سبی میلہ (تصاویر کے ساتھ )
مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Feb 2009
بلوچستان کے تاریخی سبی میلہ کا آغاز (بیس فروری2009ء کو )ضلع سبی * میں ہوگیا ہے جو آئندہ چار روز تک جاری رہے گا۔
سبی میلہ بلوچستان کی ثقافتی اور سماجی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ میلے سے جہاں علاقے کے تہذیب وتمدن کے عکاسی ہوتی ہے وہاں آپس میں میل جول کے مواقع بھی ملتے ہیں۔
اس میلے کا آغاز قدیم زمانوں میں آپس میں مل بیٹھنے،مجموعی علاقائی مسائل کے حل غلہ بانی زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے فروغ کے بنیادی عنصر سے ہوا جس کی ضرورت آج کے جدید دور میں بھی تسلیم کی جارہی ہے ۔

جہاں اس میلے کے دوران علاقائی مسائل اور معاملات پر تمام قبائلی عمائدین مل بیٹھ کر ایک جرگے کی صورت میں غور وخوص کرکے متفقہ رائے سے انہیں حل کرتے تھے وہاں علاقے کے مالدارکسان اور زمیندار اپنی زمینداری اور زراعت کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے تھے، اس کے ساتھ ہی جانوروں کی منڈی اور زرعی و پھلوں کی نمائش بھی کسانوں وزمینداروں کو ایک دوسرے کے زرعی تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے جبکہ دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے تاجروں کےلئے زرعی اجناس، پھل اور جانوروں کی تجارت کےلئے بھی مواقع میسر آتے تھے جس سے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا تھا، آج بھی نہ صرف بلوچستان بلکہ دیگر صوبوں سے آئے ہوئے مالداروں اور زمینداروں کےلئے اپنا مال مویشی اور زرعی اجناس کو متعارف کرانے کےلئے یہ مال ایک اہم منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ثقافتی حوالے سے بھی یہ میلہ صوبے کی زرخیزاور قدیم ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا ذریعہ ہے ۔
میلے کا تاریخی پس منظر
پہلا سبی میلہ 1885ء منعقد ہوا تھا جس کی ابتداء لارڈ رابرٹ سنڈیمن نے کی ۔ رابرٹ سنڈیمن نے علاقے کے تمام معتبرین کو دعوت دی کی وہ سبی میلے کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں شریک ہوں سبی میلہ قدیم برطانوی عہدے کے شاہی دربار اور شاہی جرگہ کی ایک جدید شکل ہے ۔

سبی میلہ بلوچستان کا سب سے بڑا عوامی ثقافتی میلہ ہے ۔پورے پاکستان میں لاہور کے ہارس اینڈ کیٹل شو کے بعد سبی میلہ دوسرے نمبر کا سب سے بڑا میلہ ہے جس میں بلوچستان بھر سے لوگ اورمالدار شریک ہوتے ہیں جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر کے دور افتادہ علاقوں سے اپنے اپنے مال مویشی ساتھ لاتے ہیں جو جانوروں کی اےک بڑی منڈی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مال مویشی کی خریدوفرخت کے نتیجے میں جہاں مالداروں کو معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں خریداروں کو مناسب قیمتوں پر صحت مند مال مویشی کے حصول کے مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔

1885ء میں جب سبی میلہ کی ابتداء ہوئی تو اس کی صدارت اس وقت کے اے جی جی کیا کرتے تھے اور خطے کے تمام نواب، سردار اعلیٰ عہدیدار، ٹکری اور معتبرین مل بیٹھ کر اپنے اپنے جھگڑوں، رنجشوں اور ناچاقیوں کا رسم و رواج اور قبائلی روایا ت کے مطابق تصفیہ کیا کرتے تھے۔

چونکہ سبی کا موسم سردیوں بالخصوص فروری کے مہینے میں نارمل اور خوشگوار ہوتا ہے اس کے علاوہ موسم بہار کی بھی آمد آمد ہوتی ہے اس لئے سبی میلہ بھی روایتاً ان ہی ایا م میں منعقد ہونے لگا۔ جس نے بعد میں ایک مستقل حیثیت اختیا ر کرلی ۔



