زین الدین

امریکا کا اگلا ہدف کوئٹہ/بلوچستان؟

مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Mar 2009

امریکی اخبارنیو یارک ٹائمزمیں اٹھارہ مارچ کو ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح‌ میں‌طالبان کی موجودگی کا دعویٰ‌ کیا گیا ہے ۔

’’امریکی صدرباراک اوباما اور اس کے سلامتی کے مشیر امریکہ کی خفیہ جنگ بلوچستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہے ہیں ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پر دو اعلیٰ سطحی رپورٹس وائٹ ہائوس بھیجی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان رہنما ملا عمر اور دیگر اعلیٰ طالبان قیادت کے کوئٹہ کے اندر اور گردونواح میں روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں لہٰذا خفیہ جنگ ڈرون حملوں کا دائرہ ان علاقوں تک پھیلایا جائے ۔بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیاں بلوچستان کے بعض علاقوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں اس لیے طالبان اور القاعدہ کے ان مشتبہ ٹھکانوں پرجاسوس طیاروں سے حملے ضروری ہیں امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان اورافغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کررہی ہے اس لیے اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر اوران کے ساتھیوں کی سرگرمیاں کوئٹہ کے اردگرد کے علاقوں میں بہت بڑھ گئی ہیں جو مستقبل میں امریکیوں کیلئے خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے باعث طالبان اور القاعدہ کے اہم رہنمائوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو اس بات کا علم ہے کہ اگر میزائل حملے یا کمانڈو ایکشن کیا گیا تو بہت سے بے گناہ شہری ان حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق صدر اوبامہ نے ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن خدشہ ہے کہ وہ ان تجاویز پر عمل کرینگے ۔تاہم امریکی کانگریس کے پندرہ ارکان نے پاکستان پر ڈرون حملوں اور افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے صدر باراک اوبامہ سے فیصلوں پرنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔’’اب تک سی آئی اے کے زیر نگرانی ڈرون حملے صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود تھے اور انہیں اب تک بلوچستان تک وسعت نہیں دی گئی تھی بلوچستان تک ڈرون حملوں کو وسعت دینے کے لیے امریکی انتظامیہ اس لیے بھی ڈرتی ہے کہ چونکہ بلوچستان ایک بندوبستی صوبہ ہے اور وہ براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کے ساتھ شدید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ‘‘

بارک اوباما کے صدر کے عہدے سنبھالنے کے بعد اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پانچ حملے (اندازاً)ہوچکے ہیں ۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سابق صدر بش کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔حکومت تبدیل ہونے کے باوجود اس خطے کےلئے امریکی پالیسیوں میںبھی کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ۔اب ان حملوں کو بلوچستان تک وسعت دینے پر غور ہورہا ہے ۔امریکہ کوئٹہ ،لورالائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین اور قلعہ عبداللہ سمیت ضلع نوشکی و خاران اور چاغی میں بھی اس نوعیت کی کارروائی عمل میں لاسکتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئے ذرائع ابلاغ پر پروپیگنڈہ مہم چلائی جاچکی ہے ۔ لوگوں نے لکھا ہے کہ کوئٹہ میں طالبان کے ٹھکانے موجود ہیں۔ ملکی ذرائع ابلاغ بھی اس کام میں پیش پیش ہے ۔ چند ہفتے قبل ملک کے انگریزی اخبار نے کوئٹہ شہر کے وسط میں واقع ریسٹورنٹ (بیگ سنیک بار ) سے متعلق بے بنیاد رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی دھمکیوں کے بعد ریسٹورنٹ میں خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیاگیا ہے ۔ اس رپورٹ کی خود ریسٹورنٹ کے مالک نے تردید کی تھی۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے بعد کوئٹہ کے عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا ہے کہ وہ حملوں سے قبل ہی نقل مکانی کی سوچ رہے ہیں ۔ دوسری طرف ملک کے بے حس حکمران چین کی بانسری بجاکر سابقہ بے شرمی کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔ وزیر اطلاعا ت (قمر الزماں کائرہ) یہ بیان دے رہے ہیں کہ ’’انہیں امید ہے کہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار بلوچستان تک نہیں بڑھایا جائے گا‘‘۔جبکہ وزارت خارجہ نے رپورٹ کو قیاس آرائی کہہ کر تبصرہ کرنے سے ا نکار کردیا ہے جیسے امریکہ نے پاکستان میں پہلے کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔صوبہ سرحد اورقبائلی علاقوں میں جس دیدہ دلیری سے ڈرون حملے کے ذریعے ملکی سرحدوں کی پامالی اور خود مختاری کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، یہ سب کچھ انہیں نظر نہیں آرہا ۔

