زین الدین

محفوظہ برائے 'سیاست' موضوع

امریکا کا اگلا ہدف کوئٹہ/بلوچستان؟

مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Mar 2009

امریکی اخبارنیو یارک ٹائمزمیں اٹھارہ مارچ کو ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح‌ میں‌طالبان کی موجودگی کا دعویٰ‌ کیا گیا ہے ۔

’’امریکی صدرباراک اوباما اور اس کے سلامتی کے مشیر امریکہ کی خفیہ جنگ بلوچستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہے ہیں ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پر دو اعلیٰ سطحی رپورٹس وائٹ ہائوس بھیجی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان رہنما ملا عمر اور دیگر اعلیٰ طالبان قیادت کے کوئٹہ کے اندر اور گردونواح میں روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں لہٰذا خفیہ جنگ ڈرون حملوں کا دائرہ ان علاقوں تک پھیلایا جائے ۔بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیاں بلوچستان کے بعض علاقوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں اس لیے طالبان اور القاعدہ کے ان مشتبہ ٹھکانوں پرجاسوس طیاروں سے حملے ضروری ہیں امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان اورافغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کررہی ہے اس لیے اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر اوران کے ساتھیوں کی سرگرمیاں کوئٹہ کے اردگرد کے علاقوں میں بہت بڑھ گئی ہیں جو مستقبل میں امریکیوں کیلئے خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے باعث طالبان اور القاعدہ کے اہم رہنمائوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو اس بات کا علم ہے کہ اگر میزائل حملے یا کمانڈو ایکشن کیا گیا تو بہت سے بے گناہ شہری ان حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق صدر اوبامہ نے ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن خدشہ ہے کہ وہ ان تجاویز پر عمل کرینگے ۔تاہم امریکی کانگریس کے پندرہ ارکان نے پاکستان پر ڈرون حملوں اور افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے صدر باراک اوبامہ سے فیصلوں پرنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔’’اب تک سی آئی اے کے زیر نگرانی ڈرون حملے صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود تھے اور انہیں اب تک بلوچستان تک وسعت نہیں دی گئی تھی بلوچستان تک ڈرون حملوں کو وسعت دینے کے لیے امریکی انتظامیہ اس لیے بھی ڈرتی ہے کہ چونکہ بلوچستان ایک بندوبستی صوبہ ہے اور وہ براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کے ساتھ شدید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ‘‘

بارک اوباما کے صدر کے عہدے سنبھالنے کے بعد اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پانچ حملے (اندازاً)ہوچکے ہیں ۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سابق صدر بش کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔حکومت تبدیل ہونے کے باوجود اس خطے کےلئے امریکی پالیسیوں میںبھی کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ۔اب ان حملوں کو بلوچستان تک وسعت دینے پر غور ہورہا ہے ۔امریکہ کوئٹہ ،لورالائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین اور قلعہ عبداللہ سمیت ضلع نوشکی و خاران اور چاغی میں بھی اس نوعیت کی کارروائی عمل میں لاسکتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئے ذرائع ابلاغ پر پروپیگنڈہ مہم چلائی جاچکی ہے ۔ لوگوں نے لکھا ہے کہ کوئٹہ میں طالبان کے ٹھکانے موجود ہیں۔ ملکی ذرائع ابلاغ بھی اس کام میں پیش پیش ہے ۔ چند ہفتے قبل ملک کے انگریزی اخبار نے کوئٹہ شہر کے وسط میں واقع ریسٹورنٹ (بیگ سنیک بار ) سے متعلق بے بنیاد رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی دھمکیوں کے بعد ریسٹورنٹ میں خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیاگیا ہے ۔ اس رپورٹ کی خود ریسٹورنٹ کے مالک نے تردید کی تھی۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے بعد کوئٹہ کے عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا ہے کہ وہ حملوں سے قبل ہی نقل مکانی کی سوچ رہے ہیں ۔ دوسری طرف ملک کے بے حس حکمران چین کی بانسری بجاکر سابقہ بے شرمی کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔ وزیر اطلاعا ت (قمر الزماں کائرہ) یہ بیان دے رہے ہیں کہ ’’انہیں امید ہے کہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار بلوچستان تک نہیں بڑھایا جائے گا‘‘۔جبکہ وزارت خارجہ نے رپورٹ کو قیاس آرائی کہہ کر تبصرہ کرنے سے ا نکار کردیا ہے جیسے امریکہ نے پاکستان میں پہلے کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔صوبہ سرحد اورقبائلی علاقوں میں جس دیدہ دلیری سے ڈرون حملے کے ذریعے ملکی سرحدوں کی پامالی اور خود مختاری کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، یہ سب کچھ انہیں نظر نہیں آرہا ۔

