مصنف : zainzf :: بتاریخ 14 May 2009
یہ پی ٹی اے کی پریس ریلیز ہے جو مجھے بذریعہ ای میل موصول ہوئی
———-
متاثرین کی امداد کے لئے ایس ایم ایس سروس کا اجرا
متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد کو ملک کے مختلف حصوں میں جگہ دینے کے لئے’’وزیرِ اعظم خصوصی فنڈ برائے متاثرین دہشت گردی‘‘ قائم کیا گیا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کے مطابق سیلولر موبائل انڈسٹری کے تعاون کے ساتھ متاثرین کی امداد کے لئے 1199 ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سروس کے ذریعے تمام موبائل آپریٹرز کے صارفین FUNDلکھ کر 1199پر ایس ایم ایس بھیج سکیں گے۔ ہر ایس ایم ایس پر 10/-روپے کی کٹوتی ہو گی جبکہ اکٹھی کی گئی رقم کو’’وزیرِ اعظم خصوصی فنڈ برائے متاثرین دہشت گردی‘‘ میں جمع کروا دیا جائے گا۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد 1199 پر ایس ایم ایس بھیج کر ’’وزیرِ اعظم خصوصی فنڈ برائے متاثرین دہشت گردی‘‘ کے لئے مالی معاونت کر سکتے ہیں تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے۔
——————————————————-
SMS Service Started to Collect funds for IDPs
In order to accommodate the Internally Displaced Persons (IDPs) in different areas of Pakistan, the “Prime Minister’s Special Fund for Victims of Terrorism” has been established. Pakistan Telecommunication Authority(PTA), in collaboration with cellular mobile industry, has started the 1199 SMS Service for the welfare of these Internally Displaced Persons. Through this service, subscribers of all mobile operators would send an SMS to 1199 by writing FUND. Each SMS would be charged @ Rs.10/- and the amount thus collected would be deposited in the “Prime Minister’s Special Fund for Victims of Terrorism” for Internally Displaced Persons. It is therefore appealed to people from all walks of life to come forward and contribute to this national cause by sending SMS to 1199 and thus contributing to the “Prime Minister’s Special Fund for Victims of Terrorism” for the Internally Displaced Persons.
زمرہ : معاشرہ, پاکستان | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »
مصنف : zainzf :: بتاریخ 16 Dec 2008
کل بلوچستان کے ضلع نصیرآباد سے ایک خبر ملی کہ
’”تحصیل ڈیرہ مراد جمالی میں ایک شخص نے آگ کے دہکتے انگاروں میں چل کر سیاہ کاری سے بے گناہی ثابت کر دی ۔بیس فٹ لمبے کھڈے میں بیس من لکڑیاں جلائی جرگہ نے ملزم کو بے گناہ قرار دیا گیا ۔
دس سال قبل نصیرآباد کے رہائشی محمد عثمان بگٹی کو ایک عورت کے ساتھ سیاہ کار(کاروکاری) کا الزام دیا گیا تھا پیر کے روز ڈیرہ مراد جمالی کے قریب منگولی میں وڈیرہ غلام قادر بگٹی کی سربراہی میں ایک گرگہ منعقد ہوا جس میں نصیرآباد کے رہائشی محمد عثمان بگٹی کو بیس فٹ لمبے کھڈے میں بیس من لکڑیاں جلا کر آگ کے انگارے تیار کئے گئے بعد میںملزم محمد عثمان بگٹی کو آگ کے انگاروں سے گزار گیا تھا جبکہ منگل کے روز جرگہ کے سربراہ وڈیرہ غلام قادر بگٹی نے فیصلہ سنایا کہ ملزم محمد عثمان بگٹی بے گناہ ہے ۔
‘‘‘
بلو چستان میں اکثر و بیشتر ایسا ہو تا رہتا ہے لوگ دہکتے انگاروںسے گزر کر اپنی بے گناہی بھی ثابت کردیتے ہیں ،آگ سے گزرنے کے اس عمل کوبلو چی زبان میں ’’چر بیلی ‘‘کا نام دیاگیا ہے ،چر بیلی کا اہتمام اُس صورت میں کیا جاتا ہے جب کسی پر قتل ، چوری، ڈکیتی یا ایک لاکھ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے حوالے سے شک کیا جا تا ہو اور دو فریقو ں کے درمیان تنا زعہ کا فیصلہ ہو جائے تاہم متاثرہ فر یق مطمئن نہ ہو ،اور نامزد ملزم کے بارے میں شک رکھتا ہو، اور مزید خو ن ریزی ہو نے کا خطرہ ہو ، تو مصالحت کر انے کی کو شش کرنے والاشخص چر بیلی کی تجویز دیتا ہے جس پر دونو ں فر یقین پہلے آپس میں صلاح و مشورہ کر تے ہیں اور بعد میںدونو ں فر یقین مقام کا انتخاب کر کے چر بیلی کا اہتمام کر نے والے لوگوں سے رابطہ کر کے اُن کو بیس ہزار روپے دے کر چربیلی کے انتظام کی گزارش کر تے ہیں ۔