اس کے برعکس بلوچستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے امریکی ارادوں کے خلاف بروقت آواز اٹھائی ہے ۔ بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے ۔ اسمبلی اجلاس میں ارکان نے تجویز دی کہ صوبے کی سیاسی جماعتیں اور قبائلی عمائدین کل جماعتی کانفرنس بلاکر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ دنیا پر یہ واضح کیا جاسکے کہ بلوچستان کے عوام کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور صوبے کی تمام بلوچ و پشتون قوم پرست اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھی اس ضمن میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے حملوں کی صورت میں بھر پور مزاحمت کی دھمکی دی ہے۔

محل وقوع کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا بہت اہمیت کا حامل صوبہ ہے جو ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے ۔افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں قندھار ، ہلمند، زابلا ور نمروز کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق بلوچستان میں چار لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور ان کا صرف ایک چوتھائی حصہ بارہ کیمپوں میں رہائش پذیر ہے جبکہ باقی تین لاکھ شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔بلوچستان اور افغانستان کے درمیان زیادہ تر آمدروفت چمن کے سرحدی علاقے سے ہوتی ہے جو خیبر ایجنسی کے بعد دوسر ابڑا اہم زمینی راستہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق چمن سے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد آتے جاتے ہیں جبکہ بارہ سے پندرہ سو تک گاڑیاں بھی نقل و حمل کرتی ہیں۔ پاکستان نے دو سال قبل سیکورٹی کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت کی مانیٹرنگ کے لئے بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا اور سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لئے کمپیوٹرائزڈ راہداری جاری کرنا شروع کردیا تھا جو افغان حکام کی شدید مخالفت کے بعد ختم کردیا گیا گویا سرھدوں کو بند کرنے اور سختی کرنے کے ہر قدم کی افغان حکومت نے مخالفت کی ہے ۔ ان کی آواز میں یہاں کے پشتون قوم پرستوں کی آواز بھی شامل ہوجاتی ہے ۔ غرضیکہ امریکی ممکنہ ڈرون حملوں کی صورت میں وسیع کاروبار کو بھی سخت دھچکا لگے گا ۔

