زین الدین

سوات کے بعد بلوچستان؟؟؟

مصنف : zainzf :: بتاریخ 08 Feb 2009

جلال نورزئی
گزشتہ پیر (دو فروری2009ء ) بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کوئٹہ آفس کے سربراہ جان سولیکی کو نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا۔ اس دوران ملزمان کی فائرنگ سے ان کا ڈرائیور سید ہاشم رضاجاں بحق ہوا۔

یو این ایچ سی آر بلوچستان کے سربراہ جان سولیکی  کی فائل فوٹو

جان سولیکی امریکی شہری ہیں اور کوئٹہ میں دو سال سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ واقعہ کے روز جان سولیکی چمن ہائوسنگ اسکیم میں واقع اپنی رہائشگاہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع اپنے د فتر جارہے تھے کہ انہیں منصوبہ بندی کے تحت اٹھالیا گیا۔ یوں تو وطن عزیز پاکستان اس وقت سخت آزمائش سے دو چار ہیں بلخصوص قبائلی علاقوں اور سوات میں جنگ بپاہے ،ملک کو بھاری نقصان کا سامنا ہے ، قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور نا معلوم کشت و خون کا یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ ۔ گویا اس نوعیت کے حالات اور واقعات نامانوس و انہونی نہیں ہیں۔ بلوچستان میں پہلے بھی ساحلی شہر گوادر میں تین چینی انجینئرز کو قتل کیاجاچکا ہے ۔ صنعتی شہر حب میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا جاچکا ہے تاہم جان سولیکی کا اغواء ایک انوکھا اضافہ ہے جو کہ باعث تشویش سانحہ ہے ۔ شاید ایک اور آزمائش نے ہمیں آ گھیر لیا ہے ۔

جائے وقوعہ

فی الوقت جان سولیکی کا اغواء ایک معمہ بنا ہوا ہے ۔ ہفتہ کے روز(فروری کو)ایک نئی بلوچ تنظیم (بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ) نے میڈیا کے دفاتر فون کرکے اقوام کے اہلکار کو اٹھانے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور توجیہ یہ پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ بلوچستان میں گمشدہ و گرفتار 141خواتین سمیتہزار سے زائد بلوچ افراد کو رہا کرائے اور بلوچستان کے مسئلے کو جینوا کنونشن کے تحت حل کیا جائے ۔
ٹیلیفونک تو دعویٰ تو کرلیا گیا ہے لیکن اس تنظیم کا نام اسی دن منظر عام پر آیا ہے جس دن جان سولیکی کے اغواء کا دعویٰ کیا گیا ۔اس سے قبل اس نام کی کوئی تنظیم نہ سرگرم تھی اور نہ ہی اس نام سے کسی تنظیم نے کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی کی ہے لہٰذا تنظیم کی وجود کی صحت مشکوک ہے اسی لیے فوری طور پر ان کے دعوے پر باور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دیگر سرگرم بلوچ اور معروف بلوچ مسلح مزاحمتی تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ری پبلکن آرمی نے بھی اس واقعہ سے لا علمی کا اظہار کیا ہے جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیوروغ بلوچ نے ہفتہ کے روز کوئٹہ چھائونی پر چار راکٹ داغنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کے مذکورہ نئی بلوچ تنظیم سے متعلق استفسار پر یہ کہا کہ اس تنظیم کا نہ ان کا تعلق ہے اور نہ ہی اس سے پہلے کبھی اس کا نام سنا ہے ۔ چنانچہ ا س بات کا فیصلہ تو آئندہ دنوں پر موقوف ہے کہ جان سولیکی کو کس انتقام کے تحت کس گروہ نے اغواء کر لیاہے ۔
سرِ دست ان سطور میں ہم قیاس و گمان اور معروضی حالات کی بنیاد پر تجزیے کا سہارا لے سکتے ہیں جو کہ غلط بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ بلوچستان کوجن حالات کا سامنا ہے ، حکومت سے متعلق جن رویوں کا اظہار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اس سے باآسانی یہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ جان سولیکی کا اغواء بلوچ مزاحمت کاروں کا مقصد ہی نہیں ہے چونکہ ان کے احتجاج اور مزاحمت کا دائرہ حکومت پاکستان تک محدود ہے ۔بلوچ مزاحمتی تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان نے میڈیا کے نمائندوں سے نامعلوم مقام سے ٹیلیفونک گفتگو میں جان سولیکی کے اغواء کے واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ۔ چنانچہ اب یا تو جان سولیکی کو جرائم کے کسی پیشہ ور گروہ نے اغواء کیا ہے جن کا مطالبہ ممکن ہے مال و زر کی صورت میں سامنے آئے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا بلوچستان میں اس قدر مضبوط جرائم پیشہ گروہ وجود رکھتاہے جو اس قدر اہم شخصیت پر ہاتھ ڈالیں؟۔ جس کے اغواء کے بعد پوری دنیا میں اضطراب پھیل گیا چہ میگوئیاں ہورہی ہیں اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ پاکستانی حکومتی مشینری حرکت میں آگئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شدید رد عمل کا اظہار کی اہے ۔ بہر حال ہم اس امکان کو یکسر رد بھی نہیں کرسکتے ۔ تیسرا پہلو طالبان کا ہے ۔ افغانستان میں اس وقت مزاحمت ہورہی ہے جس میں امریکہ اور افغان مجاہدین متحارب ہے ۔ یہ مزاحمت پاکستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیل گئی ہے ۔ چونکہ جان سولیکی امریکی شہری اور پھر اقوام متحدہ کے بڑے عہدے دار کے طو پور رفاعی ادارے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس تناظر میں ایک واضح نقشہ جو ذہن میں تازہ ہوتاہے وہ گزشتہ سال کے اوائل میں بلوچستان کے ضلع قلہ سیف اللہ میں پاک افغان سرحدی علاقے میں معروف طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کے چھوٹے بھائی منصور داد اللہ کے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کا ہوسکتا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جان سولیکی کے بدلے منصور داد اللہ اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے آئے کیونکہ ملا داد اللہ کی ہلاکت کے بعد ان کے حصے کی ذمہ داریاں منصور داد اللہ کو سونپ دی گئی تھی اور طالبان تحریک میں منصور داد للہ کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ حتیٰ کہ بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام کے جلسوں میں منصور داد اللہ آڈیو تقاریر سنائی جاتی تھی ۔ بہر حال تادم تحریر صورتحال غیر واضح ہے ۔

