زین الدین

محافظ قاتل بن گئے …….

مصنف : zainzf :: بتاریخ 06 Jan 2009

سال 2008ء کے آخری دن 31 دسمبر کو کراچی کے خالد بن ولید روڈ پر چار نوجوان تاجروں کو اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور الزام یہ لگایا کہ چاروں تاجر ڈاکو تھے جنہوں نے پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں مارے گئے ۔

ایئر پورٹ پرتاجروں کے ورثاء میتیں جلوس کی شکل میں لے جارہے ہیں۔

یکم جنوری کو جب چار تاجروں کی میتیں کراچی سے بذریعہ طیارہ لائی گئیں تو کوئٹہ ایئر پورٹ سے ان کے رشتہ دار،عزیز و اقارب، سیاسی جماعتوں کے کارکن اور تاجر برادری میتوں کو لیکر جلوس کی شکل میں گورنر اور وزیراعلیٰ ہائوس پہنچ گئے جہاں انہوں نے دھرنا دیا اورنعرے بازی کی ۔ مذکورہ تاجروں کا تعلق پاک افغان سرحدی شہر چمن سے تھا ،اسی روز چمن میں بازار احتجاجاً بند ہوگیا۔بعد ازاںاگلے روز2 جنوری2009ء کوئٹہ شہر اور چمن میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی ،شہر میں کاروبار مکمل بند رہا ۔ تاجرتنظیموں اور سیاسی جماعتوں‌ نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔

بلوچستان کے پاک افغان سرحدی شہر چمن سے تعلق رکھنے والے تاجر حال ہی میں جاپان اور دبئی کے تجارتی دوروں سے واپس آئے تھے ۔پولیس نے انہیں قتل کرنے کے بعد یہ بھونڈا الزام لگایا کہ ڈاکو تھے اور پو لیس مقابلے میں مارے گئے ۔ممکن ہے کہ پولیس نے اپنے سے اسلحہ بھی بر آمد کر لیا ہو ۔ لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے ،ان نہتے شہریوں کے پاس ما سوائے اپنے استعمال کے موبائل ،ذاتی رقم اور ہا تھوں میں پہنے گھڑیوں کے اور کچھ نہ تھا۔ ان اشیاء کو بھی پولیس نے موقع پر ہی اچک لیا ۔عجیب بد بخت ڈاکو تھے جو ایک طرف تو جاپان ،دبئی اور کراچی میں لا کھوںکر وڑوں کا کاروبار کر تے تھے اور ساتھ کراچی میں چھوٹاموٹا ہاتھ بھی مارتے تھے ؟

نہ جانے اسطرح کے کتنے واقعات روز ملک کے طول وعرض میں رونما ہوتے ہوں گے ،کتنے بے گناہ موت کے بھینٹ چڑھتے ہوں گے ،کوئی پرسان حال نہیں۔ اب تو شہریوں کو قانون کے محافظوںسے بھی خطرات لاحق ہے۔ گزشتہ دنوں بھی کراچی میں پولیس کے ایسے گروہ کو پکڑا گیا جو چوری، رہزنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میںملوث تھا۔ مذکورہ چار نوجوانوں کے ورثاء نے تو کچھ شور مچایا،واویلا کیا اورپولیس کے فریب غنڈہ گردی اور دہشت گردی کا پردہ چاک کردیا مگر وہ جو گمنام ہوکر مرتے ہیں ان کی کون سنے گا ؟

مہذب معاشروں میں ان کے ریا ستی ادارے اور معاملات قا نون اور دستور کے تحت چلتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی برائے نام ہو کررہ گئی ہے ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق طاقتور حاکم ہوتا ہے ،ان کے لیے انصاف در حقیقت موجود ہوتاہے۔لیکن ایک عام آدمی اس حق سے محروم ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرکے اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks

5 تبصرے to “محافظ قاتل بن گئے …….”

  1. ڈفر کا کہنا ہے کہ:

    سر جی اللہ برے وقت سے بچائے
    ہمیں سب کو اب اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ ہمارے محافظین میں سے کسی کی بندوق میں ہمار نام کی گولی بھر لی جائے

  2. عبدالقدوس کا کہنا ہے کہ:

    مال مفت دلِ بے رحم

  3. تانیا رحمان کا کہنا ہے کہ:

    زین کس کس بات پر رویا جائے ۔ ملک کے حالات اتنے سنگین ھیں کہ زندہ گھر آجانا بڑی بات ھے میری تو اللہ پاک سے یہی دعا ھے کہ یا تو ان حکمرانوں کو عقل دے یا پھر ان کو ھمیشہ ھمیشہ کے لیے دنیا سے اٹھا لے ، حد ہو گی بے حسی کی جس ملک میں انسان جانور سے بری زندگی گزار رہا ھو ،اس کے حکمرانوں کو زندہ رہنے کا بھی کوئی حق نہیں

  4. zainzf کا کہنا ہے کہ:

    ڈفر بھائی :
    آمین ۔
    حالات ایسے ہی رہے تو پھر تیار رہنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔

    اور یہ سر جی کس کا کہا ہے ؟ :smile:

  5. افتخار اجمل بھوپال کا کہنا ہے کہ:

    جو قومیں بے راہ روی پر چل نکلتی ہیں ان کا چین چھین لیا جاتا ہے

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>