چر بیلی کا اہتمام کر نے والے افراد جگہ کا انتخاب کر کے پہلے پندر ہ فٹ تک لمبا اور ڈیڑھ فٹ تک گہرا کھڈا کھو ددیتے ہیں پھر اس مقصد کے لئے پندرہ من تک صاف ستھری لکڑی خرید کر لائی جاتی ہے پھر لکڑی کھڈے میں ڈال کر اس کو آگ لگائی جاتی ہے لکڑی مکمل طور پر جلنے کے بعد انگار ے بن جا تی ہے، پھر ایک امام یا کو ئی بھی نیک سیر ت شخص ہا تھ میں کلا م پا ک لے کر اس دُعا کے ساتھ انگاروں کے گردسات چکر لگا تا ہے کہ ‘‘اے رب العا لمین ، ان نگاروںکو حکم دے دو کہ نامزد ملزم اگر اس واقعہ میں ملو ث ہے تو اس کے پائوں جلائے، اگر نہیں ہے تو اس کو بخیر و خیر یت نکال دے۔ ’’ جس کے بعد ملزم کو انگاروں پر کم از کم سات قدم رکھ گزارہ جاتا ہے اور آٹھویں قد م سے پہلے کھڈے کے دوسری طرف کھڑے لوگ اُ س شخص گود میںلے کر اُسی وقت ذبح کئے گئے بکرے کے تازہ خون میں اس کے پائو ں رکھ دیتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد اسے کو کم ازکم تین یا چار گھنٹے کے لئے آرام کا موقع دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد ملزم کے پائو ں کو چیک کیا جا تا ہے اگر پائوںپر کو ئی چالہ پڑ گیاہو تو اسے قصوار ٹھہرا یا جا تا ہے اور ملزم یا اس کے لواحقین کو جر م کے نو عیت کے مطابق سزا یا جرمانہ ادا کر نا پڑ تا ہے ، اگر چالہ نہ پڑا ہو تو ملزم کو بے گناہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ دعویٰ کرنےوالے فر یق کو چر بیلی کے رسم کے تمام اخراجات اور جر مانے کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور اس کے بعد دُعا خیرمانگی جا تی ہے اور فر یقین کے درمیان تنازعہ ختم ہوجاتا ہے ۔
بلو چستان میں ڈیرہ بگٹی ، جعفرآباد ، نصیر آباد ، بو لان ، سبی، جیک اباد اور سندھ کے بعض اضلاع میںبلو چ قبائل اس رسم کے ذریعے اپنے فیصلے کر واتے ہیں، اسی طرح پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی یہ رسم رائج ہے ۔
یہ رسمیںنہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی ہوتی ہیں جنہیں Firewalking کہا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق جب کوئلہ خوب دہک جاتا ہے تو اس پر راکھ کی ایک تہہ آجاتی ہے۔ یہ تہہ carbon پر مشتمل ہوتی ہے۔ carbon ایک عدد poor conductor ہوتا ہے۔ poor conductor وہ ہوتے ہیں جو کرنٹ یا حرارت کو بآسانی دوسری جگہ منتقل نہ کرسکیں۔ اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ کوئلے پر چلنے والا ایک تو نارمل سے تھوڑا تیز چلتا ہے جسے brisk walking بھی کہتے ہیں۔ دوسرا چلنے والا کسی بھی جگہ پر زیادہ دیر تک نہیں رکتا فوراً ہی دوسرا قدم اٹھا لیتا ہے۔ اب چلنے والے کے پیر اور کوئلوں کے درمیان راکھ آجاتی ہے جو کہ poor conductor ہے تو وہ کوئلوں کی حرارت کو پیر تک پہنچنے ہی نہیں دیتی۔ اس طرح چلنے والا آسانی سے دوسری طرف چلا جاتا ہے۔ اگر کوئلے لکڑی کے بجائے دھات کو ہوں تو چلنے والے کے پیروں میںچھالہ نہیں پھوڑے نکل آئیں گے۔
تقریبآ دو ماہ قبل بھی ضلع جعفرآباد میں اس طرح کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ جس کے بعد علماء کی ترجمانی کرتے ہوئے جناب مفتی عبدالرحمٰن رحمانی نے اس طریقے کو غیر اسلامی قراد دیا تھا۔جس ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ رسم آگ پرست مجوسیوں سے لی گئی ہے۔ اور سراسر غیر اسلامی ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ مفتی عبدالرحمٰن رحمانی کا کہنا تھا کہ نبی اکرم نے فتح مکہ کے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ “تمام رسمیں میرے پاؤں کے نیچے روند دی گئی ہیں”۔ اسلام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ کسی بھی سلسلے میں اسلام کی واضح ہدایات موجود ہیں۔ شہادت کا نظام ہے، شہادت یا اقرار کے بغیر جرم کو ثابت کرنا ٹھیک نہیں۔ پاکستان میں فروغ پانے والا یہ طریقہ آگ پرستوں کا ہے۔ یہ عقیدہ توحید کے منافی ہے اور بہت ہی خطرناک ہے۔
لوگوں کی جانب سے اس طر ح کے رسموں کے ذریعے فیصلے کر وانے سے یہ بات واضح بات ہو جاتی ہے کہ ہمارے ملک کے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور انھیں ہمارے معاشرے کے تمام افراد کے لئے قابل قبول بنا نے کےلئے اصلاحات کے عمل کو تیز کر نا ہو گا ، اور معاشرے کے تمام فریقو ں کو قابل قبول قوانین بنانے ہو ں گے۔
اس حوالے سے بی بی سی کی ایک رپورٹ
زمرہ : معاشرہ | 11 تبصرے »