زین الدین

کراچی اور بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت !!!!!

مصنف : zainzf :: بتاریخ 30 Nov 2008


کراچی اور بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت !!!!!


وطن عزیز پاکستان داخلی و خارجی سطح پر سخت بحرانات کا سامنا کئے ہوا ہے، ایک شورش بپا ہے ، چار سو بد نظمی اور غیر یقینی صورتحال نے گھیر رکھا ہے ، سرحد و فاٹا میں باقاعدہ جنگ شروع ہے ، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک پروان چڑھ رہی ہے ، زمین کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں رہا کہ جس سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا جائے۔عروس البلاد کراچی وادی مہران سندھ کا در الخلافہ ہے ،اس بڑے صنعتی و تجارتی شہر پر متحدہ قومی موومنٹ اپنا حق جتاتی ہے ۔ مختلف قسم کی افراتفری، ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت کے گہرے زخم اس شہر نے سہے ہیں لیکن کیا ان زخموں کی ٹھیس اور تکلیف سے فقط شہر کراچی بے چین اور تڑپ رہا ہے ؟ ہر گز نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ کراچی تو انسانوں کا سمندر ہے اگر دور افتادہ کسی تحصیل اور چک میں بھی عدم تحفظ ہو تو اس سے پورا ملک اور اس کے رہنے والے افسردہ غمناک اور مضطرب ہوں گے۔ 1985کے بعد کا کراچی انتہائی بھیانک چہرہ رکھتا ہے ، مردم کشی اور درندگی کی دردناک اوروحشت ناک مثالیں ا س شہر میں قائم ہوچکی ہیں ۔ صوبہ بلوچستان کا اس شہر سے گہرا تجارتی تعلق ہے اس صوبے کے ٹرانسپورٹر،مزدور اورتاجر طبقے کا کراچی کے حالات کے اتار چڑھائو سے براہ راست تعلق ہے وہاں کی نفع و نقصان سے یہاں کے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ نا عاقبت اندیش مفاد پرست حکمرانوں کی مصلحتوں اور ناقص پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے باعث فاٹا سوات میں جس لا حاصل جنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا گیا ہے اس کا دائرہ اب وسیع ہو کر پورے ملک میں پھیل چکا ہے ۔ افغانستان میں موجود امریکہ ، بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ اور اشتراک کار کے باعث ملک کی سلامتی مشکوک ٹھہری ہے ۔ بھارت کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی و صنعتی مرکز ممبئی کے دو بڑے ہوٹلوں سمیت آٹھ مختلف مقامات پر مسلح گروہوں کا بیک وقت حملے کے بعد وزیراعظم من موہن سنگھ،نے قدرے محتاط انداز میں جبکہ بھارتی میڈیااور وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے کھل کر پاکستان کے اس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اورمیڈیا پر الزامات کا طوفان کھڑا کردیا گیا ۔

سوال یہ ہے کہ اسی بھارت نے پاکستان میں کیا کچھ نہیں کیا ؟ بھارت نے سندھ ، سرحد و بلوچستان کے قوم پرستوں کے ساتھ الگ الگ ترجیحات اور مقاصد کے تحت تعلقات قائم کر رکھے ہیں ، موجودہ مذہبی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی عالمی پروپیگنڈے میں یہا ں کے قوم پرستوں کا اتفاق قدرے مشترک ہے تاہم ان کے درمیان قربت عارضی اور مفادات پر مبنی ہے ۔
بلوچ و پشتون قوم پرست اس لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت دور کھڑے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کا تو انداز ہی بہت نرالہ ہے ۔ دراصل بھارت نے ممبئی کے حالیہ واقعہ کے بعد پاکستان میں بھیانک کھیل کی بساط بچھائی ہے اس بازی میں امریکہ کا پورا تعاون انہیں حاصل ہے ۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان قبائلی علاقوں میں جلد مفاہمت اور مذاکرات کا آغاز کرے اور اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرلے۔ ہمارے عسکری قیادت کو اب اس امر کا پوری طرح ادراک ہے کہ قبائلی علاقوں میں ملٹری آپریشن کا سارا فائدہ امریکہ بھارت اور افغان پھٹو حکومت کو حاصل ہورہا ہے اسی ادراک کے تحت عسکری حکام نے بھارت کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی صورت میں قبائلی علاقوں میںتعینات فوجیوں کو ہٹا کر بھارتی سرحد پر لگانے کی دھمکی دی ہے ۔ یہ دھمکی دراصل امریکہ کو بھی ہے جو اس پورے کھیل اور تماشے میں مرکزی کردار کا حامل ہے۔ قبائلی علاقوں بلوچستان میں’’ را ‘‘ملوث ہے ۔