امریکی جاسوس طیارے ڈرون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچستان کے ضلع واشک میں واقع شمسی ایئر پورٹ سے اڑ کر قبائلی علاقوں میں ہدف کو نشانہ بناتی ہیں۔اس کی تصدیق ایک اہم امریکی عہدے دار نے بھی کی تھی ۔ پاکستانی حکام اب تک تو اس کی تردید کررہے ہیں لیکن وقت آنے پر یہ بھی معلوم ہوجائے گا ۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں ڈرون حملوں کے لئے شمسی ایئر پورٹ بہت قریب ہے ،قندھار اور کابل بھی اس مقصد کے لئے چنداں فاصلے پر نہیں ہے ۔شمسی ایئر بیس بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے جنوب مغرب میں تقریباً سو کلو میٹر دور ضلع واشک میں واقع ہے اسے انیس سو چھیاسی میں شیخ زید بن سلطان النہیان نے شکار کی غرض سے تعمیر کیا تھا ۔ ضلع واشک کا علاقہ’’ شمشی‘‘ پہلے ضلع خاران کا حصہ تھا تاہم دو ہزار پانچ میںواشک کو ضلع خاران سے علیحدہ کرکے ا لگ ضلع کا درجہ دیدیا گیا ۔ عرب شیوخ یہ ایئر پورٹ پہلے خاران شہر کے قریب بنانا چاہتے تھے تاہم بلوچ تنظیموں کے احتجاج کے بعد یہ ایئر پورٹ واشک کے علاقے شمشی میں بنایا گیا ۔ ایئر پورٹ پر کام انیس سو نوے میں مکمل ہوا۔ کئی کلو میٹر پر پھیلے ایئر بیس کے مغرب میں تقریباً دو سو کلو میٹر دور ہمسایہ ملک ایران کی سرحد واقع ہے ۔ شمشی ایئر بیس کے ایک جانب ریگستان اور ایک طرف پہاڑی علاقہ ہے اس کے مشرق میں ضلع قلات اور ضلع خضدار جنوب میں جنوب مشرقی ضلع پنجگور اور ضلع آواران جبکہ شمال مغرب میں ضلع خاران اور ضلع چاغی واقع ہے۔ نائن الیون کے بعد شمسی ایئر پورٹ امریکی فوج کو دیدیاگیا اسی دوران ایئر بیس کے رقبے میں مزید اضافہ کردیا گیا اور اس کے ارد گرد باڑ لگائی گئی ۔ شمسی ایئر بیس کے قریب رہنے والے کئی گھروں کو بیس سے دور منتقل کردیا گیا جہاں ان کے لیے نئے گھر تعمیر کئے گئے۔ مقامی افراد کے مطابق شمشی ایئر بیس جسے اب شمسی کہا جاتاہے رات نو بجے سے بارہ بجے تک کسی بھی فرد کو اس ایئر بیس کی حدود یا قریبی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس ایئر پورٹ کے قریب رہنے والے افراد کو اپنے گھروں تک جانے کے لیے بھی پاکستانی سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر مکمل تلاشی اور کوائف کے اندراج کے عمل کے بعد جانے کی اجازت دی جاتی ہے بلکہ کئی دفعہ رات کے اوقات میں وہاں کے مقامی لوگوں کو باڑ کے اندر اپنے گھروں میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اکثر رات کے وقت اور کبھی کبھار دن کے اوقات میں بڑے بڑے جہاز وہاں سے اڑتے اور اترتے نظر آتے ہیں تاہم اس علاقے کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر غلطی سے کوئی چرواہا اس طرف جائے بھی تو اسے کئی دن کی پوچھ گچھ کے بعد رہا کیا جاتاہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ امریکی ڈرون مسلسل حملے کررہے ہیں ۔ ہم اور ہمارے بے بس اوراپاہج حکمران طبقہ دھڑلے سے احتجاج بھی نہیں کرپارہے نہ ہی امریکہ کو ہمارے احتجاج اورخفگی کی کوئی پرواہ ہے ۔ملک کو خطرات لاحق ہیں اگر عوام ججز کی بحالی کے لئے لانگ ماچ کی طرح سڑکوں پر نکل آئیں تو یقینا بے دست و پا حکمران طبقہ حرکت میں آجائے گا اور شاید عوام کے احتجاج اور قوت کے سامنے بے بس ہوکر امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے پر شاید ہو۔

زمرہ : حالات حاضرہ, خبریں, سیاست | 4 تبصرے »

سبی میلہ (تصاویر کے ساتھ )

مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Feb 2009

بلوچستان کے تاریخی سبی میلہ کا آغاز (بیس فروری2009ء کو )ضلع سبی * میں ہوگیا ہے جو آئندہ چار روز تک جاری رہے گا۔

سبی میلہ بلوچستان کی ثقافتی اور سماجی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ میلے سے جہاں علاقے کے تہذیب وتمدن کے عکاسی ہوتی ہے وہاں آپس میں میل جول کے مواقع بھی ملتے ہیں۔
اس میلے کا آغاز قدیم زمانوں میں آپس میں مل بیٹھنے،مجموعی علاقائی مسائل کے حل غلہ بانی زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے فروغ کے بنیادی عنصر سے ہوا جس کی ضرورت آج کے جدید دور میں بھی تسلیم کی جارہی ہے ۔
Sibi Mela 11

جہاں اس میلے کے دوران علاقائی مسائل اور معاملات پر تمام قبائلی عمائدین مل بیٹھ کر ایک جرگے کی صورت میں غور وخوص کرکے متفقہ رائے سے انہیں حل کرتے تھے وہاں علاقے کے مالدارکسان اور زمیندار اپنی زمینداری اور زراعت کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے تھے، اس کے ساتھ ہی جانوروں کی منڈی اور زرعی و پھلوں کی نمائش بھی کسانوں وزمینداروں کو ایک دوسرے کے زرعی تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے جبکہ دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے تاجروں کےلئے زرعی اجناس، پھل اور جانوروں کی تجارت کےلئے بھی مواقع میسر آتے تھے جس سے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا تھا، آج بھی نہ صرف بلوچستان بلکہ دیگر صوبوں سے آئے ہوئے مالداروں اور زمینداروں کےلئے اپنا مال مویشی اور زرعی اجناس کو متعارف کرانے کےلئے یہ مال ایک اہم منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ثقافتی حوالے سے بھی یہ میلہ صوبے کی زرخیزاور قدیم ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا ذریعہ ہے ۔

