مصنف : zainzf :: بتاریخ 17 Aug 2009
یہ تحریر جلال نورزئی صاحب کی ہے ۔ ان کی اس تحریر سے مجھے مکمل اتفاق ہے اس لئے پیش کررہا ہوں۔

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان میں بطور خاص صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں 62 واں یوم آزادی، قومی یکجہتی کی فضاء میں جوش و خروش سے منایا گیا ۔ یوم آزادی کی سرکاری تقریبات کا آغاز دار الحکومت میں علی الصبح 21توپوں کی سلامی سے ہوا مساجد مین وطن عزیز پاکستان کی سلامتی، بقاء اور ترقی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ جشن آزادی کے حوالے سے سب سے بڑی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار پر منعقد ہوئی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے پرچم کشائی کی ۔ دوسری جانب یوم آزادی سے قبل پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے صوبے کے مختلف علاقوں میں راکٹ داغے گئے گھروں میں دستی بم پھینکنے کے وواقعات کے علاوہ تنصیبات اڑانے کی کوششیں کی گئیں تاہم ان پر تشدد واقعات میں جانی نقصانات کی اطلاع نہیں آئی۔ ماہ اگست کے آغاز کے ساتھ یہ سوال بھی چھبتا رہا کہ امسال آزادی کے جشن کی تقریبات منعقد ہوں گی ؟ سرکاری سطح پر تو حالات چاہے کچھ بھی ہو اپنے ڈھنگ اور انداز میں تقاریب منعقد کرلی جاتی ہیں اور ایسا2واں یوم آزادی پر بھی ہوا۔ البتہ سوال عوامی سطح پر جشن اور خوشیوں کے اظہار کا تھا چونکہ صوبے میں حالات ناسازگار ہیں جس کے باعث یکم اگست کے بعد جشن آزادی کے حوالے سے شہر میں دلچسپی دکھائی نہیں دی گئی ، پہلے کی طرح جب شہر میں دکانوں کے علاوہ اسٹالز بھی لگا کر جھنڈیاں اور بیجز فروخت کئے جاتے تھے ایسا نہ ہوا جس کی بنیادی وجہ مسلح تنظیموں کی جانب سے جا بجا دھمکیاں تھیں کیونکہ گزشتہ سال ایسے واقعات رونما ہوچکے تھے یہی وجہ تھی کہ تاجر خوف کا شکار ہوگئے تھے لیکن دس اگست کے بعد گاڑیوں، رکشوں ، موٹرسائیکلوں اور سائیکلوں پر جھنڈیاں لہرائی گئیں

مختلف نجی و سرکاری عمارتوں پر بھی پرچم لہرائے گئے اس کے ساتھ گورنرہائوس وزیراعلیٰ ہیائوس، سٹی ناظم ہائوس، بلوچستان اسمبلی، بلوچستان ہائیکورٹ، سول سیکرٹریٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس، کمشنر آفس کے علاوہ مختلف سرکاری اور جی عمارتوں کو رنگ برنگی برقی قمقوں سے سجالیا گیا شہر چراغان سے جگ مگا اٹھا لوگوں کے جذبے تازہ ہوگئے آزادی کا2واں جشن منانے کی امنگ نے بچوں بوڑھوں جوانوں اور خواتین کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کردیا ۔ 13اگست کی رات گئے شہری اپنے اہل خانہ کے ساتھ چراغاں کا نظارہ کرنے گھوم رہے تھے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈھول کی تھاپ پر لوگ رقص کررہے تھے پورا شہر سجا ہوا تھا چودہ اگست کی سہ پہر ہی سے شہری سڑکوں پر نکل آئے قومی پرچم اٹھائے پاکستان زندہ آبادکے نعرے لگارہے تھے رات کو وسطی شہر میں جشن کا سماء تھا شہر ملی نغموں سے گونج رہا تھا مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر نوجوان روایتی رقص کررہے تھے ۔ ادھر فرنٹیئر کور کے ہیڈ کوارٹر میں آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا رنگ اور نور کا سما بندھ گیا آتش بازی دیدینی تھی اور شہری اپنی گلی محلوں میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگارہے تھے آتش بازی کا شہر کے دور دور علاقوں میں بھی نظارہ کیا گیا۔کہتے ہیں کہ لاہور میں آزادی پر جوش انداز میں منائی گئی لیکن شہر کوئٹہ میں جشن کا جو منظر دیکھنے کو ملا وہ لاہور یا ملک کے دوسرے کسی بھی شہر اور علاقے سے کم نہ تھا ۔ یہ دعویٰ بلا مبالغہ کیا جاتا ہے مگر افسوس برطانوی نشریاتی ادارے ( بی بی سی ) کی رپورٹ اس ضمن میں انصاف اور حق کے برخلاف تھی ۔



بلوچ اکثریتی علاقے خاران میں لوگ ڈھول کی تھاپ پر روایتی بلوچی رقص کررہے ہیں
(میرے پاس صرف یہی تصاویر تھیں ، کوشش کرتا ہوں کہ 14 اگست کی رات کو کوئٹہ میںمنائے جانے والے جشن کی تصاویر مل سکیں پھر آپ لوگ خود اندازہ لگاسکیں گے )