اس کے برعکس بلوچستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے امریکی ارادوں کے خلاف بروقت آواز اٹھائی ہے ۔ بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے ۔ اسمبلی اجلاس میں ارکان نے تجویز دی کہ صوبے کی سیاسی جماعتیں اور قبائلی عمائدین کل جماعتی کانفرنس بلاکر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ دنیا پر یہ واضح کیا جاسکے کہ بلوچستان کے عوام کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور صوبے کی تمام بلوچ و پشتون قوم پرست اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھی اس ضمن میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے حملوں کی صورت میں بھر پور مزاحمت کی دھمکی دی ہے۔

محل وقوع کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا بہت اہمیت کا حامل صوبہ ہے جو ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے ۔افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں قندھار ، ہلمند، زابلا ور نمروز کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق بلوچستان میں چار لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور ان کا صرف ایک چوتھائی حصہ بارہ کیمپوں میں رہائش پذیر ہے جبکہ باقی تین لاکھ شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔بلوچستان اور افغانستان کے درمیان زیادہ تر آمدروفت چمن کے سرحدی علاقے سے ہوتی ہے جو خیبر ایجنسی کے بعد دوسر ابڑا اہم زمینی راستہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق چمن سے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد آتے جاتے ہیں جبکہ بارہ سے پندرہ سو تک گاڑیاں بھی نقل و حمل کرتی ہیں۔ پاکستان نے دو سال قبل سیکورٹی کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت کی مانیٹرنگ کے لئے بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا اور سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لئے کمپیوٹرائزڈ راہداری جاری کرنا شروع کردیا تھا جو افغان حکام کی شدید مخالفت کے بعد ختم کردیا گیا گویا سرھدوں کو بند کرنے اور سختی کرنے کے ہر قدم کی افغان حکومت نے مخالفت کی ہے ۔ ان کی آواز میں یہاں کے پشتون قوم پرستوں کی آواز بھی شامل ہوجاتی ہے ۔ غرضیکہ امریکی ممکنہ ڈرون حملوں کی صورت میں وسیع کاروبار کو بھی سخت دھچکا لگے گا ۔

