زین الدین

بلوچستان کے وزیر ایکسائز رستم جمالی کراچی میں فائرنگ سے جاں‌ بحق

مصنف : zainzf :: بتاریخ 06 Aug 2009

Rustam Jamali

بلوچستان کے وزیر ایکسائز اینڈ‌ ٹیسکیشن سردارزادہ رستم جمالی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
سردار زادہ رستم جمالی جمعرات کو گلستان جوہر کے علاقے سے اپنی ذاتی گاڑی بلیک کلر کی پی ڈی 5610 نمبر والی پراڈو میں جا رہے تھے کہ تھانہ شارع فیصل کی حدود گلستان جوہر میں گاڑی میں سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ زخمی ہوگئے اور آغا خان ہسپتال منتقل کرتے ہوئے چل بسے
ایک نجی ٹی وی نے عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ تین نامعلوم افراد نے رستم خان جمالی کو زبردستی گاڑی سے اتارا اور تین گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا جن میں سے دو گولیاں سینے اور ایک گولی سر میں لگی جبکہ گاڑی کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ سردار رستم جمالی خود گاڑی چلا رہے تھے ان کے ہمراہ سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔
رستم خان جمالی کے دوستوں عزیز ناتانی اور حاجی رمضان نے بتایا کہ رستم جمالی ان سے ملنے آرہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے انہیں نشانہ بنایا ۔ پولیس حکام نے واقعہ سے متعلق متضاد آراءکا اظہار کیا ہے ۔ ایس پی شارع فیصل عبدالقیوم کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ نہیں بلکہ گاڑی چھیننے کی کوشش میں مزاحمت کا واقعہ ہے۔ جبکہ ایک نجی ٹی وی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنےوالے پولیس اہلکاروں سے متعلق بتایا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہوسکتا ہے ۔
سوانح عمری

سردار زادہ رستم خان جمالی نے 9 جنوری 1963ءجمالی خاندان کے سربراہ سردار یار محمد جمالی کے گھر میںآنکھ کھولی ۔ ان کے خاندان کی کئی شخصیات قیام پاکستان سے لیکر اب تک سیاست میں سرگرم رہیں ۔وہ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے بھانجے جبکہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر تاج محمد جمالی اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی کے قریبی رشتہ دار تھے۔ ان کا تعلق ضلع جعفرآباد کے علاقے بکھرڑوسے تھا ۔ وہ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے انہوں نے ابتدائی تعلیم اوستہ محمد جعفرآباد سے حاصل کرنے کے بعد ایجی سن کالج لاہورمیں پڑھا جبکہ گریجویشن جامعہ بلوچستان سے مکمل کیا ۔ ان کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ تھا۔ سرداررستم جمالی نے دوشادیاں کیں ۔ سردار رستم جمالی نے 1990میں عملی طور پر سیاست کے میدان میں قدم رکھا اورچیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوئے ۔ 1997 ءمیں صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست ہوئی تاہم فروری 2008 ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ پی بی 25 جعفرآباد ون سے آزاد حیثیت میں انتخاب میںحصہ لیا اور کامیاب ہوئے ۔ مخلوط حکومت بننے کے بعد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی وزارت کا قلمدان سنبھالا ۔ انہوں نے پانی کے مسئلے پر سخت موقف اپنارکھاتھا اور بلوچستان کے پانی کی چوری کے خلاف آواز بلند کی ۔ وہ افہام و تفہیم کی سیاست پر یقین رکھتے تھے ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو ۔انہوں نے کئی قبائلی تنازعات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks

5 تبصرے to “بلوچستان کے وزیر ایکسائز رستم جمالی کراچی میں فائرنگ سے جاں‌ بحق”

  1. میرا پاکستان کا کہنا ہے کہ:

    مرحوم کی سوانح سے تو لگتا ہے کہ یہ کار چوری کی واردات ہے۔

  2. DuFFeR - ڈفر کا کہنا ہے کہ:

    میرے تو خیال میں سیدھی سیدھی ٹارگٹ کلنگ ہے
    صوبائی وزیر کو کار چوری کی واردات میں مار دیا جائے یہ بات نہایت مضحکہ خیز ہے

  3. فرحت کیانی کا کہنا ہے کہ:

    السلام علیکم
    اللہ رحم کرے ہم سب پر اور پاکستان پر۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ کب اور کیسے رُکے گا :sad:

    زین! آپ کیسے ہیں؟ کافی عرصہ سے میں بلاگز باقاعدگی سے دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ اس لئے کسی کی کچھ خبر نہیں۔ :|

  4. زین کا کہنا ہے کہ:

    وعلیکم السلام

    آمین ۔ حکومت تو دعوے بہت کررہی ہیں ۔ صوبے کے وزیراعلیٰ‌بھی بظاہر مخلص نظر آرہے ہیں ،دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے

    الحمداللہ میں ٹھیک ٹھاک ہوں ۔ آپ کیسی ہیں‌ ؟

  5. عبدالقدوس کا کہنا ہے کہ:

    یہ ٹارگٹ کلنگ ہے اور یہ بھی سوال ہے کہ وزیر صاب اکیلے کس چکر میں گھومتے پھرتے تھے؟

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>