Sibi Mela 5

میلے کا تاریخی پس منظر

پہلا سبی میلہ 1885ء منعقد ہوا تھا جس کی ابتداء لارڈ رابرٹ سنڈیمن نے کی ۔ رابرٹ سنڈیمن نے علاقے کے تمام معتبرین کو دعوت دی کی وہ سبی میلے کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں شریک ہوں سبی میلہ قدیم برطانوی عہدے کے شاہی دربار اور شاہی جرگہ کی ایک جدید شکل ہے ۔
Sibi Mela 4

Sibi Mela  15

سبی میلہ بلوچستان کا سب سے بڑا عوامی ثقافتی میلہ ہے ۔پورے پاکستان میں لاہور کے ہارس اینڈ کیٹل شو کے بعد سبی میلہ دوسرے نمبر کا سب سے بڑا میلہ ہے جس میں بلوچستان بھر سے لوگ اورمالدار شریک ہوتے ہیں جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر کے دور افتادہ علاقوں سے اپنے اپنے مال مویشی ساتھ لاتے ہیں جو جانوروں کی اےک بڑی منڈی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مال مویشی کی خریدوفرخت کے نتیجے میں جہاں مالداروں کو معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں خریداروں کو مناسب قیمتوں پر صحت مند مال مویشی کے حصول کے مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔
Sibi Mela 2

1885ء میں جب سبی میلہ کی ابتداء ہوئی تو اس کی صدارت اس وقت کے اے جی جی کیا کرتے تھے اور خطے کے تمام نواب، سردار اعلیٰ عہدیدار، ٹکری اور معتبرین مل بیٹھ کر اپنے اپنے جھگڑوں، رنجشوں اور ناچاقیوں کا رسم و رواج اور قبائلی روایا ت کے مطابق تصفیہ کیا کرتے تھے۔
Sibi Mela 8

چونکہ سبی کا موسم سردیوں بالخصوص فروری کے مہینے میں نارمل اور خوشگوار ہوتا ہے اس کے علاوہ موسم بہار کی بھی آمد آمد ہوتی ہے اس لئے سبی میلہ بھی روایتاً ان ہی ایا م میں منعقد ہونے لگا۔ جس نے بعد میں ایک مستقل حیثیت اختیا ر کرلی ۔
Sibi Mela 18
Sibi Mela  17

Sibi Mela 7
وقت کے ساتھ ساتھ سبی میلہ مویشیا ں و اسپاں میں مختلف قسم کے پروگرام شامل ہوتے چلے گئے ۔بالخصوص گھوڑوں اور مویشیوں کے شو، زرعی و صنعتی نمائش ، ثقافتی شو، موسیقی کی محفلیں، کھیل کھود، جسمانی کرتب کے مظاہرے مویشیوں کی منڈی ، بلدیا تی کنونشن، بچوں کے لئے رنگا رنگ پروگرام پی ٹی شو جو جدت اختیا ر کرتے کرتے فلاور شو کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔اب یک جہتی شو کے نام سے پکارا جانے لگا ہے اسکے علاوہ کھیل کھود اور تفریح کے مختلف پروگرام میلے کا لازمی حصہ بن چکے ہیں ۔
Sibi Mela 6

آزادی کے بعد بھی میلے کے انعقاد کی روایت اسی طرح قائم رہی یہ میلہ پہلے سے بھی زیا دہ زور وشور سے منایا جانے لگا ۔قیا م پاکستان کے بعد فروری 1948بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے شاہی دربار کی صدارت کی ۔
Sibi Mela 1

سبی میلہ ہر سال بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اور عموماً صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان اس کی تقاریب میں شرکت کےلئے تشریف لاتے ہیں

(((((اپڈیٹ ))))
اس حوالے سے بی بی سی کی یہ زبردست ویڈیو میری نظروں سے آج گزری۔

————–
( * سبی ، صوبائی دار الحکومت کوئٹہ سے تقریباً150 کلو میٹر فاصلہ پر ہے۔ )

سبی میلہ 24 فروری کو اختتام پزیر ہوگیا۔ میلے میں ہزاروں مویشیوں کی خرید و فروخت کی گئی۔

