت بزکشی کے مقابلے منعقد کرتی ہیں۔

زمرہ : کھیل | 4 تبصرے »