امریکا کا اگلا ہدف کوئٹہ/بلوچستان؟
مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Mar 2009
امریکی اخبارنیو یارک ٹائمزمیں اٹھارہ مارچ کو ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح میںطالبان کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
’’امریکی صدرباراک اوباما اور اس کے سلامتی کے مشیر امریکہ کی خفیہ جنگ بلوچستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہے ہیں ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پر دو اعلیٰ سطحی رپورٹس وائٹ ہائوس بھیجی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان رہنما ملا عمر اور دیگر اعلیٰ طالبان قیادت کے کوئٹہ کے اندر اور گردونواح میں روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں لہٰذا خفیہ جنگ ڈرون حملوں کا دائرہ ان علاقوں تک پھیلایا جائے ۔بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیاں بلوچستان کے بعض علاقوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں اس لیے طالبان اور القاعدہ کے ان مشتبہ ٹھکانوں پرجاسوس طیاروں سے حملے ضروری ہیں امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان اورافغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کررہی ہے اس لیے اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر اوران کے ساتھیوں کی سرگرمیاں کوئٹہ کے اردگرد کے علاقوں میں بہت بڑھ گئی ہیں جو مستقبل میں امریکیوں کیلئے خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے باعث طالبان اور القاعدہ کے اہم رہنمائوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو اس بات کا علم ہے کہ اگر میزائل حملے یا کمانڈو ایکشن کیا گیا تو بہت سے بے گناہ شہری ان حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق صدر اوبامہ نے ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن خدشہ ہے کہ وہ ان تجاویز پر عمل کرینگے ۔تاہم امریکی کانگریس کے پندرہ ارکان نے پاکستان پر ڈرون حملوں اور افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے صدر باراک اوبامہ سے فیصلوں پرنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔’’اب تک سی آئی اے کے زیر نگرانی ڈرون حملے صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود تھے اور انہیں اب تک بلوچستان تک وسعت نہیں دی گئی تھی بلوچستان تک ڈرون حملوں کو وسعت دینے کے لیے امریکی انتظامیہ اس لیے بھی ڈرتی ہے کہ چونکہ بلوچستان ایک بندوبستی صوبہ ہے اور وہ براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کے ساتھ شدید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ‘‘
بارک اوباما کے صدر کے عہدے سنبھالنے کے بعد اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پانچ حملے (اندازاً)ہوچکے ہیں ۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سابق صدر بش کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔حکومت تبدیل ہونے کے باوجود اس خطے کےلئے امریکی پالیسیوں میںبھی کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ۔اب ان حملوں کو بلوچستان تک وسعت دینے پر غور ہورہا ہے ۔امریکہ کوئٹہ ،لورالائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین اور قلعہ عبداللہ سمیت ضلع نوشکی و خاران اور چاغی میں بھی اس نوعیت کی کارروائی عمل میں لاسکتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئے ذرائع ابلاغ پر پروپیگنڈہ مہم چلائی جاچکی ہے ۔ لوگوں نے لکھا ہے کہ کوئٹہ میں طالبان کے ٹھکانے موجود ہیں۔ ملکی ذرائع ابلاغ بھی اس کام میں پیش پیش ہے ۔ چند ہفتے قبل ملک کے انگریزی اخبار نے کوئٹہ شہر کے وسط میں واقع ریسٹورنٹ (بیگ سنیک بار ) سے متعلق بے بنیاد رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی دھمکیوں کے بعد ریسٹورنٹ میں خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیاگیا ہے ۔ اس رپورٹ کی خود ریسٹورنٹ کے مالک نے تردید کی تھی۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے بعد کوئٹہ کے عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا ہے کہ وہ حملوں سے قبل ہی نقل مکانی کی سوچ رہے ہیں ۔ دوسری طرف ملک کے بے حس حکمران چین کی بانسری بجاکر سابقہ بے شرمی کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔ وزیر اطلاعا ت (قمر الزماں کائرہ) یہ بیان دے رہے ہیں کہ ’’انہیں امید ہے کہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار بلوچستان تک نہیں بڑھایا جائے گا‘‘۔جبکہ وزارت خارجہ نے رپورٹ کو قیاس آرائی کہہ کر تبصرہ کرنے سے ا نکار کردیا ہے جیسے امریکہ نے پاکستان میں پہلے کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔صوبہ سرحد اورقبائلی علاقوں میں جس دیدہ دلیری سے ڈرون حملے کے ذریعے ملکی سرحدوں کی پامالی اور خود مختاری کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، یہ سب کچھ انہیں نظر نہیں آرہا ۔
اس کے برعکس بلوچستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے امریکی ارادوں کے خلاف بروقت آواز اٹھائی ہے ۔ بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے ۔ اسمبلی اجلاس میں ارکان نے تجویز دی کہ صوبے کی سیاسی جماعتیں اور قبائلی عمائدین کل جماعتی کانفرنس بلاکر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ دنیا پر یہ واضح کیا جاسکے کہ بلوچستان کے عوام کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور صوبے کی تمام بلوچ و پشتون قوم پرست اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھی اس ضمن میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے حملوں کی صورت میں بھر پور مزاحمت کی دھمکی دی ہے۔
محل وقوع کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا بہت اہمیت کا حامل صوبہ ہے جو ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے ۔افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں قندھار ، ہلمند، زابلا ور نمروز کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق بلوچستان میں چار لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور ان کا صرف ایک چوتھائی حصہ بارہ کیمپوں میں رہائش پذیر ہے جبکہ باقی تین لاکھ شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔بلوچستان اور افغانستان کے درمیان زیادہ تر آمدروفت چمن کے سرحدی علاقے سے ہوتی ہے جو خیبر ایجنسی کے بعد دوسر ابڑا اہم زمینی راستہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق چمن سے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد آتے جاتے ہیں جبکہ بارہ سے پندرہ سو تک گاڑیاں بھی نقل و حمل کرتی ہیں۔ پاکستان نے دو سال قبل سیکورٹی کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت کی مانیٹرنگ کے لئے بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا اور سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لئے کمپیوٹرائزڈ راہداری جاری کرنا شروع کردیا تھا جو افغان حکام کی شدید مخالفت کے بعد ختم کردیا گیا گویا سرھدوں کو بند کرنے اور سختی کرنے کے ہر قدم کی افغان حکومت نے مخالفت کی ہے ۔ ان کی آواز میں یہاں کے پشتون قوم پرستوں کی آواز بھی شامل ہوجاتی ہے ۔ غرضیکہ امریکی ممکنہ ڈرون حملوں کی صورت میں وسیع کاروبار کو بھی سخت دھچکا لگے گا ۔