امریکی جاسوس طیارے ڈرون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچستان کے ضلع واشک میں واقع شمسی ایئر پورٹ سے اڑ کر قبائلی علاقوں میں ہدف کو نشانہ بناتی ہیں۔اس کی تصدیق ایک اہم امریکی عہدے دار نے بھی کی تھی ۔ پاکستانی حکام اب تک تو اس کی تردید کررہے ہیں لیکن وقت آنے پر یہ بھی معلوم ہوجائے گا ۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں ڈرون حملوں کے لئے شمسی ایئر پورٹ بہت قریب ہے ،قندھار اور کابل بھی اس مقصد کے لئے چنداں فاصلے پر نہیں ہے ۔شمسی ایئر بیس بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے جنوب مغرب میں تقریباً سو کلو میٹر دور ضلع واشک میں واقع ہے اسے انیس سو چھیاسی میں شیخ زید بن سلطان النہیان نے شکار کی غرض سے تعمیر کیا تھا ۔ ضلع واشک کا علاقہ’’ شمشی‘‘ پہلے ضلع خاران کا حصہ تھا تاہم دو ہزار پانچ میںواشک کو ضلع خاران سے علیحدہ کرکے ا لگ ضلع کا درجہ دیدیا گیا ۔ عرب شیوخ یہ ایئر پورٹ پہلے خاران شہر کے قریب بنانا چاہتے تھے تاہم بلوچ تنظیموں کے احتجاج کے بعد یہ ایئر پورٹ واشک کے علاقے شمشی میں بنایا گیا ۔ ایئر پورٹ پر کام انیس سو نوے میں مکمل ہوا۔ کئی کلو میٹر پر پھیلے ایئر بیس کے مغرب میں تقریباً دو سو کلو میٹر دور ہمسایہ ملک ایران کی سرحد واقع ہے ۔ شمشی ایئر بیس کے ایک جانب ریگستان اور ایک طرف پہاڑی علاقہ ہے اس کے مشرق میں ضلع قلات اور ضلع خضدار جنوب میں جنوب مشرقی ضلع پنجگور اور ضلع آواران جبکہ شمال مغرب میں ضلع خاران اور ضلع چاغی واقع ہے۔ نائن الیون کے بعد شمسی ایئر پورٹ امریکی فوج کو دیدیاگیا اسی دوران ایئر بیس کے رقبے میں مزید اضافہ کردیا گیا اور اس کے ارد گرد باڑ لگائی گئی ۔ شمسی ایئر بیس کے قریب رہنے والے کئی گھروں کو بیس سے دور منتقل کردیا گیا جہاں ان کے لیے نئے گھر تعمیر کئے گئے۔ مقامی افراد کے مطابق شمشی ایئر بیس جسے اب شمسی کہا جاتاہے رات نو بجے سے بارہ بجے تک کسی بھی فرد کو اس ایئر بیس کی حدود یا قریبی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس ایئر پورٹ کے قریب رہنے والے افراد کو اپنے گھروں تک جانے کے لیے بھی پاکستانی سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر مکمل تلاشی اور کوائف کے اندراج کے عمل کے بعد جانے کی اجازت دی جاتی ہے بلکہ کئی دفعہ رات کے اوقات میں وہاں کے مقامی لوگوں کو باڑ کے اندر اپنے گھروں میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اکثر رات کے وقت اور کبھی کبھار دن کے اوقات میں بڑے بڑے جہاز وہاں سے اڑتے اور اترتے نظر آتے ہیں تاہم اس علاقے کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر غلطی سے کوئی چرواہا اس طرف جائے بھی تو اسے کئی دن کی پوچھ گچھ کے بعد رہا کیا جاتاہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ امریکی ڈرون مسلسل حملے کررہے ہیں ۔ ہم اور ہمارے بے بس اوراپاہج حکمران طبقہ دھڑلے سے احتجاج بھی نہیں کرپارہے نہ ہی امریکہ کو ہمارے احتجاج اورخفگی کی کوئی پرواہ ہے ۔ملک کو خطرات لاحق ہیں اگر عوام ججز کی بحالی کے لئے لانگ ماچ کی طرح سڑکوں پر نکل آئیں تو یقینا بے دست و پا حکمران طبقہ حرکت میں آجائے گا اور شاید عوام کے احتجاج اور قوت کے سامنے بے بس ہوکر امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے پر شاید ہو۔

زمرہ : حالات حاضرہ, خبریں, سیاست | 4 تبصرے »

سوات کے بعد بلوچستان؟؟؟

مصنف : zainzf :: بتاریخ 08 Feb 2009

جلال نورزئی
گزشتہ پیر (دو فروری2009ء ) بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کوئٹہ آفس کے سربراہ جان سولیکی کو نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا۔ اس دوران ملزمان کی فائرنگ سے ان کا ڈرائیور سید ہاشم رضاجاں بحق ہوا۔

یو این ایچ سی آر بلوچستان کے سربراہ جان سولیکی  کی فائل فوٹو

جان سولیکی امریکی شہری ہیں اور کوئٹہ میں دو سال سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ واقعہ کے روز جان سولیکی چمن ہائوسنگ اسکیم میں واقع اپنی رہائشگاہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع اپنے د فتر جارہے تھے کہ انہیں منصوبہ بندی کے تحت اٹھالیا گیا۔ یوں تو وطن عزیز پاکستان اس وقت سخت آزمائش سے دو چار ہیں بلخصوص قبائلی علاقوں اور سوات میں جنگ بپاہے ،ملک کو بھاری نقصان کا سامنا ہے ، قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور نا معلوم کشت و خون کا یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ ۔ گویا اس نوعیت کے حالات اور واقعات نامانوس و انہونی نہیں ہیں۔ بلوچستان میں پہلے بھی ساحلی شہر گوادر میں تین چینی انجینئرز کو قتل کیاجاچکا ہے ۔ صنعتی شہر حب میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا جاچکا ہے تاہم جان سولیکی کا اغواء ایک انوکھا اضافہ ہے جو کہ باعث تشویش سانحہ ہے ۔ شاید ایک اور آزمائش نے ہمیں آ گھیر لیا ہے ۔

