امریکی صدر بش کے لیے الوداعی تحفہ
مصنف : zainzf :: بتاریخ 15 Dec 2008
“”دس نمبر کا جوتا اور بش کا منہ “”
“”"”بغداد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی نے امریکی صدر بش پر جوتے برسادیئے تاہم نشانہ خطا ہوگیا۔
ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پریس کانفرنس کے بعد عراقی وزیر اعظم نور المالکی سے مصافحہ کررہے تھے کہ قریب ہی تیسری لائن میں بیٹھے عراقی صحافی نے امریکی صدر کو برا بھلا کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے یک کے بعددیگرے2جوتے پھینکے تاہم امریکی صدر جوتوں سے محفوظ رہے ۔پہلا جوتے سے صدر بش نے جھک کر اپنے آپ کو بچایا جبکہ دوسرا جوتا ان کےسراو پر سے گزر گیا اور امریکی پرچم کو جالگا ۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے بھی جوتے لگنے سے بچانے کی کوشش کی ۔واقعے کے فوری بعد عراقی صحافی کو سیکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر لیااور وہاں سب کے سامنے مذکورہ صحافی کو سخت تشدد کانشانہ بنایا ۔
عراقی صحافی کا کہنا تھا کہ جوتے بش کے لیے الوداعی تحفہ تھا ۔جبکہ صدر بش نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ جوتے پھینکنے کا کیا مقصد تھا ؟اور جوتا پھیکنے والا کیا چاہتا تھا۔ انہوںنے مذاق میںکہا کہ وہ صرف یہ جانتے ہیںکہ جوتا دس نمبر کا تھا ۔ “”"”"
*****************
امریکی صدر بش الوداعی دورے پر عراق گئے تھے اور یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ ایک محفوظ اور مستحکم عراق چھوڑ کر جارہے ہیں تاہم ان کی امیدوں پر پانی پھیر گیا ۔ پانچ سال قبل جب عراقی صدر صدام حسین کا مجسمہ گرایا گیا تھا تو اس پر بھی امریکی افواج نے لوگوں سے اس طرح جوتے برسائے۔ آج بش خود نشانہ بن گئے کاش کے نشانہ ٹھیک لگتا اور اس کا سرخ منہ اور سرخ ہوجاتا ۔
اور صحافی بھی بڑا ہی باہمت تھاجس نے دنیا کے سامنے اپنے ملک کے عوام کا خون بہانے والے ظالم شخص سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔
آج برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون بھی اسلام آباد آئے تھے ان کو بھی اس طرح کا کوئی تحفہ مل جاتا تو کیا ہی بات ہوتی۔
مجھے اس بات کی بھی فکر ہورہی ہے کہ اب پریس کانفرنس سے پہلے صحافیوں کے بھی جوتے اتروائے جائیں گے ۔
زمرہ : خبریں | 10 تبصرے »