ٹھیک ہے سرکاری سطح پر اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ اب سے نہیں ساٹھ اکسٹھ سالوں سے ہوتا رہا ہے لیکن عوام اپنے انداز سے جشن مناتے ہیں ۔13اور14اگست کی رات جو سماء تھا وہ مبرہن ہے ۔

یہ بات درست ہے کہ صوبے میں خوف و ہراس پھیل چکا تھا ۔بعض سیاسی جماعتوں اور بالخصوص مسلح تنظیموں کی جانب سے گیارہ اگست کو آزادی بلوچستان کا اعلان اور پرچم لہرانے کے اعلانات کے باعث تشویش پائی جاتی تھی تاہم اس کے ساتھ سیکورٹی انتظامات بھی انتہائی سخت تھے ۔ گیارہ اگست کو سوئی ، کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں آزاد بلوچستان کے پرچم لہرائے گئے اور چودہ اگست کو یوم سیاہ کا اعلان کیا گیا تھا ۔بزرگ بلوچ قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نوابزادہ حیربیار مری نے بلوچ قوم سے اپیل کی کہ وہ گیارہ اگست کو بلوچستان بھر میں بلوچ قومی پرچم لہرائیں اور یوم آزادی بلوچستان منائیں اور مسلح مزاحمت تیز کردی جائے۔ یہی الفاظ نوابزادہ براہمداغ بگٹی کے بھی تھے جنہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا براہمداغ بگٹی نے کہا کہ بلوچ قوم نے گیارہ اگست کو یوم آزادی مناکر دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ مسلح مزاحمت کاروں کے ساتھ ہیں ۔مذکورہ رہنمائوں کے یانات سیاسی الفاظ پر مشتمل ہوسکتے تاہم بظاہر جس سخت موقف کا اظہار کیا گیا ہے اس کے بعد تو بظاہر مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ بند ہوجاتا ہے کیونکہ وفاقی حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ صوبائی خود مختاری کے ذریعے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھائے گی لیکن حیربیار اور براہمداغ مطلق آزادی کی بات کررہے ہیں چنانچہ اس صورت میں حکومت کے لئے تو بات چیت کے لئے تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں ۔
9ادھر خان آف قلات سلیمان دائود نے گیارہ اگست کے موقع پر کونسل فار انڈپینڈنٹ بلوچستان اعلان کردیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد و خود مختار بلوچستان ان کی جدوجہد کا محور ہے اور کونسل فار انڈیپینڈنٹ بلوچستان میں ایران و پاکستان کے علیحدگی پسند قوتوں کی نمائندگی ہوگی اور کونسل آزاد بلوچستان کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے جدوجہد کرے گا سلمان دائود نے کہا کہ ایران و پاکستان کے علیحدگی پسند قوتیں جو اس کونسل میں شامل ہیں چند ناگیز وجات کی بناء پر فی الحال ان کے ناموں کا اعلان نہیں کیا جائیگا اور براہمدا بگٹی سمیت تمام علیحدگی پسند کونسل کا حصہ ہوں گے ۔کونسل میں علیحدگی پسندوں کی شمولیت کی باتوں کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی ،نیشنل پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی )جمہوری وطن پارٹی کے دونوں دھڑوں کے لئے مشکل پیدا ہوچکی ہے۔مذکورہ دونوں جماعتوں کواب اس سوال کا بھی سامنا ہے کہ بلوچ ری پبلکن پارٹی، انجمن اتحاد مری، بلوچ نیشنل موومنٹ اور مسلح تنظیموں کی جانب سے آزاد بلوچستان کا جوم پرچم تیار کیا گیا وہ پرچم انہیں قابل قبول ہے اور کیا آزاد بلوچستان کا یہی جھنڈا ہونا چاہیئے چونکہ بی این پی اور نیشنل پارٹی پارلیمانی سیاست کے ذریعے قومی جدوجہد کررہی ہیں اگر بلوچستان آزاد ہوتا ہے تو ان دو جماعتوں کی کیا حیثیت ہوگی ؟ صوبے میں جاری پرتشدد واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے ۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ خان آف قلات نے فقط علیحدگی پسندوں کو کونسل میں شریک کرنے کی بات کی ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی ،نیشنل پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی )اورجمہوری وطن پارٹی کے دونوں دھڑوں کی طرز سیاست علیحدگی پر مبنی نہیں ہے جو پارلیمانی سیاست کررہی ہیں اور مکمل صوبائی خود مختاری کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ گویا بلوچستان کے قوم پرست سیاسی جماعتوں کے لئے یہ لمحہ مشکل کا ہے ۔
