زین الدین

بلوچستان میں یومِ آزادی

مصنف : zainzf :: بتاریخ 17 Aug 2009

یہ تحریر جلال نورزئی صاحب کی ہے ۔ ان کی اس تحریر سے مجھے مکمل اتفاق ہے اس لئے پیش کررہا ہوں‌۔

کوئٹہ جشن آزادی کی ایک تقریب میں‌شریک بچیاں

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان میں بطور خاص صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں 62 واں یوم آزادی، قومی یکجہتی کی فضاء میں جوش و خروش سے منایا گیا ۔ یوم آزادی کی سرکاری تقریبات کا آغاز دار الحکومت میں علی الصبح 21توپوں کی سلامی سے ہوا مساجد مین وطن عزیز پاکستان کی سلامتی، بقاء اور ترقی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ جشن آزادی کے حوالے سے سب سے بڑی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار پر منعقد ہوئی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے پرچم کشائی کی ۔ دوسری جانب یوم آزادی سے قبل پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے صوبے کے مختلف علاقوں میں راکٹ داغے گئے گھروں میں دستی بم پھینکنے کے وواقعات کے علاوہ تنصیبات اڑانے کی کوششیں کی گئیں تاہم ان پر تشدد واقعات میں جانی نقصانات کی اطلاع نہیں آئی۔ ماہ اگست کے آغاز کے ساتھ یہ سوال بھی چھبتا رہا کہ امسال آزادی کے جشن کی تقریبات منعقد ہوں گی ؟ سرکاری سطح پر تو حالات چاہے کچھ بھی ہو اپنے ڈھنگ اور انداز میں تقاریب منعقد کرلی جاتی ہیں اور ایسا2واں یوم آزادی پر بھی ہوا۔ البتہ سوال عوامی سطح پر جشن اور خوشیوں کے اظہار کا تھا چونکہ صوبے میں حالات ناسازگار ہیں جس کے باعث یکم اگست کے بعد جشن آزادی کے حوالے سے شہر میں دلچسپی دکھائی نہیں دی گئی ، پہلے کی طرح جب شہر میں دکانوں کے علاوہ اسٹالز بھی لگا کر جھنڈیاں اور بیجز فروخت کئے جاتے تھے ایسا نہ ہوا جس کی بنیادی وجہ مسلح تنظیموں کی جانب سے جا بجا دھمکیاں تھیں کیونکہ گزشتہ سال ایسے واقعات رونما ہوچکے تھے یہی وجہ تھی کہ تاجر خوف کا شکار ہوگئے تھے لیکن دس اگست کے بعد گاڑیوں، رکشوں ، موٹرسائیکلوں اور سائیکلوں پر جھنڈیاں لہرائی گئیں

مختلف نجی و سرکاری عمارتوں پر بھی پرچم لہرائے گئے اس کے ساتھ گورنرہائوس وزیراعلیٰ ہیائوس، سٹی ناظم ہائوس، بلوچستان اسمبلی، بلوچستان ہائیکورٹ، سول سیکرٹریٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس، کمشنر آفس کے علاوہ مختلف سرکاری اور جی عمارتوں کو رنگ برنگی برقی قمقوں سے سجالیا گیا شہر چراغان سے جگ مگا اٹھا لوگوں کے جذبے تازہ ہوگئے آزادی کا2واں جشن منانے کی امنگ نے بچوں بوڑھوں جوانوں اور خواتین کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کردیا ۔ 13اگست کی رات گئے شہری اپنے اہل خانہ کے ساتھ چراغاں کا نظارہ کرنے گھوم رہے تھے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈھول کی تھاپ پر لوگ رقص کررہے تھے پورا شہر سجا ہوا تھا چودہ اگست کی سہ پہر ہی سے شہری سڑکوں پر نکل آئے قومی پرچم اٹھائے پاکستان زندہ آبادکے نعرے لگارہے تھے رات کو وسطی شہر میں جشن کا سماء تھا شہر ملی نغموں سے گونج رہا تھا مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر نوجوان روایتی رقص کررہے تھے ۔ ادھر فرنٹیئر کور کے ہیڈ کوارٹر میں آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا رنگ اور نور کا سما بندھ گیا آتش بازی دیدینی تھی اور شہری اپنی گلی محلوں میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگارہے تھے آتش بازی کا شہر کے دور دور علاقوں میں بھی نظارہ کیا گیا۔کہتے ہیں کہ لاہور میں آزادی پر جوش انداز میں منائی گئی لیکن شہر کوئٹہ میں جشن کا جو منظر دیکھنے کو ملا وہ لاہور یا ملک کے دوسرے کسی بھی شہر اور علاقے سے کم نہ تھا ۔ یہ دعویٰ بلا مبالغہ کیا جاتا ہے مگر افسوس برطانوی نشریاتی ادارے ( بی بی سی ) کی رپورٹ اس ضمن میں انصاف اور حق کے برخلاف تھی ۔