امریکی جاسوس طیارے ڈرون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچستان کے ضلع واشک میں واقع شمسی ایئر پورٹ سے اڑ کر قبائلی علاقوں میں ہدف کو نشانہ بناتی ہیں۔اس کی تصدیق ایک اہم امریکی عہدے دار نے بھی کی تھی ۔ پاکستانی حکام اب تک تو اس کی تردید کررہے ہیں لیکن وقت آنے پر یہ بھی معلوم ہوجائے گا ۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں ڈرون حملوں کے لئے شمسی ایئر پورٹ بہت قریب ہے ،قندھار اور کابل بھی اس مقصد کے لئے چنداں فاصلے پر نہیں ہے ۔شمسی ایئر بیس بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے جنوب مغرب میں تقریباً سو کلو میٹر دور ضلع واشک میں واقع ہے اسے انیس سو چھیاسی میں شیخ زید بن سلطان النہیان نے شکار کی غرض سے تعمیر کیا تھا ۔ ضلع واشک کا علاقہ’’ شمشی‘‘ پہلے ضلع خاران کا حصہ تھا تاہم دو ہزار پانچ میںواشک کو ضلع خاران سے علیحدہ کرکے ا لگ ضلع کا درجہ دیدیا گیا ۔ عرب شیوخ یہ ایئر پورٹ پہلے خاران شہر کے قریب بنانا چاہتے تھے تاہم بلوچ تنظیموں کے احتجاج کے بعد یہ ایئر پورٹ واشک کے علاقے شمشی میں بنایا گیا ۔ ایئر پورٹ پر کام انیس سو نوے میں مکمل ہوا۔ کئی کلو میٹر پر پھیلے ایئر بیس کے مغرب میں تقریباً دو سو کلو میٹر دور ہمسایہ ملک ایران کی سرحد واقع ہے ۔ شمشی ایئر بیس کے ایک جانب ریگستان اور ایک طرف پہاڑی علاقہ ہے اس کے مشرق میں ضلع قلات اور ضلع خضدار جنوب میں جنوب مشرقی ضلع پنجگور اور ضلع آواران جبکہ شمال مغرب میں ضلع خاران اور ضلع چاغی واقع ہے۔ نائن الیون کے بعد شمسی ایئر پورٹ امریکی فوج کو دیدیاگیا اسی دوران ایئر بیس کے رقبے میں مزید اضافہ کردیا گیا اور اس کے ارد گرد باڑ لگائی گئی ۔ شمسی ایئر بیس کے قریب رہنے والے کئی گھروں کو بیس سے دور منتقل کردیا گیا جہاں ان کے لیے نئے گھر تعمیر کئے گئے۔ مقامی افراد کے مطابق شمشی ایئر بیس جسے اب شمسی کہا جاتاہے رات نو بجے سے بارہ بجے تک کسی بھی فرد کو اس ایئر بیس کی حدود یا قریبی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس ایئر پورٹ کے قریب رہنے والے افراد کو اپنے گھروں تک جانے کے لیے بھی پاکستانی سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر مکمل تلاشی اور کوائف کے اندراج کے عمل کے بعد جانے کی اجازت دی جاتی ہے بلکہ کئی دفعہ رات کے اوقات میں وہاں کے مقامی لوگوں کو باڑ کے اندر اپنے گھروں میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اکثر رات کے وقت اور کبھی کبھار دن کے اوقات میں بڑے بڑے جہاز وہاں سے اڑتے اور اترتے نظر آتے ہیں تاہم اس علاقے کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر غلطی سے کوئی چرواہا اس طرف جائے بھی تو اسے کئی دن کی پوچھ گچھ کے بعد رہا کیا جاتاہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ امریکی ڈرون مسلسل حملے کررہے ہیں ۔ ہم اور ہمارے بے بس اوراپاہج حکمران طبقہ دھڑلے سے احتجاج بھی نہیں کرپارہے نہ ہی امریکہ کو ہمارے احتجاج اورخفگی کی کوئی پرواہ ہے ۔ملک کو خطرات لاحق ہیں اگر عوام ججز کی بحالی کے لئے لانگ ماچ کی طرح سڑکوں پر نکل آئیں تو یقینا بے دست و پا حکمران طبقہ حرکت میں آجائے گا اور شاید عوام کے احتجاج اور قوت کے سامنے بے بس ہوکر امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے پر شاید ہو۔
25 Mar 2009 بوقت 12:25 pm
اگر ایسا ہو گا تو پاکستان کی سالمیت کو یقیناً خطرہ لاحق ہو جائے گا
اگر ایسا ہوا تو لعنت ہے ہماری قوم پر جس نے ایک آستین کا سانپ پالا ہوا ہے
جسے اپنا پیٹا کاٹ کاٹ کر دودھ پلا کر جوان کیا گیا ہے
لیکن غالب امکان ہے کہ ایسا نہیں ہو گا
آخر سانپ کو بھی تو زندہ رہنا ہے
19 Apr 2009 بوقت 6:47 am
آندو ویکھلانگے انکل سیم نو
15 Aug 2009 بوقت 1:13 am
بلوچستان کے حالات اب کیسے ہیں زین؟
اور یومِ آزادی بھی بہت مبارک ہو۔
17 Aug 2009 بوقت 1:08 am
حالات تو ویسے کے ویسے ہیں کچھ خاص بہتری نہیں آئی ۔ میرا ارادہ تھا کچھ لکھنے کا ۔لیکن ہمت ہی نہیں ہورہی ۔ کچھ دیر میں بلاگ پر اپنے ایک ساتھی کی تحریر لگاتا ہوں
آپ کو بھی بہت بہت مبارک ہو ۔ شکریہ