ادھر کوئٹہ میں سریاب روڈ پر موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد فائرنگ ہوئی سیکورٹی فورسز نے اس موقع پر بے دریغ گولیاں برسائیں ۔ بم دھماکے کے واقعہ میں چار افراد زخمی ہوگئے ۔ دھماکے کا مقصد سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانا تھا تاہم سوال یہ ہے کہ جو شہری زخمی ہوگئے ہیں انہیں کس کی گولیوں نے لہولہان کردیا ؟ فرنٹیئر کور کے اہلکار انتہائی تربیت یافتہ ہیں لہٰذا انہیں چاہیئے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں ایسی حکمت عملی اختیار کریں کہ شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہ ہو۔امروز عیسیٰ نگری میں دستی بم حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوئے ۔مزید براں بارہ اگست کی رات کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم مقام سے پولیس ناکے پر راکٹ داغا گیا جس کے پھٹنے سے بلوچستان کانسٹیبلری کے دو اہلکار حوالدار ریاض اور جبل خان جاں بحق ہوگئے دھماکے کی زد میں آکر چار اہلکار زخمی ہوگئے۔
اہل وطن نے یقینا آزادی کا دن ملی جذبے سے منایا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ من حیث القوم ہم اب تک آزادی کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکے ہیں نہ ہی ہم نے اپنی خود مختاری اور آزادی کا تحفظ کرپارہے ہیں ۔نا برابری کے باعث صوبوں میں دوریاں پیدا ہورہی ہیں جس کا لا محالہ ملک کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ کوئٹہ میں چودہ اگست کی صبح پرچم کشائی کی تقریب سے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اپنے خطاب میں انہی باتوں کا ذکر کیا ۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ’’پاکستان کے قیام کے مقاصد2سال گزرنے کے باوجود بھی حاصل نہیں کئے گئے جس سے عوام میں احساس محرومی پیدا ہوئی ،ماضی کی غلط پالیسیوں اور امتیازی رویوں کے باعث وفاق اور اکائیوں میں پیدا ہونےوالی خلیج کے خاتمے کے لئے وفاق کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی‘‘۔
زمرہ : پاکستان | 10 تبصرے »
مصنف : zainzf :: بتاریخ 06 Aug 2009

بلوچستان کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیسکیشن سردارزادہ رستم جمالی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
سردار زادہ رستم جمالی جمعرات کو گلستان جوہر کے علاقے سے اپنی ذاتی گاڑی بلیک کلر کی پی ڈی 5610 نمبر والی پراڈو میں جا رہے تھے کہ تھانہ شارع فیصل کی حدود گلستان جوہر میں گاڑی میں سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ زخمی ہوگئے اور آغا خان ہسپتال منتقل کرتے ہوئے چل بسے
ایک نجی ٹی وی نے عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ تین نامعلوم افراد نے رستم خان جمالی کو زبردستی گاڑی سے اتارا اور تین گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا جن میں سے دو گولیاں سینے اور ایک گولی سر میں لگی جبکہ گاڑی کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ سردار رستم جمالی خود گاڑی چلا رہے تھے ان کے ہمراہ سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔
رستم خان جمالی کے دوستوں عزیز ناتانی اور حاجی رمضان نے بتایا کہ رستم جمالی ان سے ملنے آرہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے انہیں نشانہ بنایا ۔ پولیس حکام نے واقعہ سے متعلق متضاد آراءکا اظہار کیا ہے ۔ ایس پی شارع فیصل عبدالقیوم کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ نہیں بلکہ گاڑی چھیننے کی کوشش میں مزاحمت کا واقعہ ہے۔ جبکہ ایک نجی ٹی وی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنےوالے پولیس اہلکاروں سے متعلق بتایا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہوسکتا ہے ۔
سوانح عمری