جائے وقوعہ

فی الوقت جان سولیکی کا اغواء ایک معمہ بنا ہوا ہے ۔ ہفتہ کے روز(فروری کو)ایک نئی بلوچ تنظیم (بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ) نے میڈیا کے دفاتر فون کرکے اقوام کے اہلکار کو اٹھانے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور توجیہ یہ پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ بلوچستان میں گمشدہ و گرفتار 141خواتین سمیتہزار سے زائد بلوچ افراد کو رہا کرائے اور بلوچستان کے مسئلے کو جینوا کنونشن کے تحت حل کیا جائے ۔
ٹیلیفونک تو دعویٰ تو کرلیا گیا ہے لیکن اس تنظیم کا نام اسی دن منظر عام پر آیا ہے جس دن جان سولیکی کے اغواء کا دعویٰ کیا گیا ۔اس سے قبل اس نام کی کوئی تنظیم نہ سرگرم تھی اور نہ ہی اس نام سے کسی تنظیم نے کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی کی ہے لہٰذا تنظیم کی وجود کی صحت مشکوک ہے اسی لیے فوری طور پر ان کے دعوے پر باور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دیگر سرگرم بلوچ اور معروف بلوچ مسلح مزاحمتی تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ری پبلکن آرمی نے بھی اس واقعہ سے لا علمی کا اظہار کیا ہے جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیوروغ بلوچ نے ہفتہ کے روز کوئٹہ چھائونی پر چار راکٹ داغنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کے مذکورہ نئی بلوچ تنظیم سے متعلق استفسار پر یہ کہا کہ اس تنظیم کا نہ ان کا تعلق ہے اور نہ ہی اس سے پہلے کبھی اس کا نام سنا ہے ۔ چنانچہ ا س بات کا فیصلہ تو آئندہ دنوں پر موقوف ہے کہ جان سولیکی کو کس انتقام کے تحت کس گروہ نے اغواء کر لیاہے ۔
سرِ دست ان سطور میں ہم قیاس و گمان اور معروضی حالات کی بنیاد پر تجزیے کا سہارا لے سکتے ہیں جو کہ غلط بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ بلوچستان کوجن حالات کا سامنا ہے ، حکومت سے متعلق جن رویوں کا اظہار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اس سے باآسانی یہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ جان سولیکی کا اغواء بلوچ مزاحمت کاروں کا مقصد ہی نہیں ہے چونکہ ان کے احتجاج اور مزاحمت کا دائرہ حکومت پاکستان تک محدود ہے ۔بلوچ مزاحمتی تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان نے میڈیا کے نمائندوں سے نامعلوم مقام سے ٹیلیفونک گفتگو میں جان سولیکی کے اغواء کے واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ۔ چنانچہ اب یا تو جان سولیکی کو جرائم کے کسی پیشہ ور گروہ نے اغواء کیا ہے جن کا مطالبہ ممکن ہے مال و زر کی صورت میں سامنے آئے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا بلوچستان میں اس قدر مضبوط جرائم پیشہ گروہ وجود رکھتاہے جو اس قدر اہم شخصیت پر ہاتھ ڈالیں؟۔ جس کے اغواء کے بعد پوری دنیا میں اضطراب پھیل گیا چہ میگوئیاں ہورہی ہیں اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ پاکستانی حکومتی مشینری حرکت میں آگئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شدید رد عمل کا اظہار کی اہے ۔ بہر حال ہم اس امکان کو یکسر رد بھی نہیں کرسکتے ۔ تیسرا پہلو طالبان کا ہے ۔ افغانستان میں اس وقت مزاحمت ہورہی ہے جس میں امریکہ اور افغان مجاہدین متحارب ہے ۔ یہ مزاحمت پاکستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیل گئی ہے ۔ چونکہ جان سولیکی امریکی شہری اور پھر اقوام متحدہ کے بڑے عہدے دار کے طو پور رفاعی ادارے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس تناظر میں ایک واضح نقشہ جو ذہن میں تازہ ہوتاہے وہ گزشتہ سال کے اوائل میں بلوچستان کے ضلع قلہ سیف اللہ میں پاک افغان سرحدی علاقے میں معروف طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کے چھوٹے بھائی منصور داد اللہ کے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کا ہوسکتا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جان سولیکی کے بدلے منصور داد اللہ اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے آئے کیونکہ ملا داد اللہ کی ہلاکت کے بعد ان کے حصے کی ذمہ داریاں منصور داد اللہ کو سونپ دی گئی تھی اور طالبان تحریک میں منصور داد للہ کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ حتیٰ کہ بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام کے جلسوں میں منصور داد اللہ آڈیو تقاریر سنائی جاتی تھی ۔ بہر حال تادم تحریر صورتحال غیر واضح ہے ۔