لیکن پھر بھی یہ امر پیش نظر رہے کہ بلوچستان کے شمالی علاقوں بشمول کوئٹہ میں طالبنائزیشن کا واویلا شروع کیا جاچکا ہے ۔ بعض ’’یاروں‘‘ نے اپنے مضامین میں یہاں تک لکھا ہے کہ کوئٹہ کاروباری لوگوں کو اپنے ریسٹورانوں میں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی جگہ بند کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں اس میں بطور خاص کوئٹہ کی اہم شاہراہ جناح روڈ پر واقع بیگ سنیک بار کا حوالہ دیا گیا ہے اور وہ تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جس میں یہ تحریر واضح ہے کہ خواتین کا اندر آنا منع ہے ۔ حالانکہ اس ریسٹورنٹ کا مالک اس تصور کر رد کرتا ہے ۔ اول تو ان کا کہنا ہے کہ ان کے ریسٹورنٹ میں مخصوص بالائی حصے میں تعمیراتی کام ہورہا ہے ۔ دوئم اگر ایک خاتون آتی ہے تو اس سے دس مرد گاہگ چلے جاتے ہیں لہٰذا یہ اقدام کاروباری نقطہ نظر سے بھی اٹھایا گیا ہے ۔ البتہ بیگ سنیک بار کے گرائونڈ پوریشن میں بیٹھنے کی خواتین پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ طالبان کوئی مخفی گروہ نہیں ہے ۔ اچھے ہو یا برے ، ان کے مقاصد ،ترجیحات اور اہداف واضح ہیں ۔ لہٰذا خفیہ پرچیوں یا کسی کی جانب سے ٹیلی فون کالز پر یقین کرنا قبل از وقت حماقت ہے۔
جان سولیکی کے اغواء کے ضمن میں چوتھے پہلو میں یہ عنصر بھی شامل کیا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ پاکستان کے اندر امریکہ نے اپنے اہداف پانے کا آغاز کردیا ہے ۔ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستانی حدود میں لوگوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا جاسوسی نیٹ ورک بھی دن بدن پھیل رہا ہے ۔ دنیا کو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ دراصل پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ اور پناہ گاہ ہے اور اس مبینہ دہشت گردی کے خلاف ایک لاکھ کے قریب پاکستانی افواج حالاتِ جنگ میں ہے لیکن امریکہ “Do More” کا متقاضی ہے ۔ پاکستان کو دراصل اس جنگ کا اگر کوئی صِلہ ملا ہے تو وہ یہ ہے کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔ چانچہ ہم ان سطور میں اس اندیشہ کا اظہار کرتے ہیں کہ کہیں جان سولیکی کا اغواء عالمی چال بازوں اور شاطروں کا کیا دھرا نہ ہو ۔ تاکہ پاکستان کو مزید بدنام کیا جاسکے اور اس کی رٹ ختم قرار دیا جاسکے ۔ اور یہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکے کہ اب مزید پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے عاجز آچکی ہے ۔ چنانچہ یہ کام ہم خود ہی کیوں نہ انجام دیں۔
ایسے ہی خدشات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے برطانوی خبر رساں ادارے سے انٹرویو میں کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سوات جیسے حالات پیدا کرنے کے بہانے تلاش کئے جارہے ہیں۔ مولانا واسع کے مطابق ’’ان‘‘ لوگوں کے ارادے بلوچستان کے لیے بھی خراب ہیں کیونکہ اس طرح کی کارروائیاں خود ہی کی جاتی ہیں ۔ اگر امریکہ مخالف قوتوں نے یہ کارروائی کی ہوتی تو اب تک کسی نہ کسی نے ذمہ داری قبول کرلی ہوتی۔ مولانا واسع کا کہنا ہے کہ اب کچھ دنوں بعد اس ادارے کے سربراہ کو منظر عام پر لے آئیں گے اور پھر کہیں گے کہ کامیاب مذاکرات کے بعد انہیں بازیاب کرالیا گیا ہے ‘‘۔کچھ دن قبل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کیا جہاں انہوں نے اس حوالے سے خاص ذکر کیا کہ ان کی جماعت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر پشتون علاقوں کو سوات بننے نہیں دے گی۔ معلوم نہیں کہ محمود خان اچکزئی نے یہ اشارہ کیوں کیا ؟ ان کا مطمع نظر کیا تھا۔ آیاں یہ ابہام کسی واقعے کے بعد ہوا کہ یہاں بقول سامراجی اور استعماری ٹولوں کے طالبانائزیشن کہاں پنپ رہی ہے ۔ بہر حال یہ وضاحت محمود خان اچکزئی کے ذمے ہے ۔ کہیں اگر انہیں موقع ملے تو ضرور اس حوالے سے وضاحت کریں۔ بہر حال ہم اتنا ضرور کہیں گے کہ اگر اس ملک کو مذہبی انتہاء پسندوں سے خطرہ ہے تو اتنا ہی خطرہ لبرل اور سیکولر انتہاء پسندوں سے بھی ہے جو اپنی تحریر،تجزیوں ، خیالات اور احتجاج کے ذریعے سامراج اور استعمار کے موقف اور ایجنڈے کو تقویت فراہم کررہے ہیں اور ان کے دست وبازو بنے ہوئے ہیں۔بہر کیف آتے ہیں جان سولیکی کے اغواء کی طرف ۔ اس واقعہ کے بعد تحقیقات کے لیے منگل تین فروری کو اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف سیکورٹی اینڈ سیفٹی(UNDSS)کی 9رکنی ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی ۔ ذرائع کے مطابق ٹیم نے کوئٹہ کے پولیس و دیگر سیکورٹی حکام سے ملاقات کی اور مغوی اہلکار کی بازیابی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر بریفنگ لی۔ جبکہ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی چھ رکنی ٹیم بھی اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے کوئٹہ پہنچ گئی ہے تاہم ایف بی آئی کے اہلکاروں کی آمد کسی جانب سے تصدیق شدہ نہیں ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں کی اس وقت تک کی تحقیقات اور رائے میں یہ بتایاگیا ہے کہ جان سولیکی کو کوئٹہ میں ہی رکھاگیاہے ۔ ان کے اغواء کے بعد سیکورٹی چیکنگ سخت کردی گئی ہے ۔ مختلف علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیموں کے چھاپوں میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ،اب تک کی کارروائی سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اپنی توجہ مذہبی لوگوں پر مرکوز کر رکھی ہے اور مذہبی لوگوں کو ہی جان سولیکی کے اغواء کے اشتباہ میں تفتیش کے لیے حراست میں لیا ہے ۔ سیکورٹی فورسز نے شہر کی ناکہ بندی کرلی ہے تاکہ اقوام متحدہ کے اہلکار امریکی شہری کو کوئٹہ سے باہر نہ لے جایا جاسکے۔ جان سولیکی کے بارے میں کسی بھی قسم کی اطلاع فراہم کرنے والے کو دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مختلف ادارے کوئٹہ شہر سے باہر جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کررہی ہے جس میں بسوں، کاروں ، ٹرکوں اور گاڑیوں میں سوار ہر شخص کی چیکنگ کررہی ہے ۔ گھڑ سوار پولیس شہر کے اطراف کے کچے راستوں اور پہاڑوں کے درمیان میں تعینات کیئے گئے ہیں۔ صوبے سے باہر جانے والے رستوں پر فرنٹیئر کور کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیاہے اور کہا ہے کہ اگر جان سولیکی کے اغواء کی تحقیقات کے لیے امریکی ادارے آتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جائے گا بلکہ تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔ جان سولیکی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاہم اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے اغواء میں کون لوگ ملوث ہے ۔ دریں اثناء وفاقی حکومت نے حکومت بلوچستان کو ایک خصوصی مراسلہ ارسال کیاہے اس مراسلے میں بلوچستان بھر میں غیر ملکی باشندوں کی سیکورٹی کو موثر بنانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں مراسلے میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی بلوچستان پولیس ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ بلوچستان بھر میں رہائش پذیر غیر ملکی باشندوں، این جی اواز کے دفاتر اور عملہ کی سیکورٹی کو موثر بنائے۔
بہر حال یہ تلخ حقیقت پاکستان کی حکومت سیاسی جماعتوں اور عوام النا س کے ذہن میں رہے کہ اس قسم کے واقعات کی بنیاد پر پاکستان مخالف حلقے ملک کو دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کی جنت قرار دیتے ہوئے ہمارے لیے بڑی مشکلات اور سنگین خطرات پید اکررہے ہیں ۔ شاطر اورقوتوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی بھر پور مہم شروع کر رکھی ہے ۔