سردار زادہ رستم خان جمالی نے 9 جنوری 1963ءجمالی خاندان کے سربراہ سردار یار محمد جمالی کے گھر میںآنکھ کھولی ۔ ان کے خاندان کی کئی شخصیات قیام پاکستان سے لیکر اب تک سیاست میں سرگرم رہیں ۔وہ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے بھانجے جبکہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر تاج محمد جمالی اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی کے قریبی رشتہ دار تھے۔ ان کا تعلق ضلع جعفرآباد کے علاقے بکھرڑوسے تھا ۔ وہ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے انہوں نے ابتدائی تعلیم اوستہ محمد جعفرآباد سے حاصل کرنے کے بعد ایجی سن کالج لاہورمیں پڑھا جبکہ گریجویشن جامعہ بلوچستان سے مکمل کیا ۔ ان کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ تھا۔ سرداررستم جمالی نے دوشادیاں کیں ۔ سردار رستم جمالی نے 1990میں عملی طور پر سیاست کے میدان میں قدم رکھا اورچیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوئے ۔ 1997 ءمیں صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست ہوئی تاہم فروری 2008 ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ پی بی 25 جعفرآباد ون سے آزاد حیثیت میں انتخاب میںحصہ لیا اور کامیاب ہوئے ۔ مخلوط حکومت بننے کے بعد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی وزارت کا قلمدان سنبھالا ۔ انہوں نے پانی کے مسئلے پر سخت موقف اپنارکھاتھا اور بلوچستان کے پانی کی چوری کے خلاف آواز بلند کی ۔ وہ افہام و تفہیم کی سیاست پر یقین رکھتے تھے ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو ۔انہوں نے کئی قبائلی تنازعات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
زمرہ : حالات حاضرہ, خبریں, پاکستان | 5 تبصرے »
مصنف : zainzf :: بتاریخ 14 May 2009
یہ پی ٹی اے کی پریس ریلیز ہے جو مجھے بذریعہ ای میل موصول ہوئی
———-
متاثرین کی امداد کے لئے ایس ایم ایس سروس کا اجرا
متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد کو ملک کے مختلف حصوں میں جگہ دینے کے لئے’’وزیرِ اعظم خصوصی فنڈ برائے متاثرین دہشت گردی‘‘ قائم کیا گیا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کے مطابق سیلولر موبائل انڈسٹری کے تعاون کے ساتھ متاثرین کی امداد کے لئے 1199 ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سروس کے ذریعے تمام موبائل آپریٹرز کے صارفین FUNDلکھ کر 1199پر ایس ایم ایس بھیج سکیں گے۔ ہر ایس ایم ایس پر 10/-روپے کی کٹوتی ہو گی جبکہ اکٹھی کی گئی رقم کو’’وزیرِ اعظم خصوصی فنڈ برائے متاثرین دہشت گردی‘‘ میں جمع کروا دیا جائے گا۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد 1199 پر ایس ایم ایس بھیج کر ’’وزیرِ اعظم خصوصی فنڈ برائے متاثرین دہشت گردی‘‘ کے لئے مالی معاونت کر سکتے ہیں تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے۔
——————————————————-
SMS Service Started to Collect funds for IDPs
In order to accommodate the Internally Displaced Persons (IDPs) in different areas of Pakistan, the “Prime Minister’s Special Fund for Victims of Terrorism” has been established. Pakistan Telecommunication Authority(PTA), in collaboration with cellular mobile industry, has started the 1199 SMS Service for the welfare of these Internally Displaced Persons. Through this service, subscribers of all mobile operators would send an SMS to 1199 by writing FUND. Each SMS would be charged @ Rs.10/- and the amount thus collected would be deposited in the “Prime Minister’s Special Fund for Victims of Terrorism” for Internally Displaced Persons. It is therefore appealed to people from all walks of life to come forward and contribute to this national cause by sending SMS to 1199 and thus contributing to the “Prime Minister’s Special Fund for Victims of Terrorism” for the Internally Displaced Persons.