کراچی میں طالبانائزیشن کے شوشہ کا آئیڈیا بھی سرحد پار سے آیا ہے ۔ پچھلے چند دنوںسے کراچی میں نا خوشگوار واقعات نے سر اٹھا رکھا ہے صاف بات ہے کہ طالبانائزیشن کے نام پر ایک مرتبہ پھر نسلی و لسانی فسادات جلائو گھیرائو اور خون ریزی کا ایک طویل بازار گرم رکھنے کی منصوبہ بندی تیار کرلی گئی ہے ، اغیار کی چال پیوست ہے اگر کراچی میں فساد کی چنگاری کو ہوادی گئی تو اس کی ذد میں بلوچستان بھی آجائے گا بالخصوص یہاں کے پشتون حصے میں رد عمل پیدا ہوگا، سرحد کے ساتھ تو اس معاملے کا براہ راست تعلق ہے ۔ 1985ء کے واقعات سے کوئٹہ، چمن ،پشین ، ژوب ، لورالائی اور دیگر علاقوں کے لوگ متاثر ہوئے تھے ۔ یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں کراچی اور محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ اس وقت ان کی چھابڑیاں،ہوٹل ، ریڑھیاں نذر آتش کی گئی تھیں،بے گناہ لوگ قتل ہوئے اوراب حالیہ واقعات کے بعد بھی بہت سارے لوگ اپنا کاروبار چھوڑ کر اپنے گھروں کو آچکے ہیں۔ بلوچستان کی پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ ’’ کراچی میں ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں کی جانب سے پشتون عوام خصوصاً ہوٹل کے کاروبار سے منسلک پشتون افراد کے خلاف دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں انہیں کراچی سے بے دخل کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے اور گزشتہ دو عشروں سے کراچی میں پشتون عوام ، ٹرانسپورٹروں اور محنت مزدوری کرنے والے بے گناہ افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہیں ، ان کے مطابق لندن میں ہونے والی آل پارٹی کانفرنس میں ایم کیو ایم کو متفقہ طور پر دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر کیا لہٰذا مرکزی و صوبائی حکومتیں ان کے خلاف کارروائی کریں ۔‘‘
اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں خواہ کوئی بھی شخص ہو ا، کی جان و مال عزت و آبرو محفوظ نہیں، شہر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، سیاسی کارکنوں کو قتل کیا جارہا ہے تاہم نسلی و لسانی فسادات اس تناظر میں ایک خوفناک اضافہ ہے ۔اور طالبانائزیشن کا خوف دراصل امریکہ اور بھارت کی ایماء پر پھیلایا گیا ہے ۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس ضمن میں تشویشناک منظر کشی کی ہے ، عمران خان کوئٹہ کے دورے پر آئے ہوئے تھے ،زلزلہ سے متاثرہ علاقے زیارت کا دورہ کیا ، کوئٹہ میں اے پی ڈی ایم کے کنوینر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی ، وکلاء اور نیوز کانفرنس سے خطاب کیا ۔ کوئٹہ کی ضلعی کچہری میں وکلاء سے اپنے خطاب میں عمران خان نے توجہ دلائی کہ کراچی میں ایم کیو ایم شہریوں کو مسلح کررہی ہے اور گزشتہ آٹھ سالوں سے اب تک اسلحہ کے چالیس ہزار لائسنس جاری کئے گئے ہیںاور اب طالبانائزیشن کے نام پر پشتو مہاجر اقوام کو لڑایا جارہا ہے اور اس خون ریزی کا الطاف حسین فائدہ اٹھائیں گے ۔ یہ واضح رہے کہ کراچی میں اگر پشتونوں اور مہاجروں کے پاس اسلحہ کی بہتات ہے تو یہ خلاف قانون عمل ہے ۔حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بلا تمیز و تفریق شرپسندوںکا ہاتھ روکیں اور ان کو شہر کا امن و سکون غارت کرنے اور کھل کھیلنے کی اجازت نہ دے اور قانون کی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے بہر صورت اقدامات اٹھائیں۔
ممبئی اور کراچی کے حالیہ واقعات کے بعد حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینی ہوگی تاکہ خارجی قوتیں اپنے ناپاک عزائم میں سرخرو نہ ہوں

زمرہ : سیاست, پاکستان | 8 تبصرے »