زمرہ : ثقافت, پاکستان | 29 تبصرے »

’’چربیلی‘‘ایک جاہلانہ رسم

مصنف : zainzf :: بتاریخ 16 Dec 2008

کل بلوچستان کے ضلع نصیرآباد سے ایک خبر ملی کہ

’”تحصیل ڈیرہ مراد جمالی میں ایک شخص نے آگ کے دہکتے انگاروں میں چل کر سیاہ کاری سے بے گناہی ثابت کر دی ۔بیس فٹ لمبے کھڈے میں بیس من لکڑیاں جلائی جرگہ نے ملزم کو بے گناہ قرار دیا گیا ۔
دس سال قبل نصیرآباد کے رہائشی محمد عثمان بگٹی کو ایک عورت کے ساتھ سیاہ کار(کاروکاری) کا الزام دیا گیا تھا پیر کے روز ڈیرہ مراد جمالی کے قریب منگولی میں وڈیرہ غلام قادر بگٹی کی سربراہی میں ایک گرگہ منعقد ہوا جس میں نصیرآباد کے رہائشی محمد عثمان بگٹی کو بیس فٹ لمبے کھڈے میں بیس من لکڑیاں جلا کر آگ کے انگارے تیار کئے گئے بعد میںملزم محمد عثمان بگٹی کو آگ کے انگاروں سے گزار گیا تھا جبکہ منگل کے روز جرگہ کے سربراہ وڈیرہ غلام قادر بگٹی نے فیصلہ سنایا کہ ملزم محمد عثمان بگٹی بے گناہ ہے ۔
‘‘‘

بلو چستان میں اکثر و بیشتر ایسا ہو تا رہتا ہے لوگ دہکتے انگاروںسے گزر کر اپنی بے گناہی بھی ثابت کردیتے ہیں ،آگ سے گزرنے کے اس عمل کوبلو چی زبان میں ’’چر بیلی ‘‘کا نام دیاگیا ہے ،چر بیلی کا اہتمام اُس صورت میں کیا جاتا ہے جب کسی پر قتل ، چوری، ڈکیتی یا ایک لاکھ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے حوالے سے شک کیا جا تا ہو اور دو فریقو ں کے درمیان تنا زعہ کا فیصلہ ہو جائے تاہم متاثرہ فر یق مطمئن نہ ہو ،اور نامزد ملزم کے بارے میں شک رکھتا ہو، اور مزید خو ن ریزی ہو نے کا خطرہ ہو ، تو مصالحت کر انے کی کو شش کرنے والاشخص چر بیلی کی تجویز دیتا ہے جس پر دونو ں فر یقین پہلے آپس میں صلاح و مشورہ کر تے ہیں اور بعد میںدونو ں فر یقین مقام کا انتخاب کر کے چر بیلی کا اہتمام کر نے والے لوگوں سے رابطہ کر کے اُن کو بیس ہزار روپے دے کر چربیلی کے انتظام کی گزارش کر تے ہیں ۔
چر بیلی کا اہتمام کر نے والے افراد جگہ کا انتخاب کر کے پہلے پندر ہ فٹ تک لمبا اور ڈیڑھ فٹ تک گہرا کھڈا کھو ددیتے ہیں پھر اس مقصد کے لئے پندرہ من تک صاف ستھری لکڑی خرید کر لائی جاتی ہے پھر لکڑی کھڈے میں ڈال کر اس کو آگ لگائی جاتی ہے لکڑی مکمل طور پر جلنے کے بعد انگار ے بن جا تی ہے، پھر ایک امام یا کو ئی بھی نیک سیر ت شخص ہا تھ میں کلا م پا ک لے کر اس دُعا کے ساتھ انگاروں کے گردسات چکر لگا تا ہے کہ ‘‘اے رب العا لمین ، ان نگاروںکو حکم دے دو کہ نامزد ملزم اگر اس واقعہ میں ملو ث ہے تو اس کے پائوں جلائے، اگر نہیں ہے تو اس کو بخیر و خیر یت نکال دے۔ ’’ جس کے بعد ملزم کو انگاروں پر کم از کم سات قدم رکھ گزارہ جاتا ہے اور آٹھویں قد م سے پہلے کھڈے کے دوسری طرف کھڑے لوگ اُ س شخص گود میںلے کر اُسی وقت ذبح کئے گئے بکرے کے تازہ خون میں اس کے پائو ں رکھ دیتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد اسے کو کم ازکم تین یا چار گھنٹے کے لئے آرام کا موقع دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد ملزم کے پائو ں کو چیک کیا جا تا ہے اگر پائوںپر کو ئی چالہ پڑ گیاہو تو اسے قصوار ٹھہرا یا جا تا ہے اور ملزم یا اس کے لواحقین کو جر م کے نو عیت کے مطابق سزا یا جرمانہ ادا کر نا پڑ تا ہے ، اگر چالہ نہ پڑا ہو تو ملزم کو بے گناہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ دعویٰ کرنےوالے فر یق کو چر بیلی کے رسم کے تمام اخراجات اور جر مانے کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور اس کے بعد دُعا خیرمانگی جا تی ہے اور فر یقین کے درمیان تنازعہ ختم ہوجاتا ہے ۔