زمرہ : معاشرہ, پاکستان | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »
مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Mar 2009
امریکی اخبارنیو یارک ٹائمزمیں اٹھارہ مارچ کو ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح میںطالبان کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
’’امریکی صدرباراک اوباما اور اس کے سلامتی کے مشیر امریکہ کی خفیہ جنگ بلوچستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہے ہیں ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پر دو اعلیٰ سطحی رپورٹس وائٹ ہائوس بھیجی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان رہنما ملا عمر اور دیگر اعلیٰ طالبان قیادت کے کوئٹہ کے اندر اور گردونواح میں روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں لہٰذا خفیہ جنگ ڈرون حملوں کا دائرہ ان علاقوں تک پھیلایا جائے ۔بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیاں بلوچستان کے بعض علاقوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں اس لیے طالبان اور القاعدہ کے ان مشتبہ ٹھکانوں پرجاسوس طیاروں سے حملے ضروری ہیں امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان اورافغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کررہی ہے اس لیے اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر اوران کے ساتھیوں کی سرگرمیاں کوئٹہ کے اردگرد کے علاقوں میں بہت بڑھ گئی ہیں جو مستقبل میں امریکیوں کیلئے خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے باعث طالبان اور القاعدہ کے اہم رہنمائوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو اس بات کا علم ہے کہ اگر میزائل حملے یا کمانڈو ایکشن کیا گیا تو بہت سے بے گناہ شہری ان حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق صدر اوبامہ نے ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن خدشہ ہے کہ وہ ان تجاویز پر عمل کرینگے ۔تاہم امریکی کانگریس کے پندرہ ارکان نے پاکستان پر ڈرون حملوں اور افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے صدر باراک اوبامہ سے فیصلوں پرنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔’’اب تک سی آئی اے کے زیر نگرانی ڈرون حملے صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود تھے اور انہیں اب تک بلوچستان تک وسعت نہیں دی گئی تھی بلوچستان تک ڈرون حملوں کو وسعت دینے کے لیے امریکی انتظامیہ اس لیے بھی ڈرتی ہے کہ چونکہ بلوچستان ایک بندوبستی صوبہ ہے اور وہ براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کے ساتھ شدید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ‘‘
بارک اوباما کے صدر کے عہدے سنبھالنے کے بعد اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پانچ حملے (اندازاً)ہوچکے ہیں ۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سابق صدر بش کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔حکومت تبدیل ہونے کے باوجود اس خطے کےلئے امریکی پالیسیوں میںبھی کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ۔اب ان حملوں کو بلوچستان تک وسعت دینے پر غور ہورہا ہے ۔امریکہ کوئٹہ ،لورالائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین اور قلعہ عبداللہ سمیت ضلع نوشکی و خاران اور چاغی میں بھی اس نوعیت کی کارروائی عمل میں لاسکتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئے ذرائع ابلاغ پر پروپیگنڈہ مہم چلائی جاچکی ہے ۔ لوگوں نے لکھا ہے کہ کوئٹہ میں طالبان کے ٹھکانے موجود ہیں۔ ملکی ذرائع ابلاغ بھی اس کام میں پیش پیش ہے ۔ چند ہفتے قبل ملک کے انگریزی اخبار نے کوئٹہ شہر کے وسط میں واقع ریسٹورنٹ (بیگ سنیک بار ) سے متعلق بے بنیاد رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی دھمکیوں کے بعد ریسٹورنٹ میں خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیاگیا ہے ۔ اس رپورٹ کی خود ریسٹورنٹ کے مالک نے تردید کی تھی۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے بعد کوئٹہ کے عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا ہے کہ وہ حملوں سے قبل ہی نقل مکانی کی سوچ رہے ہیں ۔ دوسری طرف ملک کے بے حس حکمران چین کی بانسری بجاکر سابقہ بے شرمی کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔ وزیر اطلاعا ت (قمر الزماں کائرہ) یہ بیان دے رہے ہیں کہ ’’انہیں امید ہے کہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار بلوچستان تک نہیں بڑھایا جائے گا‘‘۔جبکہ وزارت خارجہ نے رپورٹ کو قیاس آرائی کہہ کر تبصرہ کرنے سے ا نکار کردیا ہے جیسے امریکہ نے پاکستان میں پہلے کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔صوبہ سرحد اورقبائلی علاقوں میں جس دیدہ دلیری سے ڈرون حملے کے ذریعے ملکی سرحدوں کی پامالی اور خود مختاری کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، یہ سب کچھ انہیں نظر نہیں آرہا ۔
اس کے برعکس بلوچستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے امریکی ارادوں کے خلاف بروقت آواز اٹھائی ہے ۔ بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے ۔ اسمبلی اجلاس میں ارکان نے تجویز دی کہ صوبے کی سیاسی جماعتیں اور قبائلی عمائدین کل جماعتی کانفرنس بلاکر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ دنیا پر یہ واضح کیا جاسکے کہ بلوچستان کے عوام کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور صوبے کی تمام بلوچ و پشتون قوم پرست اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھی اس ضمن میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے حملوں کی صورت میں بھر پور مزاحمت کی دھمکی دی ہے۔
محل وقوع کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا بہت اہمیت کا حامل صوبہ ہے جو ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے ۔افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں قندھار ، ہلمند، زابلا ور نمروز کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق بلوچستان میں چار لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور ان کا صرف ایک چوتھائی حصہ بارہ کیمپوں میں رہائش پذیر ہے جبکہ باقی تین لاکھ شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔بلوچستان اور افغانستان کے درمیان زیادہ تر آمدروفت چمن کے سرحدی علاقے سے ہوتی ہے جو خیبر ایجنسی کے بعد دوسر ابڑا اہم زمینی راستہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق چمن سے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد آتے جاتے ہیں جبکہ بارہ سے پندرہ سو تک گاڑیاں بھی نقل و حمل کرتی ہیں۔ پاکستان نے دو سال قبل سیکورٹی کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت کی مانیٹرنگ کے لئے بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا اور سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لئے کمپیوٹرائزڈ راہداری جاری کرنا شروع کردیا تھا جو افغان حکام کی شدید مخالفت کے بعد ختم کردیا گیا گویا سرھدوں کو بند کرنے اور سختی کرنے کے ہر قدم کی افغان حکومت نے مخالفت کی ہے ۔ ان کی آواز میں یہاں کے پشتون قوم پرستوں کی آواز بھی شامل ہوجاتی ہے ۔ غرضیکہ امریکی ممکنہ ڈرون حملوں کی صورت میں وسیع کاروبار کو بھی سخت دھچکا لگے گا ۔