لیکن پھر بھی یہ امر پیش نظر رہے کہ بلوچستان کے شمالی علاقوں بشمول کوئٹہ میں طالبنائزیشن کا واویلا شروع کیا جاچکا ہے ۔ بعض ’’یاروں‘‘ نے اپنے مضامین میں یہاں تک لکھا ہے کہ کوئٹہ کاروباری لوگوں کو اپنے ریسٹورانوں میں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی جگہ بند کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں اس میں بطور خاص کوئٹہ کی اہم شاہراہ جناح روڈ پر واقع بیگ سنیک بار کا حوالہ دیا گیا ہے اور وہ تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جس میں یہ تحریر واضح ہے کہ خواتین کا اندر آنا منع ہے ۔ حالانکہ اس ریسٹورنٹ کا مالک اس تصور کر رد کرتا ہے ۔ اول تو ان کا کہنا ہے کہ ان کے ریسٹورنٹ میں مخصوص بالائی حصے میں تعمیراتی کام ہورہا ہے ۔ دوئم اگر ایک خاتون آتی ہے تو اس سے دس مرد گاہگ چلے جاتے ہیں لہٰذا یہ اقدام کاروباری نقطہ نظر سے بھی اٹھایا گیا ہے ۔ البتہ بیگ سنیک بار کے گرائونڈ پوریشن میں بیٹھنے کی خواتین پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ طالبان کوئی مخفی گروہ نہیں ہے ۔ اچھے ہو یا برے ، ان کے مقاصد ،ترجیحات اور اہداف واضح ہیں ۔ لہٰذا خفیہ پرچیوں یا کسی کی جانب سے ٹیلی فون کالز پر یقین کرنا قبل از وقت حماقت ہے۔
جان سولیکی کے اغواء کے ضمن میں چوتھے پہلو میں یہ عنصر بھی شامل کیا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ پاکستان کے اندر امریکہ نے اپنے اہداف پانے کا آغاز کردیا ہے ۔ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستانی حدود میں لوگوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا جاسوسی نیٹ ورک بھی دن بدن پھیل رہا ہے ۔ دنیا کو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ دراصل پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ اور پناہ گاہ ہے اور اس مبینہ دہشت گردی کے خلاف ایک لاکھ کے قریب پاکستانی افواج حالاتِ جنگ میں ہے لیکن امریکہ “Do More” کا متقاضی ہے ۔ پاکستان کو دراصل اس جنگ کا اگر کوئی صِلہ ملا ہے تو وہ یہ ہے کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔ چانچہ ہم ان سطور میں اس اندیشہ کا اظہار کرتے ہیں کہ کہیں جان سولیکی کا اغواء عالمی چال بازوں اور شاطروں کا کیا دھرا نہ ہو ۔ تاکہ پاکستان کو مزید بدنام کیا جاسکے اور اس کی رٹ ختم قرار دیا جاسکے ۔ اور یہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکے کہ اب مزید پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے عاجز آچکی ہے ۔ چنانچہ یہ کام ہم خود ہی کیوں نہ انجام دیں۔
ایسے ہی خدشات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے برطانوی خبر رساں ادارے سے انٹرویو میں کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سوات جیسے حالات پیدا کرنے کے بہانے تلاش کئے جارہے ہیں۔ مولانا واسع کے مطابق ’’ان‘‘ لوگوں کے ارادے بلوچستان کے لیے بھی خراب ہیں کیونکہ اس طرح کی کارروائیاں خود ہی کی جاتی ہیں ۔ اگر امریکہ مخالف قوتوں نے یہ کارروائی کی ہوتی تو اب تک کسی نہ کسی نے ذمہ داری قبول کرلی ہوتی۔ مولانا واسع کا کہنا ہے کہ اب کچھ دنوں بعد اس ادارے کے سربراہ کو منظر عام پر لے آئیں گے اور پھر کہیں گے کہ کامیاب مذاکرات کے بعد انہیں بازیاب کرالیا گیا ہے ‘‘۔کچھ دن قبل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کیا جہاں انہوں نے اس حوالے سے خاص ذکر کیا کہ ان کی جماعت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر پشتون علاقوں کو سوات بننے نہیں دے گی۔ معلوم نہیں کہ محمود خان اچکزئی نے یہ اشارہ کیوں کیا ؟ ان کا مطمع نظر کیا تھا۔ آیاں یہ ابہام کسی واقعے کے بعد ہوا کہ یہاں بقول سامراجی اور استعماری ٹولوں کے طالبانائزیشن کہاں پنپ رہی ہے ۔ بہر حال یہ وضاحت محمود خان اچکزئی کے ذمے ہے ۔ کہیں اگر انہیں موقع ملے تو ضرور اس حوالے سے وضاحت کریں۔ بہر حال ہم اتنا ضرور کہیں گے کہ اگر اس ملک کو مذہبی انتہاء پسندوں سے خطرہ ہے تو اتنا ہی خطرہ لبرل اور سیکولر انتہاء پسندوں سے بھی ہے جو اپنی تحریر،تجزیوں ، خیالات اور احتجاج کے ذریعے سامراج اور استعمار کے موقف اور ایجنڈے کو تقویت فراہم کررہے ہیں اور ان کے دست وبازو بنے ہوئے ہیں۔بہر کیف آتے ہیں جان سولیکی کے اغواء کی طرف ۔ اس واقعہ کے بعد تحقیقات کے لیے منگل تین فروری کو اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف سیکورٹی اینڈ سیفٹی(UNDSS)کی 9رکنی ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی ۔ ذرائع کے مطابق ٹیم نے کوئٹہ کے پولیس و دیگر سیکورٹی حکام سے ملاقات کی اور مغوی اہلکار کی بازیابی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر بریفنگ لی۔ جبکہ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی چھ رکنی ٹیم بھی اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے کوئٹہ پہنچ گئی ہے تاہم ایف بی آئی کے اہلکاروں کی آمد کسی جانب سے تصدیق شدہ نہیں ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں کی اس وقت تک کی تحقیقات اور رائے میں یہ بتایاگیا ہے کہ جان سولیکی کو کوئٹہ میں ہی رکھاگیاہے ۔ ان کے اغواء کے بعد سیکورٹی چیکنگ سخت کردی گئی ہے ۔ مختلف علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیموں کے چھاپوں میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ،اب تک کی کارروائی سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اپنی توجہ مذہبی لوگوں پر مرکوز کر رکھی ہے اور مذہبی لوگوں کو ہی جان سولیکی کے اغواء کے اشتباہ میں تفتیش کے لیے حراست میں لیا ہے ۔ سیکورٹی فورسز نے شہر کی ناکہ بندی کرلی ہے تاکہ اقوام متحدہ کے اہلکار امریکی شہری کو کوئٹہ سے باہر نہ لے جایا جاسکے۔ جان سولیکی کے بارے میں کسی بھی قسم کی اطلاع فراہم کرنے والے کو دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مختلف ادارے کوئٹہ شہر سے باہر جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کررہی ہے جس میں بسوں، کاروں ، ٹرکوں اور گاڑیوں میں سوار ہر شخص کی چیکنگ کررہی ہے ۔ گھڑ سوار پولیس شہر کے اطراف کے کچے راستوں اور پہاڑوں کے درمیان میں تعینات کیئے گئے ہیں۔ صوبے سے باہر جانے والے رستوں پر فرنٹیئر کور کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیاہے اور کہا ہے کہ اگر جان سولیکی کے اغواء کی تحقیقات کے لیے امریکی ادارے آتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جائے گا بلکہ تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔ جان سولیکی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاہم اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے اغواء میں کون لوگ ملوث ہے ۔ دریں اثناء وفاقی حکومت نے حکومت بلوچستان کو ایک خصوصی مراسلہ ارسال کیاہے اس مراسلے میں بلوچستان بھر میں غیر ملکی باشندوں کی سیکورٹی کو موثر بنانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں مراسلے میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی بلوچستان پولیس ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ بلوچستان بھر میں رہائش پذیر غیر ملکی باشندوں، این جی اواز کے دفاتر اور عملہ کی سیکورٹی کو موثر بنائے۔
بہر حال یہ تلخ حقیقت پاکستان کی حکومت سیاسی جماعتوں اور عوام النا س کے ذہن میں رہے کہ اس قسم کے واقعات کی بنیاد پر پاکستان مخالف حلقے ملک کو دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کی جنت قرار دیتے ہوئے ہمارے لیے بڑی مشکلات اور سنگین خطرات پید اکررہے ہیں ۔ شاطر اورقوتوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی بھر پور مہم شروع کر رکھی ہے ۔