بلو چستان میں ڈیرہ بگٹی ، جعفرآباد ، نصیر آباد ، بو لان ، سبی، جیک اباد اور سندھ کے بعض اضلاع میںبلو چ قبائل اس رسم کے ذریعے اپنے فیصلے کر واتے ہیں، اسی طرح پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی یہ رسم رائج ہے ۔

یہ رسمیں‌نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی ہوتی ہیں‌ جنہیں Firewalking کہا جاتا ہے۔

اس حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق جب کوئلہ خوب دہک جاتا ہے تو اس پر راکھ کی ایک تہہ آجاتی ہے۔ یہ تہہ carbon پر مشتمل ہوتی ہے۔ carbon ایک عدد poor conductor ہوتا ہے۔ poor conductor وہ ہوتے ہیں جو کرنٹ یا حرارت کو بآسانی دوسری جگہ منتقل نہ کرسکیں۔ اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ کوئلے پر چلنے والا ایک تو نارمل سے تھوڑا تیز چلتا ہے جسے brisk walking بھی کہتے ہیں۔ دوسرا چلنے والا کسی بھی جگہ پر زیادہ دیر تک نہیں رکتا فوراً ہی دوسرا قدم اٹھا لیتا ہے۔ اب چلنے والے کے پیر اور کوئلوں کے درمیان راکھ آجاتی ہے جو کہ poor conductor ہے تو وہ کوئلوں کی حرارت کو پیر تک پہنچنے ہی نہیں دیتی۔ اس طرح چلنے والا آسانی سے دوسری طرف چلا جاتا ہے۔ اگر کوئلے لکڑی کے بجائے دھات کو ہوں تو چلنے والے کے پیروں میں‌چھالہ نہیں پھوڑے نکل آئیں گے۔

تقریبآ دو ماہ قبل بھی ضلع جعفرآباد میں اس طرح کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ جس کے بعد علماء کی ترجمانی کرتے ہوئے جناب مفتی عبدالرحمٰن رحمانی نے اس طریقے کو غیر اسلامی قراد دیا تھا۔جس ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ رسم آگ پرست مجوسیوں سے لی گئی ہے۔ اور سراسر غیر اسلامی ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ مفتی عبدالرحمٰن رحمانی کا کہنا تھا کہ نبی اکرم نے فتح مکہ کے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ “تمام رسمیں میرے پاؤں کے نیچے روند دی گئی ہیں”۔ اسلام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ کسی بھی سلسلے میں اسلام کی واضح ہدایات موجود ہیں۔ شہادت کا نظام ہے، شہادت یا اقرار کے بغیر جرم کو ثابت کرنا ٹھیک نہیں۔ پاکستان میں فروغ پانے والا یہ طریقہ آگ پرستوں کا ہے۔ یہ عقیدہ توحید کے منافی ہے اور بہت ہی خطرناک ہے۔

لوگوں کی جانب سے اس طر ح کے رسموں کے ذریعے فیصلے کر وانے سے یہ بات واضح بات ہو جاتی ہے کہ ہمارے ملک کے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور انھیں ہمارے معاشرے کے تمام افراد کے لئے قابل قبول بنا نے کےلئے اصلاحات کے عمل کو تیز کر نا ہو گا ، اور معاشرے کے تمام فریقو ں کو قابل قبول قوانین بنانے ہو ں گے۔

اس حوالے سے بی بی سی کی ایک رپورٹ

زمرہ : معاشرہ | 11 تبصرے »