بلوچ اکثریتی علاقے خاران میں لوگ ڈھول کی تھاپ پر روایتی بلوچی رقص کررہے ہیں

(میرے پاس صرف یہی تصاویر تھیں ، کوشش کرتا ہوں کہ 14 اگست کی رات کو کوئٹہ میں‌منائے جانے والے جشن کی تصاویر مل سکیں پھر آپ لوگ خود اندازہ لگاسکیں گے )

ٹھیک ہے سرکاری سطح پر اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ اب سے نہیں ساٹھ اکسٹھ سالوں سے ہوتا رہا ہے لیکن عوام اپنے انداز سے جشن مناتے ہیں ۔13اور14اگست کی رات جو سماء تھا وہ مبرہن ہے ۔

یہ بات درست ہے کہ صوبے میں خوف و ہراس پھیل چکا تھا ۔بعض سیاسی جماعتوں اور بالخصوص مسلح تنظیموں کی جانب سے گیارہ اگست کو آزادی بلوچستان کا اعلان اور پرچم لہرانے کے اعلانات کے باعث تشویش پائی جاتی تھی تاہم اس کے ساتھ سیکورٹی انتظامات بھی انتہائی سخت تھے ۔ گیارہ اگست کو سوئی ، کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں آزاد بلوچستان کے پرچم لہرائے گئے اور چودہ اگست کو یوم سیاہ کا اعلان کیا گیا تھا ۔بزرگ بلوچ قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نوابزادہ حیربیار مری نے بلوچ قوم سے اپیل کی کہ وہ گیارہ اگست کو بلوچستان بھر میں بلوچ قومی پرچم لہرائیں اور یوم آزادی بلوچستان منائیں اور مسلح مزاحمت تیز کردی جائے۔ یہی الفاظ نوابزادہ براہمداغ بگٹی کے بھی تھے جنہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا براہمداغ بگٹی نے کہا کہ بلوچ قوم نے گیارہ اگست کو یوم آزادی مناکر دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ مسلح مزاحمت کاروں کے ساتھ ہیں ۔مذکورہ رہنمائوں کے یانات سیاسی الفاظ پر مشتمل ہوسکتے تاہم بظاہر جس سخت موقف کا اظہار کیا گیا ہے اس کے بعد تو بظاہر مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ بند ہوجاتا ہے کیونکہ وفاقی حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ صوبائی خود مختاری کے ذریعے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھائے گی لیکن حیربیار اور براہمداغ مطلق آزادی کی بات کررہے ہیں چنانچہ اس صورت میں حکومت کے لئے تو بات چیت کے لئے تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں ۔
9ادھر خان آف قلات سلیمان دائود نے گیارہ اگست کے موقع پر کونسل فار انڈپینڈنٹ بلوچستان اعلان کردیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد و خود مختار بلوچستان ان کی جدوجہد کا محور ہے اور کونسل فار انڈیپینڈنٹ بلوچستان میں ایران و پاکستان کے علیحدگی پسند قوتوں کی نمائندگی ہوگی اور کونسل آزاد بلوچستان کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے جدوجہد کرے گا سلمان دائود نے کہا کہ ایران و پاکستان کے علیحدگی پسند قوتیں جو اس کونسل میں شامل ہیں چند ناگیز وجات کی بناء پر فی الحال ان کے ناموں کا اعلان نہیں کیا جائیگا اور براہمدا بگٹی سمیت تمام علیحدگی پسند کونسل کا حصہ ہوں گے ۔کونسل میں علیحدگی پسندوں کی شمولیت کی باتوں کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی ،نیشنل پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی )جمہوری وطن پارٹی کے دونوں دھڑوں کے لئے مشکل پیدا ہوچکی ہے۔مذکورہ دونوں جماعتوں کواب اس سوال کا بھی سامنا ہے کہ بلوچ ری پبلکن پارٹی، انجمن اتحاد مری، بلوچ نیشنل موومنٹ اور مسلح تنظیموں کی جانب سے آزاد بلوچستان کا جوم پرچم تیار کیا گیا وہ پرچم انہیں قابل قبول ہے اور کیا آزاد بلوچستان کا یہی جھنڈا ہونا چاہیئے چونکہ بی این پی اور نیشنل پارٹی پارلیمانی سیاست کے ذریعے قومی جدوجہد کررہی ہیں اگر بلوچستان آزاد ہوتا ہے تو ان دو جماعتوں کی کیا حیثیت ہوگی ؟ صوبے میں جاری پرتشدد واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے ۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ خان آف قلات نے فقط علیحدگی پسندوں کو کونسل میں شریک کرنے کی بات کی ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی ،نیشنل پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی )اورجمہوری وطن پارٹی کے دونوں دھڑوں کی طرز سیاست علیحدگی پر مبنی نہیں ہے جو پارلیمانی سیاست کررہی ہیں اور مکمل صوبائی خود مختاری کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ گویا بلوچستان کے قوم پرست سیاسی جماعتوں کے لئے یہ لمحہ مشکل کا ہے ۔
ادھر کوئٹہ میں سریاب روڈ پر موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد فائرنگ ہوئی سیکورٹی فورسز نے اس موقع پر بے دریغ گولیاں برسائیں ۔ بم دھماکے کے واقعہ میں چار افراد زخمی ہوگئے ۔ دھماکے کا مقصد سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانا تھا تاہم سوال یہ ہے کہ جو شہری زخمی ہوگئے ہیں انہیں کس کی گولیوں نے لہولہان کردیا ؟ فرنٹیئر کور کے اہلکار انتہائی تربیت یافتہ ہیں لہٰذا انہیں چاہیئے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں ایسی حکمت عملی اختیار کریں کہ شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہ ہو۔امروز عیسیٰ نگری میں دستی بم حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوئے ۔مزید براں بارہ اگست کی رات کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم مقام سے پولیس ناکے پر راکٹ داغا گیا جس کے پھٹنے سے بلوچستان کانسٹیبلری کے دو اہلکار حوالدار ریاض اور جبل خان جاں بحق ہوگئے دھماکے کی زد میں آکر چار اہلکار زخمی ہوگئے۔
اہل وطن نے یقینا آزادی کا دن ملی جذبے سے منایا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ من حیث القوم ہم اب تک آزادی کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکے ہیں نہ ہی ہم نے اپنی خود مختاری اور آزادی کا تحفظ کرپارہے ہیں ۔نا برابری کے باعث صوبوں میں دوریاں پیدا ہورہی ہیں جس کا لا محالہ ملک کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ کوئٹہ میں چودہ اگست کی صبح پرچم کشائی کی تقریب سے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اپنے خطاب میں انہی باتوں کا ذکر کیا ۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ’’پاکستان کے قیام کے مقاصد2سال گزرنے کے باوجود بھی حاصل نہیں کئے گئے جس سے عوام میں احساس محرومی پیدا ہوئی ،ماضی کی غلط پالیسیوں اور امتیازی رویوں کے باعث وفاق اور اکائیوں میں پیدا ہونےوالی خلیج کے خاتمے کے لئے وفاق کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی‘‘۔

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks

10 تبصرے to “بلوچستان میں یومِ آزادی”

  1. یاسر عمران مرزا کا کہنا ہے کہ:

    اسکا مطلب ہے، کہ علیحدگی کی جو تحریک ہے وہ بس کچھ خاص تنظیموں کی پھیلائی گئی ہے اور اس کا اثر بھی محدود علاقوں تک ہے
    شکریہ اس تحریر کے لیے، دل مطمئن ہو گیا

  2. دوست کا کہنا ہے کہ:

    اللہ کرے وہ وقت جلد آئے جب وفاق کو احساس ہوجائے۔

  3. sadia saher کا کہنا ہے کہ:

    سلام زین

    ایک خبر پڑھی تھی اس بار بلوچستان مین پاکستانی پرچم نہیں لہرائے گئے بلکہ آزاد بلوچستان کے پرچم کہرائے گئے ھیں دل بہت اداس ھوگیا تھا اب پڑھ کر سکون ملا عوام پاکستان کے ساتھ ھیں صرف کچھ مفاد پرست پیسے کے لیے پاکستان کے خلاف ھیں اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رھے ھیں
    یہ حقیقت ھے بلوچستان کے ساتھ بہت عرصے سے زیادتی ھو رھی ھے اگر انھیں ان کا حق دیا جائے اور سب کو ایک ساتھ لےکر چلاجائے تو کشکول کی ضرورت ھی نہیں رھے گی

  4. DuFFeR - ڈفر کا کہنا ہے کہ:

    تحریر پڑھ کر دل کو سکون ملا ہے
    ورنہ میڈیا نے تو انی مچائی ہوئی ہے
    میرے پاس ان کے بلاگ پر یہ تحریر نظر نہیں آ رہی
    جلال صاحب بہت لمبی تحاریر لکھتے ہیں
    میں نے یہ تبصرہ ان کے بلاگ پر بھی کرنا چاہا لیکن وہاں تبصرے میں ناکامی ہوئی
    اگر آپ ان تک میری یہ بات پہنچا سکیں تو
    ان کی تحاریر اچھی ہوتی ہیں
    اگر وہ تھوڑا اختصار سے کام لیں تو کافی سارے پڑھنے والوں کو گفتگو کی جانب کھینچ سکتے ہیں

  5. زین کا کہنا ہے کہ:

    یاسر عمران: یوم آزادی کے موقع پر گزشتہ دو تین سالوں کی نسبت اس سال کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔باوجود اس کے ،حالات مطمئن بخش نہیں ۔علیحدگی کی تحریک عوامی سطح پر ابھی تک وہ حمایت حاصل نہیں جو کسی تحریک کی کامیابی کے لئے ضروری ہوتی ہے لیکن حکمران طبقہ کی جانب سے مسئلے کے حل کے لئے بروقت اقدامات نہ اٹھانے اور غلط پالیسیاں علیحدگی کی اس تحریک کی مضبوطی کا باعث بن رہی ہیں۔

    دوست::
    آمین ۔

  6. zainzf کا کہنا ہے کہ:

    سعدیہ بہن:
    شکریہ!
    ڈفر:
    یہ تحریر انہوں‌نے اپنے بلاگ پر پوسٹ نہیں‌کی ۔ اور آپ کی بات بھی ان تک پہنچادی ہے لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جو تحریر مختلف اخبارات اور جرائد کے لئے لکھتے ہیں‌ وہی تحریر اپنے بلاگ پر پوسٹ کرتے ہیں۔

  7. کنفیوز کامی کا کہنا ہے کہ:

    اس رمضان نے مجھے بہت سارے نئے ساتھی بلاگر دئیے جس میں ایک زین تم ہو بہت شکریہ اپنا تعارف کروانے کا کتنے ہی ساتھی ہیں جو ابھی تک آپسی رابطے میں نہیں حالانکہ اس دفعہ ہفتہ بلاگستان میں یہ ہی تجویز دی گئی تھی
    میرے ذھن سے بہت سارے غلط شکوک اور وہم نکل گئے بہت شکریہ اتنی اچھی تحریر پڑھانے کا۔

  8. کنفیوز کامی کا کہنا ہے کہ:

    تحریر پڑھ کر سکون تو ملا ہی ہے تصویریں دیکھ کر اور بھی ذیادہ خوشی ہوئی ۔ :razz:

  9. Eid Mubarak کا کہنا ہے کہ:

    شگفتہ آداب بے حد آداب
    پھولوں کی مہک آبشاروں کا ترنم
    شباب کا امنگ کلیوں کا تبسم
    فضاوں میں رچی خوشبو جیسی
    سحر انگیز شگوفوں دل آویز نغموں جیسی
    بھر پور گنگناتے خیال میں
    خوش کن اداوں جیسی
    خوش ادا مچلتی گنگناتی ریشمی لہروں جیسی
    حسین یادوں کے جل تھل جیسی
    پر کشش عید آئی ہے
    اس دھنک رنگ موقع پر میری جانب سے
    عید مبارک

  10. شگفتہ کا کہنا ہے کہ:

    السلام علیکم زین بھائی عید مبارک ! عید کیسی گذری اور اپنے بلاگ پر مزید تحریر بھی کریں ناں ۔

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>