زمرہ : حالات حاضرہ, سیاست, پاکستان | 5 تبصرے »

کراچی اور بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت !!!!!

مصنف : zainzf :: بتاریخ 30 Nov 2008


کراچی اور بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت !!!!!


وطن عزیز پاکستان داخلی و خارجی سطح پر سخت بحرانات کا سامنا کئے ہوا ہے، ایک شورش بپا ہے ، چار سو بد نظمی اور غیر یقینی صورتحال نے گھیر رکھا ہے ، سرحد و فاٹا میں باقاعدہ جنگ شروع ہے ، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک پروان چڑھ رہی ہے ، زمین کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں رہا کہ جس سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا جائے۔عروس البلاد کراچی وادی مہران سندھ کا در الخلافہ ہے ،اس بڑے صنعتی و تجارتی شہر پر متحدہ قومی موومنٹ اپنا حق جتاتی ہے ۔ مختلف قسم کی افراتفری، ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت کے گہرے زخم اس شہر نے سہے ہیں لیکن کیا ان زخموں کی ٹھیس اور تکلیف سے فقط شہر کراچی بے چین اور تڑپ رہا ہے ؟ ہر گز نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ کراچی تو انسانوں کا سمندر ہے اگر دور افتادہ کسی تحصیل اور چک میں بھی عدم تحفظ ہو تو اس سے پورا ملک اور اس کے رہنے والے افسردہ غمناک اور مضطرب ہوں گے۔ 1985کے بعد کا کراچی انتہائی بھیانک چہرہ رکھتا ہے ، مردم کشی اور درندگی کی دردناک اوروحشت ناک مثالیں ا س شہر میں قائم ہوچکی ہیں ۔ صوبہ بلوچستان کا اس شہر سے گہرا تجارتی تعلق ہے اس صوبے کے ٹرانسپورٹر،مزدور اورتاجر طبقے کا کراچی کے حالات کے اتار چڑھائو سے براہ راست تعلق ہے وہاں کی نفع و نقصان سے یہاں کے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ نا عاقبت اندیش مفاد پرست حکمرانوں کی مصلحتوں اور ناقص پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے باعث فاٹا سوات میں جس لا حاصل جنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا گیا ہے اس کا دائرہ اب وسیع ہو کر پورے ملک میں پھیل چکا ہے ۔ افغانستان میں موجود امریکہ ، بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ اور اشتراک کار کے باعث ملک کی سلامتی مشکوک ٹھہری ہے ۔ بھارت کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی و صنعتی مرکز ممبئی کے دو بڑے ہوٹلوں سمیت آٹھ مختلف مقامات پر مسلح گروہوں کا بیک وقت حملے کے بعد وزیراعظم من موہن سنگھ،نے قدرے محتاط انداز میں جبکہ بھارتی میڈیااور وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے کھل کر پاکستان کے اس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اورمیڈیا پر الزامات کا طوفان کھڑا کردیا گیا ۔

سوال یہ ہے کہ اسی بھارت نے پاکستان میں کیا کچھ نہیں کیا ؟ بھارت نے سندھ ، سرحد و بلوچستان کے قوم پرستوں کے ساتھ الگ الگ ترجیحات اور مقاصد کے تحت تعلقات قائم کر رکھے ہیں ، موجودہ مذہبی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی عالمی پروپیگنڈے میں یہا ں کے قوم پرستوں کا اتفاق قدرے مشترک ہے تاہم ان کے درمیان قربت عارضی اور مفادات پر مبنی ہے ۔
بلوچ و پشتون قوم پرست اس لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت دور کھڑے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کا تو انداز ہی بہت نرالہ ہے ۔ دراصل بھارت نے ممبئی کے حالیہ واقعہ کے بعد پاکستان میں بھیانک کھیل کی بساط بچھائی ہے اس بازی میں امریکہ کا پورا تعاون انہیں حاصل ہے ۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان قبائلی علاقوں میں جلد مفاہمت اور مذاکرات کا آغاز کرے اور اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرلے۔ ہمارے عسکری قیادت کو اب اس امر کا پوری طرح ادراک ہے کہ قبائلی علاقوں میں ملٹری آپریشن کا سارا فائدہ امریکہ بھارت اور افغان پھٹو حکومت کو حاصل ہورہا ہے اسی ادراک کے تحت عسکری حکام نے بھارت کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی صورت میں قبائلی علاقوں میںتعینات فوجیوں کو ہٹا کر بھارتی سرحد پر لگانے کی دھمکی دی ہے ۔ یہ دھمکی دراصل امریکہ کو بھی ہے جو اس پورے کھیل اور تماشے میں مرکزی کردار کا حامل ہے۔ قبائلی علاقوں بلوچستان میں’’ را ‘‘ملوث ہے ۔