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks

5 تبصرے to “سوات کے بعد بلوچستان؟؟؟”

  1. دوست کا کہنا ہے کہ:

    بجا فرمایا آپ نے۔ ہمیں اس وقت اس موضوع پر وسیع تر مکالمے کی ضرورت ہے۔ :roll:

  2. تانیہ رحمان کا کہنا ہے کہ:

    زین بس دعا کرو کہ انسان کو انسان سمجھا جائے۔ ورنہ جو حالات جا رہئے ھیں ۔اس سے تو یہ لگتا ھے ،کہ انسانوں سے اچھا جانور ہونا

  3. ف-قدوسی کا کہنا ہے کہ:

    میری دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔۔ ایسی خبریں پڑھتی ہوں تو بہت اداس ہوجاتی ہوں ۔۔۔۔

  4. طالوت کا کہنا ہے کہ:

    اگر یہ کام اسلام کے نام پر ہے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام غیر مسلح افراد پر حملے کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ آدم خیل میں پولش انجینیر کے ساتھ ہوا ۔۔ باقی ہر ایک کی اپنی ڈیڑھ اینت کی مسجد ہے مگر موہ مسجد دراصل ہے نہیں ۔۔
    وسلام

  5. زین کا کہنا ہے کہ:

    دوست:
    بلاگ پر خوش آمدید ۔ شکریہ۔
    تانیہ بہن:
    آپ کی بات بجا ہے کہ آج اشرف الخلوقات کہلانے والے انسان آج خود کو حیوانوں سے بد تر سمجھتے ہیں ۔

    ف۔ قدوسی:
    بلاگ پر خوش آمدید
    آمین ۔ آپ تو اپنے معصوم سے ذہن پر بوجھ ڈالنے کے لیے زیادہ نہ سوچا کریں۔ :smile:
    طالوت:
    فی الحال تو یہاں وہ قوتیں سرگرم نہیں‌جو سوات و دیگر قبائلی علاقوں میں‌اسلام کے نام پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ چند ایک یاروں‌نے میڈیا پر پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے ۔ جن کے اپنے کچھ مقاصڈ ہے ۔

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>