امریکی جاسوس طیارے ڈرون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچستان کے ضلع واشک میں واقع شمسی ایئر پورٹ سے اڑ کر قبائلی علاقوں میں ہدف کو نشانہ بناتی ہیں۔اس کی تصدیق ایک اہم امریکی عہدے دار نے بھی کی تھی ۔ پاکستانی حکام اب تک تو اس کی تردید کررہے ہیں لیکن وقت آنے پر یہ بھی معلوم ہوجائے گا ۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں ڈرون حملوں کے لئے شمسی ایئر پورٹ بہت قریب ہے ،قندھار اور کابل بھی اس مقصد کے لئے چنداں فاصلے پر نہیں ہے ۔شمسی ایئر بیس بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے جنوب مغرب میں تقریباً سو کلو میٹر دور ضلع واشک میں واقع ہے اسے انیس سو چھیاسی میں شیخ زید بن سلطان النہیان نے شکار کی غرض سے تعمیر کیا تھا ۔ ضلع واشک کا علاقہ’’ شمشی‘‘ پہلے ضلع خاران کا حصہ تھا تاہم دو ہزار پانچ میںواشک کو ضلع خاران سے علیحدہ کرکے ا لگ ضلع کا درجہ دیدیا گیا ۔ عرب شیوخ یہ ایئر پورٹ پہلے خاران شہر کے قریب بنانا چاہتے تھے تاہم بلوچ تنظیموں کے احتجاج کے بعد یہ ایئر پورٹ واشک کے علاقے شمشی میں بنایا گیا ۔ ایئر پورٹ پر کام انیس سو نوے میں مکمل ہوا۔ کئی کلو میٹر پر پھیلے ایئر بیس کے مغرب میں تقریباً دو سو کلو میٹر دور ہمسایہ ملک ایران کی سرحد واقع ہے ۔ شمشی ایئر بیس کے ایک جانب ریگستان اور ایک طرف پہاڑی علاقہ ہے اس کے مشرق میں ضلع قلات اور ضلع خضدار جنوب میں جنوب مشرقی ضلع پنجگور اور ضلع آواران جبکہ شمال مغرب میں ضلع خاران اور ضلع چاغی واقع ہے۔ نائن الیون کے بعد شمسی ایئر پورٹ امریکی فوج کو دیدیاگیا اسی دوران ایئر بیس کے رقبے میں مزید اضافہ کردیا گیا اور اس کے ارد گرد باڑ لگائی گئی ۔ شمسی ایئر بیس کے قریب رہنے والے کئی گھروں کو بیس سے دور منتقل کردیا گیا جہاں ان کے لیے نئے گھر تعمیر کئے گئے۔ مقامی افراد کے مطابق شمشی ایئر بیس جسے اب شمسی کہا جاتاہے رات نو بجے سے بارہ بجے تک کسی بھی فرد کو اس ایئر بیس کی حدود یا قریبی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس ایئر پورٹ کے قریب رہنے والے افراد کو اپنے گھروں تک جانے کے لیے بھی پاکستانی سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر مکمل تلاشی اور کوائف کے اندراج کے عمل کے بعد جانے کی اجازت دی جاتی ہے بلکہ کئی دفعہ رات کے اوقات میں وہاں کے مقامی لوگوں کو باڑ کے اندر اپنے گھروں میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اکثر رات کے وقت اور کبھی کبھار دن کے اوقات میں بڑے بڑے جہاز وہاں سے اڑتے اور اترتے نظر آتے ہیں تاہم اس علاقے کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر غلطی سے کوئی چرواہا اس طرف جائے بھی تو اسے کئی دن کی پوچھ گچھ کے بعد رہا کیا جاتاہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ امریکی ڈرون مسلسل حملے کررہے ہیں ۔ ہم اور ہمارے بے بس اوراپاہج حکمران طبقہ دھڑلے سے احتجاج بھی نہیں کرپارہے نہ ہی امریکہ کو ہمارے احتجاج اورخفگی کی کوئی پرواہ ہے ۔ملک کو خطرات لاحق ہیں اگر عوام ججز کی بحالی کے لئے لانگ ماچ کی طرح سڑکوں پر نکل آئیں تو یقینا بے دست و پا حکمران طبقہ حرکت میں آجائے گا اور شاید عوام کے احتجاج اور قوت کے سامنے بے بس ہوکر امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے پر شاید ہو۔
زمرہ : حالات حاضرہ, خبریں, سیاست | 4 تبصرے »
مصنف : zainzf :: بتاریخ 22 Feb 2009
بلوچستان کے تاریخی سبی میلہ کا آغاز (بیس فروری2009ء کو )ضلع سبی * میں ہوگیا ہے جو آئندہ چار روز تک جاری رہے گا۔
سبی میلہ بلوچستان کی ثقافتی اور سماجی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ میلے سے جہاں علاقے کے تہذیب وتمدن کے عکاسی ہوتی ہے وہاں آپس میں میل جول کے مواقع بھی ملتے ہیں۔
اس میلے کا آغاز قدیم زمانوں میں آپس میں مل بیٹھنے،مجموعی علاقائی مسائل کے حل غلہ بانی زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے فروغ کے بنیادی عنصر سے ہوا جس کی ضرورت آج کے جدید دور میں بھی تسلیم کی جارہی ہے ۔