کراچی میں طالبانائزیشن کے شوشہ کا آئیڈیا بھی سرحد پار سے آیا ہے ۔ پچھلے چند دنوںسے کراچی میں نا خوشگوار واقعات نے سر اٹھا رکھا ہے صاف بات ہے کہ طالبانائزیشن کے نام پر ایک مرتبہ پھر نسلی و لسانی فسادات جلائو گھیرائو اور خون ریزی کا ایک طویل بازار گرم رکھنے کی منصوبہ بندی تیار کرلی گئی ہے ، اغیار کی چال پیوست ہے اگر کراچی میں فساد کی چنگاری کو ہوادی گئی تو اس کی ذد میں بلوچستان بھی آجائے گا بالخصوص یہاں کے پشتون حصے میں رد عمل پیدا ہوگا، سرحد کے ساتھ تو اس معاملے کا براہ راست تعلق ہے ۔ 1985ء کے واقعات سے کوئٹہ، چمن ،پشین ، ژوب ، لورالائی اور دیگر علاقوں کے لوگ متاثر ہوئے تھے ۔ یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں کراچی اور محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ اس وقت ان کی چھابڑیاں،ہوٹل ، ریڑھیاں نذر آتش کی گئی تھیں،بے گناہ لوگ قتل ہوئے اوراب حالیہ واقعات کے بعد بھی بہت سارے لوگ اپنا کاروبار چھوڑ کر اپنے گھروں کو آچکے ہیں۔ بلوچستان کی پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ ’’ کراچی میں ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں کی جانب سے پشتون عوام خصوصاً ہوٹل کے کاروبار سے منسلک پشتون افراد کے خلاف دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں انہیں کراچی سے بے دخل کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے اور گزشتہ دو عشروں سے کراچی میں پشتون عوام ، ٹرانسپورٹروں اور محنت مزدوری کرنے والے بے گناہ افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہیں ، ان کے مطابق لندن میں ہونے والی آل پارٹی کانفرنس میں ایم کیو ایم کو متفقہ طور پر دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر کیا لہٰذا مرکزی و صوبائی حکومتیں ان کے خلاف کارروائی کریں ۔‘‘
اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں خواہ کوئی بھی شخص ہو ا، کی جان و مال عزت و آبرو محفوظ نہیں، شہر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، سیاسی کارکنوں کو قتل کیا جارہا ہے تاہم نسلی و لسانی فسادات اس تناظر میں ایک خوفناک اضافہ ہے ۔اور طالبانائزیشن کا خوف دراصل امریکہ اور بھارت کی ایماء پر پھیلایا گیا ہے ۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس ضمن میں تشویشناک منظر کشی کی ہے ، عمران خان کوئٹہ کے دورے پر آئے ہوئے تھے ،زلزلہ سے متاثرہ علاقے زیارت کا دورہ کیا ، کوئٹہ میں اے پی ڈی ایم کے کنوینر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی ، وکلاء اور نیوز کانفرنس سے خطاب کیا ۔ کوئٹہ کی ضلعی کچہری میں وکلاء سے اپنے خطاب میں عمران خان نے توجہ دلائی کہ کراچی میں ایم کیو ایم شہریوں کو مسلح کررہی ہے اور گزشتہ آٹھ سالوں سے اب تک اسلحہ کے چالیس ہزار لائسنس جاری کئے گئے ہیںاور اب طالبانائزیشن کے نام پر پشتو مہاجر اقوام کو لڑایا جارہا ہے اور اس خون ریزی کا الطاف حسین فائدہ اٹھائیں گے ۔ یہ واضح رہے کہ کراچی میں اگر پشتونوں اور مہاجروں کے پاس اسلحہ کی بہتات ہے تو یہ خلاف قانون عمل ہے ۔حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بلا تمیز و تفریق شرپسندوںکا ہاتھ روکیں اور ان کو شہر کا امن و سکون غارت کرنے اور کھل کھیلنے کی اجازت نہ دے اور قانون کی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے بہر صورت اقدامات اٹھائیں۔
ممبئی اور کراچی کے حالیہ واقعات کے بعد حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینی ہوگی تاکہ خارجی قوتیں اپنے ناپاک عزائم میں سرخرو نہ ہوں

زمرہ : سیاست, پاکستان | 8 تبصرے »