زین الدین

میرا شہر

مصنف : zainzf :: بتاریخ 29 Dec 2008

کچھ میرے شہر کے بارے میں۔

حسین مگر پر فریب پہاڑوں کے درمیان اپنی بے مثال زندہ و تابندہ تاریخ کا امین کوئٹہ شہر صوبہ بلوچستان کا دارلحکومت ہے۔اس کی ایک جانب کوہ مہر دار ہے تو دوسری جانب اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ کوہ چلتن کا پہاڑی سلسلہ موجود ہے۔

کوئٹہ۔ برفباری کے دوران

صدیوں سکوت کی چادر اوڑھے وادی کوئٹہ جس کے پہاڑوں پر جنگلی زیتون، شنے اور صنوبر کے درخت ہوا کرتے۔ جس کے دامن سے چشمے پھوٹتے اور پہاڑوں سے آبشاریں گرتیں ۔قدیم کوئٹہ کی اپنی جداگانہ تہذیبی تاریخ ہے ۔

کوئٹہ میں‌ بادام،خوبانی اور آڑو کے پھول جب موسم بہار کی آمد کا پیغام دیتےتو یہاں کے باسی موسم بہار کا استقبال میلوں رقص اور موسیقی کی محفلوں سے کیا کرتے محبت اور ثقافتی ہم آہنگی یہاں کے لوگوں کی پہچان ہوا کرتی۔

کوئٹہ۔ برفباری کے دوران ہنہ جھیل کا خوبصورت منظر

کوئٹہ سرحد کے قریب واقع شہر ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان سفر کرنے والے کاروان یہاں سے گزرتے ہیں ۔ یہاں مرسم موسم سرما میں برف چار سوں نور کی چادر بچھا دیتی ہےجس سے وادی پر پری کا گماں ہونے لگتا ہے اور پوری وادی سفیدی میں لپٹ جاتی ہے۔

1839ء میں کوئٹہ انگریزوں کے قبضے میں آیا تاہم وہ اس پر مکمل اقتدار قائم نہ کر سکے،37 سال کے سیاسی اور عسکری داﺅپیج کے بعد سن 1876میں رابرٹ سنڈیمن نے کوئٹہ کو حتمی طور پر برٹش ایمپائر کا حصہ بنا لیا ۔ ایک سال بعد 1877ء میں کوئٹہ کو بلوچستان ایجنسی کا صدر مقام قرار دے دیا گیا انگریزوں نے کوئٹہ پر قبضہ یہاں چھاﺅنی بنانے کےلئے کیا تھا۔

بلوچستان پر قبضہ کرنے کے ساتھ ہی انگریزوں نے ریلوے پٹڑی بنانی شروع کر دی اور1843میں پہلی ٹرین کوئٹہ پہنچی جس سے کوئٹہ کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا انگریزوں نے یہاں انگریزی طرز تعمیرات کا آغار کیا۔ کوئٹہ کی یہ تعمیر لندن کے طرز پر کی گئی لوگ اسے لٹل لندن کہتے کوئٹہ کو برصغیر کا سب سے صحت افزاں مقام قرار دیا گیا۔
کوئٹہ۔۱۹۳۵ کے زلزلے سے قبل

31 مئی 1935نصف شب کے بعد آنے والے خوفناک زلزلے نے کوئٹہ کو ہلا کر رکھ دیا ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.8ریکارڈ کی گئی تیس ہزار افراد ایک ہی رات میں لقمہ اجل بن گئے اور شہر کھنڈر ہو گیا
تباہ شدہ ملبے پر تعمیر نو کا آغاز ہوا ایک مرتبہ پھر سے زندگی رواں دواں ہونے لگی تعمیر نو اور بحالی کے اس عمل کے دوران ہی برصغیر جنوبی ایشیا میں تحریک آزادی زور پکڑتی چلی گئی ۔ااور 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور کوئٹہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔

زیارت ریزیڈینسی

1947 سے لے کر 1970تک کے درمیان کوئٹہ ایک مثالی اور پر امن شہر کی حیثیت حاصل تھی صحت افزاں مقام ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے لوگ گرمیوں میں یہاں کھینچے چلے آتے ہنہ جھیل اور پھلوں سے لدے ہوئے باغات لوگوں کا استقبال کرتے ۔1970میں جب کوئٹہ صوبہ بلوچستان کا دارلحکومت بناتو یہاں کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع ہونے کے سبب اندرون بلوچستان اور دیہاتوں سے لوگوں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کر دیا بڑھتی ہوئی آبادی کے دباﺅ کے سبب کھیت اور باغات ختم ہونا شروع ہو گئے اور ان کی جگہ کچی پکی تعمیرات ہونے لگیں 1979میں افغانستان پر سویت یونین کے قبضے سے کوئٹہ کو لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے ریلے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بڑھتی ہوئی آبادی نے کوئٹہ شہر کو خوفناک شہری اور ماحولیاتی مسائل سے دوچار کر دیااب تو ماحولیاتی آلودگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کوئٹہ شہرکو گرد اور دھویں کے بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہے جس سے صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں کوئٹہ جو کبھی جنوبی ایشیاء میں ایک پر فضا مقام کی حیثیت سے جانا جاتا تھا،آج اس کا شمار دنیا کے انتہائی آلودہ شہروں میں کیا جاتا ہے۔

زمرہ : پاکستان | 27 تبصرے »