جہاں اس میلے کے دوران علاقائی مسائل اور معاملات پر تمام قبائلی عمائدین مل بیٹھ کر ایک جرگے کی صورت میں غور وخوص کرکے متفقہ رائے سے انہیں حل کرتے تھے وہاں علاقے کے مالدارکسان اور زمیندار اپنی زمینداری اور زراعت کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے تھے، اس کے ساتھ ہی جانوروں کی منڈی اور زرعی و پھلوں کی نمائش بھی کسانوں وزمینداروں کو ایک دوسرے کے زرعی تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے جبکہ دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے تاجروں کےلئے زرعی اجناس، پھل اور جانوروں کی تجارت کےلئے بھی مواقع میسر آتے تھے جس سے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا تھا، آج بھی نہ صرف بلوچستان بلکہ دیگر صوبوں سے آئے ہوئے مالداروں اور زمینداروں کےلئے اپنا مال مویشی اور زرعی اجناس کو متعارف کرانے کےلئے یہ مال ایک اہم منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ثقافتی حوالے سے بھی یہ میلہ صوبے کی زرخیزاور قدیم ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا ذریعہ ہے ۔

میلے کا تاریخی پس منظر
پہلا سبی میلہ 1885ء منعقد ہوا تھا جس کی ابتداء لارڈ رابرٹ سنڈیمن نے کی ۔ رابرٹ سنڈیمن نے علاقے کے تمام معتبرین کو دعوت دی کی وہ سبی میلے کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں شریک ہوں سبی میلہ قدیم برطانوی عہدے کے شاہی دربار اور شاہی جرگہ کی ایک جدید شکل ہے ۔


سبی میلہ بلوچستان کا سب سے بڑا عوامی ثقافتی میلہ ہے ۔پورے پاکستان میں لاہور کے ہارس اینڈ کیٹل شو کے بعد سبی میلہ دوسرے نمبر کا سب سے بڑا میلہ ہے جس میں بلوچستان بھر سے لوگ اورمالدار شریک ہوتے ہیں جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر کے دور افتادہ علاقوں سے اپنے اپنے مال مویشی ساتھ لاتے ہیں جو جانوروں کی اےک بڑی منڈی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مال مویشی کی خریدوفرخت کے نتیجے میں جہاں مالداروں کو معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں خریداروں کو مناسب قیمتوں پر صحت مند مال مویشی کے حصول کے مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔

1885ء میں جب سبی میلہ کی ابتداء ہوئی تو اس کی صدارت اس وقت کے اے جی جی کیا کرتے تھے اور خطے کے تمام نواب، سردار اعلیٰ عہدیدار، ٹکری اور معتبرین مل بیٹھ کر اپنے اپنے جھگڑوں، رنجشوں اور ناچاقیوں کا رسم و رواج اور قبائلی روایا ت کے مطابق تصفیہ کیا کرتے تھے۔

چونکہ سبی کا موسم سردیوں بالخصوص فروری کے مہینے میں نارمل اور خوشگوار ہوتا ہے اس کے علاوہ موسم بہار کی بھی آمد آمد ہوتی ہے اس لئے سبی میلہ بھی روایتاً ان ہی ایا م میں منعقد ہونے لگا۔ جس نے بعد میں ایک مستقل حیثیت اختیا ر کرلی ۔



وقت کے ساتھ ساتھ سبی میلہ مویشیا ں و اسپاں میں مختلف قسم کے پروگرام شامل ہوتے چلے گئے ۔بالخصوص گھوڑوں اور مویشیوں کے شو، زرعی و صنعتی نمائش ، ثقافتی شو، موسیقی کی محفلیں، کھیل کھود، جسمانی کرتب کے مظاہرے مویشیوں کی منڈی ، بلدیا تی کنونشن، بچوں کے لئے رنگا رنگ پروگرام پی ٹی شو جو جدت اختیا ر کرتے کرتے فلاور شو کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔اب یک جہتی شو کے نام سے پکارا جانے لگا ہے اسکے علاوہ کھیل کھود اور تفریح کے مختلف پروگرام میلے کا لازمی حصہ بن چکے ہیں ۔

آزادی کے بعد بھی میلے کے انعقاد کی روایت اسی طرح قائم رہی یہ میلہ پہلے سے بھی زیا دہ زور وشور سے منایا جانے لگا ۔قیا م پاکستان کے بعد فروری 1948بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے شاہی دربار کی صدارت کی ۔

سبی میلہ ہر سال بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اور عموماً صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان اس کی تقاریب میں شرکت کےلئے تشریف لاتے ہیں
(((((اپڈیٹ ))))
اس حوالے سے بی بی سی کی یہ زبردست ویڈیو میری نظروں سے آج گزری۔
————–
( * سبی ، صوبائی دار الحکومت کوئٹہ سے تقریباً150 کلو میٹر فاصلہ پر ہے۔ )
سبی میلہ 24 فروری کو اختتام پزیر ہوگیا۔ میلے میں ہزاروں مویشیوں کی خرید و فروخت کی گئی۔
زمرہ : ثقافت, پاکستان | 29 تبصرے »