وقت کے ساتھ ساتھ سبی میلہ مویشیا ں و اسپاں میں مختلف قسم کے پروگرام شامل ہوتے چلے گئے ۔بالخصوص گھوڑوں اور مویشیوں کے شو، زرعی و صنعتی نمائش ، ثقافتی شو، موسیقی کی محفلیں، کھیل کھود، جسمانی کرتب کے مظاہرے مویشیوں کی منڈی ، بلدیا تی کنونشن، بچوں کے لئے رنگا رنگ پروگرام پی ٹی شو جو جدت اختیا ر کرتے کرتے فلاور شو کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔اب یک جہتی شو کے نام سے پکارا جانے لگا ہے اسکے علاوہ کھیل کھود اور تفریح کے مختلف پروگرام میلے کا لازمی حصہ بن چکے ہیں ۔

آزادی کے بعد بھی میلے کے انعقاد کی روایت اسی طرح قائم رہی یہ میلہ پہلے سے بھی زیا دہ زور وشور سے منایا جانے لگا ۔قیا م پاکستان کے بعد فروری 1948بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے شاہی دربار کی صدارت کی ۔

سبی میلہ ہر سال بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اور عموماً صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان اس کی تقاریب میں شرکت کےلئے تشریف لاتے ہیں
(((((اپڈیٹ ))))
اس حوالے سے بی بی سی کی یہ زبردست ویڈیو میری نظروں سے آج گزری۔
————–
( * سبی ، صوبائی دار الحکومت کوئٹہ سے تقریباً150 کلو میٹر فاصلہ پر ہے۔ )
سبی میلہ 24 فروری کو اختتام پزیر ہوگیا۔ میلے میں ہزاروں مویشیوں کی خرید و فروخت کی گئی۔


22 Feb 2009 بوقت 10:49 am
150 کلومیٹر اتنا دور تو نہیں، ایسی دلچسپ جگہ تو بندے کو خود جانا چاہیے۔
22 Feb 2009 بوقت 11:17 am
السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔ ماشااللہ بہت اچھے زین بھائی ۔۔۔۔۔ بہت اچھا مضمون لکھا ہے ۔۔۔ میں پہلے کبھی اس میلے کے بارے میں نہیں سنا ۔۔۔۔ آج تفصیل سے پڑھ کر اچھا لگا ۔۔۔۔۔۔ اور ہاں تصویریں بھی جلدی لگالیں ۔۔۔۔۔ والسلام
23 Feb 2009 بوقت 12:49 am
بہت خوب
23 Feb 2009 بوقت 10:20 am
“سیکورٹی” کی صورتحال بھی لکھ دیں، تاکہ کسی نے شرکت کرنی ہو تو آسانی سے فیصلہ کر سکے۔۔۔
وسلام
23 Feb 2009 بوقت 3:28 pm
سِبّی میلے کی سیر کرانے کا شکریہ
23 Feb 2009 بوقت 4:10 pm
ساجد اقبال:
سبی کوئٹہ سے اتنا دور تو نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کام کے باعث وقت نہیں ملتا۔ اس کے باوجود بھی میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ میلے کے آخری روز شرکت کرونگا۔
ف۔ قدوسی :
تصویریں ایک دو روز بعد لگادونگا ۔ فی الحال جو تصویریں ملی ہیں وہ مجھے پسند نہیںآئیں
بلو:
بلاگ پر خوش آمدید اور شکریہ
طالوت :
سیکورٹی کا کوئی خاص مسئلہ نہیں، وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور سرکاری آفیسران کی بڑی تعداد میلے میںشرکت کرتی ہے اس لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔
افتخار اجمل بھوپال صاحب:
بہت بہت شکریہ
23 Feb 2009 بوقت 4:20 pm
میں ایک دو روز بعد تبصرہ کروں گی زین میں تصاوہر کے انتظار میں تھی،
23 Feb 2009 بوقت 4:22 pm
اور مجھے یاد آیا یہاں ساجد اقبال اور عبدالقدوس بھی آتے ہیں مجھے ان دونوں سے پوچھنا ھے کہ میرا تعارف نہیں آرہا میرے بلاگ پر کیوں؟؟؟بتانا پسند کرو گے پلیز
23 Feb 2009 بوقت 7:12 pm
السلام علیکم
زین! میں جب جب آپ کے بلاگ پر آتی ہوں۔ کچھ نہ کچھ نیا معلوم ہوتا ہے۔ سبی میلے کے بارے میں پڑھ کر بھی بہت اچھا لگا۔ تصویروں کا انتظار رہے گا۔
23 Feb 2009 بوقت 7:19 pm
تانیہ رحمان:
شکریہ
تصاویر انشاء اللہ جلد ہی لگادونگا۔
——-
فرحت کیانی :
وعلیکم السلام
شکریہ ۔ تصاویر ملتے ہی لگادونگا۔
آپ نے ہنہ جھیل اور ضلع پشین کے بارے میں پوچھا تھا۔ میںنے ہنہ جھیل کے بارے میںکچھ معلومات حاصل کرلی ہیں۔ کچھ دنوںبعد وہ یہاں پوسٹ کردونگا۔ اور ضلع پشین کے بارے میں ایک دوست کو کہا ہے ،ابھی تک اس نے جواب نہیںدیا۔
24 Feb 2009 بوقت 10:20 pm
Thank you!
25 Feb 2009 بوقت 8:10 pm
sarlydoda :
شکریہ اور خوش آمدید۔
پوسٹ اپڈیٹ کرکے تصاویر لگادی گئی ہیں۔
26 Feb 2009 بوقت 2:02 am
سلام زین
بہت اچھا معالوماتی مضمون ھے تصویریں دیکھ کر اندازہ ھو رھا ھے کتنا اچھا میلہ ھوگا شکریہ اتنی اچھی سیر کروانے کا
27 Feb 2009 بوقت 3:26 am
زین اب پتا چلا نہ میلہ کیا ہوتا ہے اور ساتھ میں تحریر کو بھی چار چاند لگ گے ۔ بہت اچھا لگا اس سے کم از کم جو دوسرے شہروں والے ہیں ان کو اندازہ تو ہو گا ۔ کہ کس شہر میں کیا ہو رہا ہے۔
28 Feb 2009 بوقت 1:45 am
بہت خوب۔
زین بہت اچھی تصویریں ہیں۔ واقعی ایک بہترین پوسٹ۔
ہنہ جھیل اور پشین کی فرمائش یاد رکھنے کے لئے بہت بہت شکریہ۔ آپ بہت اچھے بھائی ہو۔
میں آپ کی پوسٹ کا انتظار کر رہی ہوں اور ساتھ میں دعا بھی کہ پشین والا کام بھی ہو جائے۔
28 Feb 2009 بوقت 1:48 am
زین! پہلی تصویر کے بارے میں کچھ تفصیل بتائیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے
28 Feb 2009 بوقت 2:10 am
سعدیہ سحر:
وعلیکم السلام
پسندیدگی کا شکریہ
تانیہ رحمن:
بہت شکریہ باجی
میری یہی کوشش ہے کہ اپنے علاقے اور صوبے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات نیٹ پر فراہم کرسکوں کیونکہ باقی صوبوں کی نسبت بلوچستان کے بارے میں نیٹ پر کچھ بھی دستیاب نہیں۔
28 Feb 2009 بوقت 2:16 am
فرحت کیانی:

شکریہ
ہنہ جھیل جھیل کی تصاویر ڈھونڈ رہا ہوں۔ ایک دو تو مل گئی ہیں کچھ اور بھیا چھی تصویریں مل جائیں تو پوسٹ کردونگا۔ اور پشین کے بارے میں بھی انشاء اللہ جلد پوسٹ کرونگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی تصویر شاید بزکشی کی ہے ۔
میں خود تو میلے میں نہ جاسکا لیکن تصویریں خصوصی طور پر کسی سے کھنچوائی ہیں۔
بزکشی کے کھیل کے بارے میں آپ یہ معلوماتی مضمون پڑھ لیجئے۔
http://zain.wordpress.pk/2008/12/24/buzkashi-game/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ آخری تصویر ایک لڑکی کی ہے بڑی بہادری کا مظاہرہ کرتی ہوئی نظڑ آڑہی ہے تصویر میں ۔
02 Mar 2009 بوقت 8:30 pm
زبردست پوسٹ ہے!۔۔۔۔۔۔تصاویر نے تو پوسٹ میں چار چاند لگا دیے۔ سبی میلے کے حوالے سے جیو پر رپورٹ دیکھی تھی۔ آپ نے مزید تفصیل بتا دی۔ شکریہ جناب!
03 Mar 2009 بوقت 1:26 am
شکریہ شعیب بھائی
اس حوالے سے بی بی سی کی یہ ویڈیو بھی اچھی ہے ۔
http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/02/090227_sibi_mela?size=16×9&bgc=003399&lang=ur&nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1
03 Mar 2009 بوقت 10:02 pm
مجھے تو بھاگناڑی نسل کے بیلوں کی وجہ سے یہ میلہ پسند ہے۔ انشاء اللہ کبھی موقع ملا تو جاکر ایک ٹرک بھر کر ان بیلوں کا لاؤں گا۔
09 Mar 2009 بوقت 3:16 pm
واہ زین بھائی خوب۔۔۔آپ کے بلاگ پر ہمیشہ منفرد تحاریر ملتی ہیں۔۔۔۔
بہت خوب۔۔۔۔تصاویر بھی بہت اچھی ہیں۔۔۔۔۔
11 Mar 2009 بوقت 11:12 am
یہ کونسی زبان ہے؟
11 Mar 2009 بوقت 11:42 am
خرم:
ہمم۔ بیلوںکی یہ نسل بہت مشہور ہیں۔ اس سال بھی بہت سے بیل فروخت ہوئے۔
محمد نعمان:
شکریہ اور بلاگ پر خوش آمدید
شعیب:
پتہ نہیں بھائی ۔ میں خود پریشان ہوں
15 Mar 2009 بوقت 9:23 pm
زبردست ، سبی میلہ کے بارے جان کر بہت اچھا لگا ۔ سرگودھا میں ایسا ہی ایک میلہ لگتا ہے ۔
23 Mar 2009 بوقت 11:23 pm
شکریہ
تو آپ بھی اس میلے کے بارے میں لھیں ناں
15 Aug 2009 بوقت 12:38 am
زین آپ کا بز کشی کا مضمون پڑھنے پر مجھے یاد آیا کہ میں نے اس کھیل کا ذکر کسی کتاب میں بھی پڑھا تھا لیکن اتنی تفصیل نہیں معلوم تھی۔ شکریہ
اور یہ جو آخری تصویر ہے۔ مجھے لگتا ہے چند دن پہلے پی ٹی وی گلوبل پر اس بارے میں پروگرام چل رہا تھا۔ انٹرویو بھی تھا موٹر سائیکلسٹ لڑکی کا۔
زین! ہنہ جھیل اور پشین کی تصویروں کا کیا بنا؟
17 Aug 2009 بوقت 1:14 am
آپ کا شکریہ
ہنہ جھیل تو اتفاق سے آج ہی ہم گئے تھے بڑا مزہ آیا ۔ جھیل کے بارے میں ایک چھوٹی سے تحریر کہیں سے ملی تھی وہ میں نے وکیپیڈیا پر پیش کی تھی اس کا لنک دے دیتا ہوں ۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/%DB%81%D9%86%DB%81_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84_%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%B9%DB%81
اس کے علاوہ جھیل کی کچھ تصویریں میرے پاس محفوظ ہیں آپ کو میل کردیتا ہوں ۔ پشین کے بارے میں کوشش کررہا ہوں لیکن وقت ہی نہیں مل رہا آپ کے ساتھ کیا گیا وعدہ مجھے یاد ہے
24 Oct 2009 بوقت 1:16 pm
بہت خوب